One liners – 235

How you pray defines how close you are to God.

[Wasif Ali Wasif]

Waasif’iyaat – 28

سوال: مرنے کے بعد جو خوفناک مناظر ہوں گے ان سے بڑا ڈر لگتا ہے ۔
جواب: میں نے یہ بات آپ کے لئے آسان کر دی تھی کہ مرنے کے بعد کچھ خوفناک نہیں ہے ، اگر ، توبہ کر لیں !

کیونکہ توبہ کر کے مرنے والا جو ہے وہ عافیت میں ہے ۔ توبہ کی بات آپکو بتائی تھی کہ اپنے اللہ سے رجوع رکھنا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے ۔

جب آپ کے مستقبل کا خیال ، ماضی کی زد میں آئے _ تو یہ ، توبہ کا وقت ہے ۔
یعنی جب ماضی کا خیال ، مستقبل کی فلائٹ پر اثرانداز ہونے لگ جائے ، تو یہ وقت ، توبہ کا ہے ۔

مثلاً آپ نے ایک عمدہ پلان بنایا ہے اور بہت شاندار سکیم بنائی اور اگر اس پلان یا سکیم پر کام نہ کریں تو یہ توبہ والی بات ہے ۔

یہ خیال آپکو مستقبل کا منصوبہ نہیں بنانے دیتا ۔

اگر آپ نے ایک نئی شادی کیلئے منصوبہ بنایا تو پرانی شادی اسکی اجازت نہیں دیتی ہے ، یہاں توبہ کرو ،
کیونکہ غلطی ہے اور آپ نے کوئی نیا منصوبہ بنایا اور پچھلے منصوبے جو ہیں وہ اسکو نہیں چلنے دیتے ۔ تو آپ اللہ والے بن گئے اور پیرکامل بننے کے اہل ہیں ۔
توبہ اس لئے ہے کہ زندگی میں آپ نے کئی غلط بیج بوئے ہیں اور توبہ سے انسان ، معصوم بن جاتا ہے ۔

اگر ماضی میں کوئی ایسا عمل سرزد ہوا ہے جس کے نتائج ، مستقبل کو نقصان پہنچاتے ہیں تو ایسے مستقبل کے اندیشے میں ، ماضی یاد آتا ہے ۔ یہ توبہ کا وقت ہے ۔

توبہ کرکے مرنے والے کے لئے کبھی بھی مرنے کے بعد کا منظر خوفناک نہیں ہو گا ۔

جس طرح ، آپ کا آخری سانس ہو گا ویسے ہی آپکی پوزیشن ہو گی ۔
انسان جس خیال میں مرے گا ، اسی میں اُٹھے گا ۔

جس کیفیت میں مرے گا ، اسی کیفیت میں اُٹھے گا ۔
اور جو چیز پڑھتے ہوئے مرے گا ، وہی پڑھتے ہوئے اُٹھے گا ۔

لہٰذا زندگی کو ایک کیفیت دے دو __ تاکہ آپ اس کیفیت میں اُٹھو ،
ورنہ تو ڈرتے ڈرتے مرو گے اور مرتے مرتے ڈرتے جاؤ گے ۔

انسان جب اُٹھے گا تو پوچھا جائے گا کہ تم کتنا عرصہ مرے رہے ہو ، جیسے اصحابِ کہف سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایک دن یا دو دن ۔
ان کو کیا پتہ کہ کتنی مدتیں گزر گئیں ، اور کتنی صدیاں گزر گئیں ۔

اس لئے آپ ایک خیال میں رہو ،
اس لئے سب سے اچھی چیز یہ ہے کہ کلمہ پڑھا جائے ، اور ہر روز کئی دفعہ پڑھتے رہنا چاہئے ۔

ایک دفعہ کلمہ شریف پڑھا جائے تو ، مرنے کا منظر موت کے بعد آسان ہو جائے گا ۔

کلمہ مل کے بھی پڑھنا چاہئے ۔ لہٰذا سب مل کے پڑھو ، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ !

اگر ایک گھر میں رہنے والے بیس آدمی کلمہ پڑھیں تو ، بیس دفعہ کلمہ ہو گیا ۔
اس لئے دعا کرنے والے آدمی بیس ہزار ہو جائیں تو دعا بیس ہزار ہو سکتی ہے ۔

اس لئے آپ کے گھروں کے اندر جہاں مختلف قسم کی آوازیں آتی ہیں ، وہاں اچھی آوازیں بھی آ جانی چاہئیں ۔

کلمے کا اچھا اثر پڑے گا ۔ اس کا اچھا اثر پڑتا ہے ۔
آنے والے لوگوں کے لئے دعا کرو ، اور مرنے والے لوگوں کے لئے دعا کرو ۔

جو آج یہاں آنا چاہتے تھے اور نہ آسکے ، ان کے لئے بھی دعا کرو ، اور اہلِ خانہ کے لئے بھی دعا کرو بلکہ سب کے لئے دعا کرو ۔
سب کو آسانی ہو ، اور مقصدِ حیات دریافت ہو جائے ۔

ہاں ایک بات کا خیال رکھنا کہ مقصدِ حیات جس بےچارے کی استعداد نہیں ہے ،
خدا کیلئے اسے معاف کردو ، اس کو کوئی مقصدِ حیات نہ دینا ۔

جس میں استعداد نہیں ہے ، اسے کوئی مقصدِ حیات نہ دو ۔

بلکہ اسے کہو کہ اپنا وقت آسانی سے گزارے اور محنت کرتا جائے ، اندیشہ نہ کرے _ سب مل جائے گا _ اور پھر وقت پورا ہو جائے گا

Umair’s Tagline – 642

……… ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام تیرا
کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے

Random Thoughts – 141

On whistle-blowing…

It is a pertinent observation as well as a sore question that people in top notches generally do not choose to listen or act upon the recommendations of whistle-blowers. Be it the case of Bradley Manning, Frank Serpico, Karen Silkwood, Daphne Caruana Galizia, Julian Assange or the ‘Spotlight’ team of Boston Globe. 

It is a fact that “most concerned” person on any issue is generally considered to be the one with the maximum stakes involved, and with maximum control. This is translated to another fact that anyone and everyone else, with howsoever degree of sincerity, care, responsibility or apprehension (read worry) more than those who call-the-shots are not taken seriously – at least more than a certain limit.

It is also a fact that how welcoming the world may be towards the whistle-blowers at the onset, they are always confronted on various counts of technical, legal, procedural, social and even national parameters. They are made to be an example, for times to come. The subsequent fate of most of the above mentioned people was far from normal; Bradley Manning (the army soldier who leaked over 500,000 documents to WikiLeaks) was court-martialed. Frank Serpico (a New York City police officer, who confronted the corruption within his department) left the force after being shot in the face during a botched drug raid and later moved out of the country. Karen Silkwood (who ran a campaign to challenge Kerr-McGee about the safety of a nuclear facility) died mysteriously in 1974. Daphne Caruana Galizia (a blogger whose investigations lead to Panama Leaks) was killed in a car bomb near her home. Julian Assange (who founded WikiLeaks in 2006) is a absconder in US justice department’s proceedings, remained trapped in Ecuador’s Embassy in Sweden from August 2012 till 2019, and is currently incarcerated in a prison in England.

Being a whistle-blower entails highest degree of selflessness, courage, dauntlessness and resolve. It demands a mission versus routine, rigours versus comforts and challenges versus solutions. There is a price of courage, and that is exactly why, the most supreme Jihad as told to us by Holy Prophet (PBUH) is to “speak truth / haqq against a tyrant king” (Bukhari). Almost all people know it, most do not truly understand it, few opt it and fewer still persist upon it.

In contrast to all the facts above, it is a reality that the rightful and truthful live forever, for they are not looking up to credit and recognition, but justice and order. Even after some fourteen-hundred years, the legacy of Hazrat Imam Hussain (RA) lights up our darkest days with hope, courage and resilience. With time, comes the realization and understanding of things. In years and decades to come, the above-mentioned whistle blowers would be praised all over the world in the form of feature films, words of gratitude, awards and stories of worthy legacy. After the dust settles down, they will be accepted in true colours of their shades and given the honours worthy of their acts.

Whistle-blowers are few, very few. Difficult situations bring out the best and worst of people. The innate ingredients of character define moral strength, elements of dependability denote trust while attributes of social association reflect the social responsibility. Whistle-blowers are socially responsible individuals who transform the world with a combination of intellect, stress management, motivation and inspiration – in the right direction.

Umair’s Tagline – 641

محبت کے محاذوں پر ، وفا جب خون مانگے تو

غدارِ عشق ہی اکثر _ _ امن کی بات کرتے ہیں