Soul-Search 239

ذات کا ہو کہ کائنات کا ہو
جتنا اِدراک، اُتنی حیرانی

مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز ، از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز

اچھے اخلاق اور پسندیدہ کاموں کے حصول میں دعا

پروردگارا!آپ غیب سے بھی واقف ہیں اور تمام موجودات پر قادر و توانا۔ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لئے مفید ہے اور مجھے اس وقت موت دے جب خیرو نیکی کو میری موت میں دیکھے۔

خداوند! خوشی و غمی میں اخلاص اور تجھ سے ڈرتے رہنے اور فقر و ثروت مندی سے میانہ روی کی خواستگاہوں اور تجھ سے ایسی نعمت مانگتی ہوں جو ختم نہ ہو۔ اور تم سے ایسی چیز کی طلبگار ہوں جو مجھے خوش کرے اور ختم نہ ہو۔

اے اللہ میں تیری بارگاہ میں دعا کرتی ہوں کہ اس دنیا میں تیری رضا پر راضی رہنے کی توفیق عنایت فرما اور مرنے کے بعد اجھی زندگی عطا فرما اور ملاقات کے شیدائی کو اپنا دیدار نصیب فرما۔ ایسا دیدار جس میں کسی قسم کا رنج و الم نہ ہو۔

اے پروردگارا!ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما اور ہمیں ہدایت دینے والا قرار دے اور صحیح ہدایت کرنے والا قرار دے تاکہ تیری ہدایت ہمارے شامل حال ہو۔ اے دونوں جہاں کے پالنے والے۔


صحیفۂ زہراءؑ

وہ ایسی مشعل ہے جس کی کِرنوں سے آگہی کے اُصول چمکے ، اسی کے دم سے زمانے بھر کی جبیں پہ نامِ رسول چمکے

اللہ سبحانہ کی تسبیح و تقدیس میں

پاک ہے وہ ذات جو صاحب عزت اور سر بلند و سرفراز ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو جلالت اور بزرگی کی مالک ہے۔

پاک ہے وہ ذات جس کی بادشاہی ہمیشہ رہنے والی ہے۔

پاک ہے وہ ہستی جس نے خود کو خوبصورت ترین لباس پہنا رکھا ہے۔

پاک ہے وہ ذات جس نے خود کو نور اور وقار کے ساتھ چھپا رکھا ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو چیونٹی کے قدموں کے نشان سخت پتھر پر دیکھتی ہے۔

پاک ہے وہ ذات گرامی جو ہوا میں تیرنے والے پرندوں کو دیکھتی ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو اس طرح ہے کہ کوئی بھی اس طرح نہیں۔

دوسری روایت میں نقل ہے

پاک ہے وہ ذات جس کی حکومت تمام تر افتخارات کے ساتھ ہمیشہ رہنے والی ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو جلالت و عظمت کی مالک ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو خوبصورتی اور زیبائی کی مالک ہے۔

پاک ہے وہ ہستی جس نے خود کو نور اور وقار کے پردے میں چھپا رکھا ہے۔

پاک ہے وہ ذات گرامی جو چیونٹی کے قدوں کے نشان صاف پتھرپر اور ہوا میں محو پرواز پرندوں کو دیکھتی ہے۔

 ہر مہینے کے تیسرے دن میں تسبیح و تقدیس

پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی قوت و قدرت کے ساتھ جہاں کو منور کیا۔

پاک ہے وہ ذات جو سات آسمانوں میں مخفی ہے اور اس طرف سے کہ کوئی آنکھ اس کو نہیں دیکھ سکتی۔

پاک ہے وہ ذات جس نے بندوں کو موت کے ساتھ ذلیل کیا اور خود کو زندہ جاوید کی صفت سے عزیز و گرامی بنایا۔

پاک ہے وہ ذات جو ہمیشہ زندہ رہے گی اور بقیہ سب کچھ فنا ہوجائے گا۔

پاک ہے وہ ذات جس نے حمد و ستائش کو اپنے ساتھ مخصوص قرار دیا۔ اور اس پر راضی ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو زندہ اور دانا ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو بردباد اور بزرگوار ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو حقیقی بادشاہ اور برائیوں سے مبرا ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو بزرگ و برتر ہے۔

پاک ہے وہ ذات کہ حمد و ستائش اسی کے ساتھ مخصوص ہے۔


صحیفۂ زہراءؑ

Waasif’iyaat – 63

جس خطرے کا وقت سے پہلے احساس ہوجائے، سمجھو کہ وہ ٹل سکتا ہے۔

اے خاصۂ خاصانِ رُسل ﷺ ، وقتِ دُعا ہے

hudikhuwan

دعا درد کے اماوس بھرے آسمان پر سکون کا چاند بن کر نکلتی ہے، دعا دکھوں کے برفیلے پہاڑوں پر چین کا سورج بن کر طلوع ہوتی ہے، دعا اندھیرے راستوں کا جگنو ہے، جنگلوں کا راستہ ہے، سمندروں کے سفر میں سمت کا ستارہ اور امید کا استعارہ ہے، بوجھل اور پژمردہ دلوں کی راحت ہے، دعا طاقت ہے رفعت ہے اور رحمتوں کا زینہ ہے۔ دعا مومن کیلئے اللہ کی بہترین نعمت کی مانند ہے لیکن آج کل ہم اللہ سے دعا مانگتے ہوئے اپنئے اسباب ذیاده مدنظر رکھتے ہیں اور اللہ کی رحمت اور اس کی وسعت کو کم ، اسی لئے دعا کے بعد بھی سکون نہیں ملتا۔

افسوس آج ہماری دعاؤں کو بھی دعا کی ضرورت ہے دعا کا مغز احتیاج ہے اور انسانی فطرت میں محتاجی سب سے طاقتور عنصر ہے ہم ہر حال میں اللہ کے محتاج ہیں اسی لئے دعا سکون بخشتی…

View original post 559 more words