گردوں نے گھڑی عُمر کی اِک اور گھٹا دی

یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے

جب دل میں داغ چمکتے تھے
جب پلکیں شہر کے رستوں میں
اشکوں کا نور لٹاتی تھیں
جب سانسیں اجلے چہروں کی
تن من میں پھول سجاتی تھیں
جب چاند کی رم جھم کرنوں سے
سوچوں میں بھنور پڑ جاتے تھے

جب ایک تلاطم رہتا تھا
اپنے بے انت خیالوں میں
ہر عہد نبھانے کی قسمیں
خط، خون سے لکھنے کی رسمیں
جب عام تھیں ہم دل والوں میں

اب اپنی اجڑی آنکھوں میں
جتنی روشن سی راتیں ہیں،
اس عمر کی سب سوغاتیں ہیں
جس عمر کے خواب خیال ہوئے
وہ پچھلی عمر تھی بیت گئی
وہ عمر بتائے سال ہوئے

اب اپنی دید کے رستے میں
کچھ رنگ ہے گزرے لمحوں کا
کچھ اشکوں کی باراتیں ہیں
کچھ بھولے بسرے چہرے ہیں
کچھ یادوں کی برساتیں ہیں
پچھلے عشق کی باتیں ہیں

(محسن نقوی)

Advertisements

Umair’s Tagline – 569

ہم دونوں کو سچا عشق نہ ہو جائے
یوں کرتے ہیں دونوں صدقہ کرتے ہیں

لوگ تِرے لہجے سے مجھ کو جان گئے
تھوڑا سوچ سمجھ کر بولا کرتے ہیں

کِسی کو قُدرت کِسی کو حسرت کِسی کو قِسمت مِلی ہوئی ہے

93552-Everyone+has+their+own+destiny.jpg

Relatable – 60

بچھڑنے والوں کی بد دعائیں ہماری عمریں بڑھا رہی ہیں
یہ زہر خالص نہیں ہے اس میں کسی کی چاہت ملی ہوئی ہے

Expressions – 106

…….. جانے اس نے اپنی کس کس بات کا صدقہ دینا تھا 
آدھے پاؤں کے نیچے رکھّے , آدھے سر سے وارے لوگ