(لیس منا ( ہم میں سے نہیں ہے

ღ کچھ دل سے ღ

لیس منا سے کیا مراد ہے؟

احادیث نبویہ میں ایسی صحیح احادیث کی تعداد 30 کے قریب ہے جہاں جناب رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”لیس منا“ کے الفاظ ارشاد فرمائے ہیں، یعنی ”ہم
میں سے نہیں ہے
“. علمائے کرام نے اس کے مختلف اقوال بیان کیے ہیں لیکن سب
سے افضل اور ارجح قول یہی ہے کہ
ھذہ الافعال والاخلاق ھي التي عليھا الكفار ليس من أفعالنا
یعنی اس کے یہ اعمال اور اخلاقی برائیاں ایسی ہیں جو کفار سے مستعار ہیں
اور امت محمدیہ کے اعمال میں سے نہیں ہیں، کچھ لوگوں نے اس کے معانی یہ
بیان کیے کہ وہ امت محمدیہ سے خارج ہوگیا یا پھر ایمان سے محروم ہو گیا۔ یہ
معنی خوارج نے بیان کیا ہے جبکہ اہل السنہ کے ہاں اس کا معنی یہی ہے کہ
کسی ایمان کے دعویدار…

View original post 991 more words

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s