*خچر کی ایس او پی*

تحریر : لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

ایس او پی، سٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجر کا مخفف ہے جس کا مطلب ہے کام کرنے کا عمومی طریقہ کار۔تین حروف پر مبنی یہ لفظ فوج میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ میں سے ایک ہے۔ فوج میں ہر کام قرینے سے کرنے کا رواج ہے۔مطلب یہ کہ ہر کام کے بارے میں کوئی نہ کوئی قاعدہ قانون پہلے سے موجود ہوتا ہے جس پر عمل کرنا فوجی معمول کا حصہ ہوتا ہے۔ کچھ قواعد و ضوابط تو کتابوں میں درج ہوتے ہیں اور کچھ سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری کو منتقل ہوتے رہتے ہیں۔بہرحال کوشش کی جاتی ہے کہ ہر کام کی ایک ایس او پی ضرور لکھی جائے جس میں اس سے متعلق تمام ذیلی امور اور ان کو سر انجام دینے کے لئے مختلف ذمہ داریوں اور اوقات کار کا تعین کیا جاتا ہے۔

ہمیں یاد ہے کہ 1996 میں ہماری یونٹ میں جب پہلی مرتبہ پی ون کمپیوٹر خریدا گیا تو اس کی ایس او پی بنانے کے لئے پورے ایک ماہ تک سوچ بچار کی گئی کہ اس کو کہاں رکھا جائے اور کون ، کب اور کیسے استعمال کرے گا۔ جب ڈرافٹ ایس او پی ٹائپ ہو کر سی او کے سامنے پیش کی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بہت نازک مشین ہے اورآپ لوگوں نے اس کے آرام کا بہت خیال رکھنا ہے۔ ایس او پی میں درج کریں کہ ہر ایک گھنٹہ کام کے بعد اسے ایک گھنٹہ ریسٹ دیا جائے تاکہ اسے مناسب آرام مل سکے ۔ اسی طرح اس پر مختلف قسم کے وائرسز کے حملے کا بھی اندیشہ ہے جس سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ اسے گرد وغبار سے دور رکھا جائے۔مزید برآں کمپیوٹر روم میں باقاعدگی سے فینائل کا سپرے کیا جائے اوراسے استعمال کرنے والے تمام افراد کا میڈیکل ٹیسٹ بھی ہر ماہ پابندی سے کروایا جائے تاکہ ان سے کوئی وائرس اس کمپیوٹر کو منتقل نہ ہو سکے۔ ہم نے ان تمام ہدایات پر مشتمل ایک جامع قسم کی ایس او پی تشکیل دی جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت بابرکت ثابت ہوئی ۔ نہ صرف دور و نزدیک کی اور بہت سی یونٹیں بھی اس سے مستفید ہوئیں بلکہ ان ہدایات پر عمل کرنے کی وجہ سے ہمارا کمپیوٹر جملہ قسم کے وائرسز وغیرہ کے حملوں سے بھی بچا رہا اور اسے ہسپتال داخل کروانے کی نوبت نہیں آئی۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے ہم کشمیر کی ایک پوسٹ پر بحیثیت آبزرور تعینات تھے، ہمارے کمپنی کمانڈر میجر حمید ایک باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے تاہم ایس او پیز پر عمل درآمد کے معاملے میں بہت سخت واقع ہوئے تھے۔ ان دنوں ہمارے پاس پوسٹ پر پانی لانے کے لئے ایک عدد خچر ہوا کرتا تھا۔ ایک پارٹی روزانہ پوسٹ سے نیچے جا کر چشمے سے خچر پر پانی لاتی جو ہم سب استعمال کیا کرتے۔ یہ خچر معمول کے مطابق عسکری خدمات سر انجام دے رہا تھا کہ اچانک ایک دن اس کا پاؤں پھسلا اور وہ پہاڑی سے گر کر اللہ کو پیارا ہو گیا۔کمپنی ہیڈکوارٹر میں اس اندوہناک سانحے کی اطلاع دی گئی۔ میجر حمید نے ہم سے تعزیت کرنے کے بجائے نیا دفتر کھول لیا اور دریافت کیا کہ خچر کی ایس او پی موجود تھی یا نہیں۔ اب اس بات کا ہم نفی کے علاوہ کیا جواب دیتے۔ یہ سن کر انہوں نے فوراً ہمیں خچر کی موت کا ذمہ دار ٹھہرا دیا کہ بغیر ایس او پی کے ہم اس سے کام لیتے رہے۔ اس بات پر انکوائری ہوئی اور ہمیں ایک ہلکی پھلکی وارننگ دے کرآئندہ کے لئے محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا۔ ہمیں بٹالین کی جانب سے نیا خچر فراہم کیا گیا تو ہم نے سب سے پہلے خچر کی ایس اوپی لکھ کر کمپنی کمانڈر اور سی او کو دستخط کے لئے بھجوا دی۔

شومئی قسمت سے وہ دوسرا خچر بھی چند ماہ کے بعد اللہ کو پیارا ہوگیا، لیکن اس مرتبہ ہم سے کسی قسم کی بازپرس نہیں کی گئی کیونکہ خچر ایس او پی کے عین مطابق اپنے فرائض سر انجام دے رہا تھا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s