Classics – 63 (… کمال یہ ہے)

خزاں کی رت میں گلاب لہجہ، بنا کے رکھنا کمال یہ ہے

ہوا کی زد پہ دِیا جلانا ، جَلا کے رکھنا، کمال یہ ہے

ذرا سی لغزش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلق زمانے والے

سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے

کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دُکھ بچھڑنے کا بھول جائے

اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا، کمال یہ ہے

خیال اپنا ، مزاج اپنا ،  پسند اپنی ، کمال کیا ہے

جو یار چاہے وہ حال اپنا بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے

کسی کی رہ سے خدا کی خاطر ، اٹھا کے کانٹے ، ہٹا کے پتھر

پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا، کمال یہ ہے

وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی  لڑکھڑائے ، شکست کھائے

لبوں پہ اپنے وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا، کمال یہ ہے

ہزار طاقت ہو، سو دلیلیں ہوں پھر بھی لہجے میں عاجزی سے

ادب کی لذت، دعا کی خوشبو بسا کے رکھنا، کمال یہ ہے

Advertisements

6 thoughts on “Classics – 63 (… کمال یہ ہے)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s