Memories – 23

جل تھل

 

جمعہ کے بعد، امام صاحب نے نمازِ استسقاء کا اعلان کیا۔

“ابو! یہ  نمازِ استسقاء کیا ہوتی ہے؟”

“بیٹا! یہ اللہ جی سے بارش مانگنے کے لئے پڑھتے ہیں۔ آپکو پتا ہے نا، دو ماہ سے بارش نہیں ہوئ۔ اس لیے ہم سب نماز کے بعد دھوپ میں  یہ نماز پڑھیں گے اور اللہ سے بارش کی دعا کریں گے۔۔”

“میں بھی یہ نماز پڑھ سکتا ہوں؟۔۔”

“جی  بالکل  ۔ پر دھیان رہے، دھوپ سخت تیز ہے۔۔”

بچے نے اکیلے ہی تیز دھوپ میں ننگے فرش پہ دو نفل ادا کئے۔۔

اس کے ساتھ ہی، باپ نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور گھر کی راہ لی۔

کسی نے یاد دلایا کہ نمازِ استسقاء کی صفیں بن رہی ہیں۔۔۔

اس نے جواب دیا، “نماز ادا ہو چکی، دعا قبول ہو گئی۔۔ اب بس تیز بارش آنے کو ہے۔۔۔

 

 گھر پہنچنے تک باپ بیٹا مکمل بھیگ چکے تھے۔

 

Advertisements

4 thoughts on “Memories – 23

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s