Dialogue – 154 ( کسوٹی )

کِسی کے ایمان کو جانچنے کی کسوٹی کیا ہے؟

آپ کِسی کا ایمان کیوں جانچنا چاہتے ہیں؟

پتہ چلنا چاہیئے۔ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی۔

ایمان کا تعلق امانت داری سے ہے۔

کُچھ اور؟

یقیناً۔ پر آپ کیوں اتنی دلچسپی لینا چاہتے ہیں دوسروں کے ایمان میں؟

میں انہیں راہِ راست پر لانا چاہتا ہوں۔ یہ ہم سب کا فرض ہے۔

اسکے لئے ایک کام کریں۔ اپنے علم کو اپنے عمل پہ فوکس کریں۔ انشاء اللہ افاقہ ہو گا۔

پر دوسروں کا ایمان؟ میں نے تو اس کام کو بہت عرق ریزی سے شروع کیا ہے۔ ایک بلاگ بھی بنایا ہے لوگوں کی رہنمائی کے لئے۔

ڈئیر! رہنمائ ہو چکی، اب عمل باقی ہے۔ بس یہی دین ہے۔ آپ جِتنا لوگوں پہ اپنی توجہ لگائیں گے، اُتنے ہی ایشوز ان میں آپکو نظر آئیں گے۔ بہتر یہی ہو گا، کہ آپ اپنے عمل پر توجہ کریں،، ہمارے نبی ﷺ نے دین کی تبلیغ عمل سے کی تھی، لوگوں کے ایمان کی کسوٹیاں بنا کر / جانچ کر نہیں۔

Advertisements

4 thoughts on “Dialogue – 154 ( کسوٹی )

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s