اُٹھ اوئے

تحریر : لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
فوجی افسرکی زندگی میں ٹریننگ کورسز کا ایک کلیدی کردار ہوتا ہے۔ یہ کورسز مختلف ٹریننگ انسٹیٹیوشنز میں کروائے جاتے ہیں۔ ہر کورس کی اپنی ایک خاص اہمیت ہوتی ہے۔ کچھ تو لازمی ہوتے ہیں اور کچھ اختیاری جبکہ چند ایک کے لئے مقابلے کا امتحان بھی پاس کرنا پڑتا ہے۔ کورس چاہے کوئی بھی ہو، سٹوڈنٹس کا رویہ ایک ہی طرح کا ہوتا ہے اور اس میں رینک وغیرہ کی بھی کوئی تخصیص نہیں ہوتی ۔ کورس کا آغاز تو ہر افسر ٹاپ کرنے کے ارادے سے ہی کرتا ہے لیکن چند دنوں تک (عموماً پہلے پیپرکے بعد) خوامخواہ کا یہ شک کافی حد تک دُور ہو جاتا ہے۔ مزیددو تین پیپروں کے بعد تو اکثر لوگ عزت سادات بچ جانے کی دعائیں کرتے پائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ کورس کے اختتام کے قریب تمام سٹوڈنٹس رنگ برنگی ٹوپیاں اوڑھ کر مسجد کے چکر کاٹتے نظر آتے ہیں۔ تاہم کچھ ولی اللہ قسم کے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پڑھائی وغیرہ کو زیادہ سر پر سوار نہیں کرتے اور شروع سے ہی میس ، کلب، جم ، سپورٹس، سینما وغیرہ کو پورا پورا وقت دینا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں، البتہ کلاسز کے دوران ان پر اکثر مراقبے کی سی حالت طاری رہتی ہے۔ اس قسم کے سٹوڈنٹ کورس کے اختتام پر ’اُٹھتے‘ہیں جب ساتھ والے ان کو کہنی مار کر جگاتے ہیں کہ کورس ختم ہو گیا ہے برائے مہربانی اب آپ اٹھ جائیں۔ ایسے ہی ایک مردِ قلندر ایک روز فرمانے لگے کہ میں جو کچھ بھی کرتا ہوں وہ اللہ کی رضاکے لئے کرتا ہوں، انسٹرکٹر زکی خوشنودی کے لئے نہیں ۔ ہم نے ان کو سمجھایا کہ بھلے آدمی اگر اللہ اور انسٹرکٹر دونوں ہی تم سے راضی ہو جائیں تو اس میں کیا برائی ہے۔ بہرحال اس بات کے اندر جو ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے، وہ ہماری لاکھ کوشش کے باوجود ان کو سمجھ نہیں آسکا۔

کورس شروع ہونے سے قبل ایک سوال ہر افسر سے پوچھا جاتا ہے کہ کورس کی تیاری کر لی ہے یا نہیں۔اکثر اوقات سینئر حضرات بس اتنا پوچھ کرہی اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ البتہ سی او، ٹو آئی سی سے کہیں ملاقات ہو جائے تو وہ کورس کی اہمیت اجاگر کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور افسر کو موٹیویٹ کرنے کے لئے اس کے آئندہ کیرئیر پر اس کورس کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ یونٹ میں ہر کورس کے لئے ایک علیحدہ ’بوری‘ نسل در نسل چلی آتی ہے جس میں اس کورس پر جانے والا افسر اپنے نوٹس وغیرہ جمع کرتا جاتا ہے۔ کورس کے بعد یہ بوری ایڈجوٹنٹ کے پاس جمع کروا دی جاتی ہے۔ جونہی کوئی نیا افسر اس کورس پر جانے لگتا ہے تو ایڈجوٹنٹ نیک تمناؤں کے ساتھ ساتھ وہ بوری بھی اس پر لاد دیتا ہے۔ یونٹ جتنی پرانی ہوتی ہے بوری کا حجم بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ عمروعیار کی اس زنبیل سے کام کی کوئی چیز شاذ و نادر ہی برآمد ہوتی ہے البتہ سرد علاقوں میں اکثر سٹوڈنٹس گیس کی لوڈ شیڈنگ کے دوران ان نادرمخطوطوں کو جلا کر ہاتھ تاپتے نظر آتے ہیں۔

کورس کے پہلے ہی روز ہرافسر کو ٹریننگ لائبریری سے ستر، اسی کے قریب مختلف النوع کتابیں بھی ایشو کر دی جاتی ہیں جن کا مقصد آج تک نہ کسی نے بتایا نہ ہمیں خود سے سمجھ آیا۔ یہ کتابیں ایشو کروا کر کمرے میں لانا بھی ایک علیحدہ مسئلہ بن جاتا ہے ۔ ان کی ایک بڑی سی گٹھڑی بنا کر بیٹ مین کے سر پر لادی جاتی ہے جو بیچارہ بمشکل اسے منزل تک پہنچاتا ہے۔ سمجھ دار لوگ تو ان تمام کتابوں کو صندوق میں بند کر کے تالا لگا دیتے ہیں اور بے فکر ہو کر سو جاتے ہیں۔ پھر بھی کورس کے اختتام پر جب یہ کتابیں واپس جمع کروانے کا وقت آتا ہے تو ان میں سے آٹھ دس کتابیں پڑے پڑے ہی کم ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ بھی آج تک کسی کی سمجھ میں نہیں آئی۔ ہمارے ایک دوست نے اس جھنجھٹ سے بچنے کے لئے ایک کورس کے دوران کتابیں ہی ایشو نہیں کروائیں۔ گریڈ تو ان کا ’سی‘ آیا لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ کورس کے آخری دن جب حشر کا عالم تھا اور سب لوگ اپنی گم ہوجانے والی کتابوں کے بارے میں پریشان تھے، تواس وقت وہ واحد شخص تھے جن کو ذرہ برابر بھی پریشانی لاحق نہ تھی۔ انہوں نے سب سے پہلے کلیئرنس کروانے کے بعد موومنٹ آرڈر لیا اور گھر کی راہ لی۔

کورس کے دوران چائے کا وقفہ یعنی ٹی بریک اکٹھے ہوا کرتی ہے اور اس کے ساتھ پی ایم سے لے کر سٹاف کورس تک ہم نے وہ سلوک ہوتے دیکھا جو کہ قدیم جنگوں کے دوران دشمن پر فتح حاصل کرنے کے بعد مال غنیمت کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ یہ وہ واحد جگہ ہوتی ہے جہاں افسر وں کی جانب سے حربی صلاحیتوں کا بہترین استعمال دیکھنے میں آتا ہے۔فوجوں کے دستے چاروں طرف سے حملہ آور ہوتے ہیں اور آن واحد میں کشتوں کے پشتے لگا دیتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں میدان جنگ میں ٹوٹی پرچ پیالیوں اور اوندھی میز کرسیوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ان معرکوں میں اکثر اوقات وہ جنگجو پیش پیش ہوتے ہیں جن کو کلاس روم میں سونے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہوتا اور وہ اپنی تمام تر توانائیاں اس آدھے گھنٹے کی ایکٹیوٹی کے لئے بچا کر رکھتے ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ اگر ٹی بریک کی پرفارمنس کو بھی فائنل گریڈنگ میں شامل کیا جائے توانتہائی حیران کن نتائج سامنے آئیں گے۔

سٹاف کورس کے دوران ہمارا سِنڈیکیٹ دس افسروں پر مشتمل تھا جس میں ایک عربی افسر بھی شامل تھے۔ موصوف نیوی کے کمانڈر تھے اور انگریزی میں بھی تھوڑی بہت شُد بُد رکھتے تھے۔ پورے کورس کے دوران انہوں نے سونے اور ٹی بریک کرنے کے علاوہ ایک دھیلے کا کام نہیں کیا۔ ایک دن فرمانے لگے کہ مجھے سٹاف کورس کے لئے آسٹریلیا، ملائیشیا اور کینیڈا سے بھی آفر آئی تھی لیکن میں نے سب کو چھوڑ کر پاکستان آنے کو ترجیح دی۔ ان کے اس مومنانہ انکشاف پر ہم کئی روز تک بہت شاداں و فرحاں رہے اور دل ہی دل میں ان کی عظمت کو سلام پیش کرتے رہے۔ ایک دن ذرا یونہی مزید اطمینان قلب کے لئے ہم نے اس اجمال کی تفصیل دریافت فرمائی تو بولے ’’مجھے اونٹ پالنے کا بے حد شوق ہے۔ بلوچستان کے اونٹ بہت اعلیٰ نسل کے ہوتے ہیں۔ میں پاکستان سے وطن واپسی پر ڈگری کے ساتھ ساتھ ایک عدد اونٹ بھی اپنے ہمراہ لے کر جاں گا۔‘‘

سینٹرل کلاس یا لیکچر کے دوران نیند کا آنا ایک لازمی امر ہوتا ہے۔لیکچر سے پہلے سٹوڈنٹس کو سخت وارننگز دی جاتی ہیں کہ سونے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا لیکن نہ جانے کیوں لیکچر شروع ہوتے ہی ہال میں موجود تمام بتیاں گل کرکے انتظامیہ کی جانب سے بذاتِ خودسونے کا بہترین ماحول فراہم کردیا جاتا ہے۔ فیکلٹی کے لوگ عموماً سب سے آگے والی کرسیوں پر بیٹھتے ہیں اور خدا جھوٹ نہ بلوائے ہم نے انہیں بھی اکثر خواب خرگوش کے مزے لیتے ہوئے ہی پایا۔ ایک ایسے ہی لیکچر کے بعد ٹریننگ ایڈجوٹنٹ نے سٹوڈنٹس کی ایک قطار کو کھڑا کر کے خوب بے عزتی فرمائی۔
ایک افسر بولا ’’سر! ہم نے کیا قصور کیاہے، سو تو پورا کورس ر ہا تھا۔‘‘ جواب آیا : ایک تو تم لوگ ایک دوسرے کے کاندھوں پر سر رکھ کر سو رہے تھے اور دوسرا تمہارے خراٹوں کی آواز سپیکر سے بھی زیادہ بلند تھی جس کے باعث باقی لوگوں کی نیند میں خلل پڑ رہا تھا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s