Eloquence – 17

جو اپنے نفس سے باہر دیکھتا رہتا ہے وہ خواب میں ہوتا ہے اور جو اپنے اندر نظر رکھتا ہے وہ جاگ رہا ہوتا ہے


سِلی

Paulo Coelho’s Reflections – 21

First decide what you would be.
And then do what you have to do, because dreams mean work…

Random Thoughts – 181

مُسافِر حوصلہ رکھنا ، سفر کی حد نہیں ہوتی …… کوئی سرحد نہیں ہوتی

اپنا وطن کِس کو اچھا نہیں لگتا۔ کُچھ  احکام، مقاصد  اور آدرش بہر حال وطن سے زیادہ اہم بھی ہو جاتے ہیں ، جن کے لئے نبیوں نے بھی ہجرتیں کاٹیں۔

بیاہ  رچانے اور دُنیا کمانے کی  ہجرت  کے علاوہ جنہوں نے جانتے، بوجھتے، سمجھتے اور روتے ہوئے وطن چھوڑا ، اُن کے دُکھ کم ہی  جانے، بوجھے، سمجھے اور روئے گئے۔

آج مبشر اکرم کی یہ تحریر پڑھ کر ایک واقعہ یاد آ گیا۔

مُسافِر ایک فوٹو سٹیٹ کی دُکان میں دستاویز ات  کی نقول کروانے  میں مصروف ہے۔ یہ وقت زوال کا ہے ، اور دور آموں کے پھٹنے کا۔

زندگی کی تمام حقیقتیں، سچ اور جھوٹ ، کِسی نہ کِسی مدار میں باہم مِل جاتے ہیں۔ دوکاندار نے مُسافِر کو ایک ایسی ہی  حقیقت کی آگاہی  بخشی۔


‘یہ  رنگین ڈاکیومنٹ کافی بڑا ہے۔اِس کا سائز 24 انچ بائے 36 انچ ہے۔ اِسکی اے فور سائز میں  کاپی  کر وانی ہے؟’

‘بالکل۔  کوشش کرتے ہیں۔  اے فور سائز میں ، بلیک اینڈ وائٹ کاپی  ۔’

‘ آپ ایسا کریں ،  اے فور سائز میں اِس کی رنگین کاپی  کر دیجیئے۔’

‘آپ کہاں  سے آئے ہیں؟’

‘یہیں سے۔ ‘

‘میرا مطلب ہے ، کہاں رہتے ہیں۔ تعلق کہاں سے ہے۔ ؟’

‘یہیں ، قریب میں رہائش ہے۔ کیوں؟’

‘معاف کیجیئے گا۔ میں سمجھا آپ یہاں سے نہیں ،  کِسی باہر کے ملک سے آئے ہیں۔’

‘وہ کیوں؟’

( باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)

آپ یہ  جو  رنگین کاپی کروانا  چاہ  رہے ہیں ، وہ  اِس  وقت بیرون ملک میسر ہے۔ہمارے ہاں  تو ابھی یہ ٹوٹی سڑکیں ،  اُبلتے نالے  اور  گندگی کے ڈھیر   ہیں۔  فی الوقت ہمارے ملک میں  تو بلیک اینڈ وہائٹ ہی میسر ہے۔ ابھی ہماری زندگی کی حقیقت یہی کریہہ مناظر ہیں۔


کُچھ جواب ،  لاجواب نہ ہوتے ہوئے بھی لاجواب کر دیتے ہیں۔

   

Umair’s Tagline – 778

کوئی تصویر تو بھیجو اپنی

چاند چاہے کِسی تاریخ کا ہو

Random Thoughts – 180

عامیوں کی دُعا ، اُمید کا وہ سرچشمہ ہے جو تذبذب ، گمان اور یقین کی تکون سے پھُوٹتا ہے۔

اس کا ایک ہی جُزو ہے۔

تسلیم۔