اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

Quotefancy-7743-3840x2160.jpg

Umair’s Tagline – 406

اِدھر آ سِتمگر ….. ہُنر آزمائیں

تُو تیر آزما …. ہم جِگر آزمائیں

Dialogue – 197 (Aslee Waalee , Sachee Waalee…)

کِدھر کھوئے ہوئے ہو! بالکل بھی توجہ نہیں، کسی بھی چیز پر۔

کیا کہا! آپ نے۔

ارے بھئی چھوڑ دو اب رونا دھونا۔ یہ وقت کا ضیاع ہے اور آنسوؤں کا غلط استعمال۔

تُم کیا جانو۔

جی بالکل سرکار، ساری دُنیا میں آپ ہی سب سے زیادہ دِل جلے ہیں ناں۔ اور تو سب جنت میں رہ رہے ہیں۔

وہ بات نہیں ہے۔ پر میرا دِل ٹوٹ گیا ۔ رہ رہ کر خیال آتا ہے، اُس کی باتیں یاد آتی ہیں، وہ سب یادیں۔

وہ سب ایک سراب تھا۔ بھول جاؤ اور آگے بڑھو۔

یاد ہے ، اُس نے کہا تھا ، کہ اُسے مُجھ سے محبت ہے۔ اصلی والی، سچّی والی۔

جی جی۔ سب یاد ہے۔ اور میں نے کیا کہا تھا اُس پر۔ وہ بھی یاد ہی ہو گا۔

تُم تو چُپ ہی رہو۔ بندر کیا جانے ادرک کا مزہ۔

تم جس کیفیت میں ہو، اُسے سادہ انگریزی میں ڈینائل کہتے ہیں، انکاری کیفیت۔

پر ہم ایک دوسرے کو چاہتے تھے۔

ابھی چیک کر لیتے ہیں۔

کیسے! کیسے بھلا۔

پہلے یہ بتاؤ ، تُم دونوں ایک دوسرے کے لئے کیا کر سکتے ہو۔

کُچھ بھی

کُچھ بھی۔ اچھا۔

ہاں۔ کُچھ بھی۔

کیا اُس میں تمہاری نیند کے تمام وقت جاگتے رہنے کی ، تُمہاری خیریت اور توجہ اور حفاظت کی قابلیت تھی! یا نہیں۔ یا تُم میں ، اُس کے لئے۔

نہیں۔ یہ کیا بات ہوئی بھلا۔

بتاتا ہوں۔ اب یہ بتاؤ ، کیا اُسے تُہاری اور تُمہیں اُس کی رگ رگ سے واقفیت تھی! یا نہیں۔

رگ رگ سے تو نہیں، ہاں طبیعت سے تو تھی۔

کیا نیت سے بھی تھی۔

نہیں، یہ تو ممکن ہی نہیں۔

کیا وہ تمہارے لئے ، یا تُم اُس کے لئے جان دے سکتے ہو۔ جان کا مطلب ہے ، جان۔

اب یہ مُشکل سوال ہے۔

کیا وہ تمہیں، یا تُم اُسے ساری زندگی ہر دِن میں کم از کم ایک مرتبہ ، اچھی طرح تیار ہو کر، آدھا گھنٹہ دے سکتے ہو۔ جبکہ تُم پوری دُنیا سے کٹ جاؤ۔

میں اُسے وقت دے سکتا ہوں ، پر ساری لائف ، اور ہر روز۔ شاید یہ کہنا مشکل ہے۔

کیا وہ تمہارے لئے، یا تُم اُسکے لئے ، سال میں کم از کم ایک ہفتہ بھوک اور نفس پر قابو رکھ سکتے ہو۔

یہ بھی بہت مشکل سوال ہے۔

کیا تُم اب بھی اُس سے ، اور وہ تُم سے مُحبت کے رشتے میں ہے۔

ہاں۔

کیا وہ تُمہیں، یا تُم اُس کو ، اپنی سالانہ بچت کا ایک فیصد دے سکتے ہو۔ ہر سال ۔ ساری عُمر۔

تُم ایسے سوال پوچھ رہے ہو ، جن کا جواب مشکل ہے۔

کیا وہ تمہارے لئے ، یا تُم اُس کے لئے ساری دُنیا کو ایک طرف رکھ سکتے ہو۔ تمہاری نوکری ، خاندان ، دوست ، قبیلہ ، وابستگیاں ، کمائی ، اولاد ۔ ہر چیز۔

تُم بہت مُشکل سوال پوچھ رہے ہو۔ یہ مُحبت کے نہیں ، اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے والی باتیں ہیں ۔

بیٹا جی ، یہ مُحبت ہے ۔ اِس میں پانچ بار روزانہ سر جُھکایا جاتا ہے ، سب کُچھ وار دیا جاتا ہے۔ سال میں ایک ماہ بھوک پیاس پر ، نفس پر قابو کی مشق کی جاتی ہے۔ مال و متاع اور اولاد تج دی جاتی ہے۔ خاندان کو سختیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ پر صرف ایک کام نہیں کیا جاتا۔

وہ کیا۔

وہ یہ ، کہ ہر بات پر یہ کہنا ، کہ یہ تو بہت مشکل ہے۔ یہ تو مُحبت نہیں ، اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے والی باتیں ہیں۔

تُم جو باتیں بتا رہے ہو ، وہ تو اسلام کے ارکان ہیں۔ وہ تو فرض ہیں۔ مُحبت اور چیز ہے۔

بس یہی تمہیں سمجھنے میں غلطی لگی۔ وہ فرض ہیں ، مُحبت کے۔ وہ جو تُم کہتے ہو: اصلی والی، سچّی والی مُحبت۔

Facts – 115

Political language… is designed to make lies sound truthful and murder respectable, and to give an appearance of solidity to pure wind.

[George Orwell]

Umair’s Tagline – 405

…… عجب شرطيں لگاتی ہے، محبت کی تجارت بھی

میرے حصے میں لاگت بھی، خسارہ بھی، مشقت بھی

باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تُم کو ، جی میں آتا ہے کہ تعویز بنالیں تُم کو

3060b17e59f3c8a2e2b17724f1180058.jpg

شارٹ فلم

امریکہ کے ایک سینما میں کمرشل فلم سے پہلے ایک شارٹ فلم چلائی گئی۔جو احباب شارٹ فلم سے ناآشنا ہیں‘ ان کے لیے عرض ہے کہ یہ مختصر دورانیے کی فلم ہوتی ہے‘ جس میں ایک بھرپور میسج دیا جاتاہے۔ انٹرنیٹ پر بڑی تعداد میں یہ شارٹ فلمز موجود ہیں ‘جن کا دورانیہ عموماً دس سے پندرہ منٹ ہوتاہے۔پوری دنیا میں ان کے خصوصی میلے منعقد ہوتے ہیں‘ جس میں انعامات بھی دیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسی فلمیں بہت زیادہ بنتی ہیں‘ لیکن صرف انٹرنیٹ پر ہی ملتی ہیں یورپ ‘ امریکہ اور انڈیا میں‘ البتہ اس پر بہت زیادہ کام ہورہا ہے ۔ انڈیا کی شارٹ فلمز میں تو اُ ن کی فلم کے چوٹی کے اداکار بھی دکھائی دیتے ہیں۔شارٹ فلموں کو آپ افسانوی ادب میں شمار کرسکتے ہیں۔ یہ کسی ایک لمحے یا واقعے پر مشتمل ہوتی ہیں ‘جو ایک دفعہ ذہن کی سکرین سے چپک جائے ‘تو پھر آسانی سے نہیں اُترتا۔مختصر ترین وقت میں بہترین میسج کے ساتھ یہ شارٹ فلمز دنیا بھر میں مقبول ہوتی جارہی ہیں۔

ہاں تو شارٹ فلم شروع ہوئی۔یہ واقعہ میرے دوست نے مجھے بتایا ہے‘ جو حال ہی میں امریکہ ہوکر آیا ہے۔اُس نے بتایا کہ سکرین پر ایک منظر تھا ‘جس میں چھت کا پنکھا دکھایا گیا تھا‘ یہ پنکھا پرانے ماڈل کا تھا اور مسلسل چل رہا تھا۔ اس پنکھے کے علاوہ فریم میں اور کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ سینمادیکھنے والے بڑے تجسس سے یہ سین دیکھ رہے تھے‘ اُنہیں یقین تھا کہ ابھی کچھ دیر میں منظر بدلے گا اور کچھ ایسا دیکھنے کو ملے گا‘ جو سیدھا اُن کے دل پر اثر کرے گا‘ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا…دو منٹ گزر گئے اور صرف پنکھا ہی چلتا دکھائی دیتا رہا۔ سینما ہال میں موجود کئی حاضرین نے انگڑائیاں لینا شروع کر دیں۔یوں لگ رہا تھا جیسے سب کو یقین ہوچکا ہے کہ شارٹ فلم میں اُ ن کے دیکھنے لائق کچھ نہیں۔شائقین توقع کررہے تھے کہ شاید آگے چل کر کچھ واقعی دیکھنے لائق نظر آجائے…!!!

پانچ منٹ بعد بھی سین نہیں بدلا۔ بیزار طبع لوگوں نے پاپ کارن کے پیکٹ کھول لیے۔ فلم کے آغاز میں جو سکوت طاری تھا‘ وہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا تھا۔لوگوں کی توجہ بھی سکرین پر مرکوز نہیں رہی تھی‘جن کے پاس پاپ کارن نہیں تھے انہوں نے موبائل نکال لیے تھے اور وقت گذاری کے لیے سوشل میڈیا کھول لیا تھا‘تاہم سب لوگ وقفے وقفے سے ایک نظر سینما سکرین پر بھی ڈال لیتے تھے‘ لیکن وہاں وہی منظر تھا…چھت پر چلتا ہوا پرانے ماڈل کا پنکھا…!!!

چھٹا منٹ شروع ہوا تو دبی دبی سرگوشیاں شروع ہوگئیں کہ کتنی بورنگ ہے ‘یہ شارٹ فلم۔ ایک صاحب نے تبصرہ کیا کہ یقینا یہ کوئی آرٹ کی نئی قسم ہے‘ کیونکہ اکثر بور ترین چیز کو آرٹ کا نام دے دیا جاتاہے۔ ایک اور آواز آئی ”ہوسکتا ہے فلم کے آخر میں یہ بتایا جائے کہ پنکھا بھی ہمارے سانس کی طرح ہے ‘جو چلتا جارہا ہے‘ لیکن جب کوئی بٹن دباتا ہے‘ تو یہ بند ہوجاتاہے…اور اگر واقعی یہی اختتام ہوا تو میں لعنت بھیجوں گا‘ ایسی بورنگ شارٹ فلم بنانے پر۔‘‘ ایک رائے آئی”یہ فلم اس لیے دکھائی جارہی ہے ‘تاکہ جب کمرشل فلم شروع ہو تو وہ ہمیں زیادہ اچھی لگے…‘‘ یہ بات سن کر کئی لوگ قہقہے لگانے لگے ۔ ایک موٹے امریکی نے تو باقاعدہ اپنی سیٹ سے اُٹھ کر کہہ بھی دیا کہ یہ شارٹ فلم نہیں‘ بلکہ ہمارے صبر کا امتحان ہے۔پچھلی سیٹوں پر بیٹھی ایک خاتون کی بھی آواز آئی کہ ”پنکھا بند کردیا جائے‘ بلاوجہ سردی محسوس ہورہی ہے۔‘‘ اُسی کی ایک ساتھی کی آواز گونجی ”ہاں! اور ساتھ ہی یہ شارٹ فلم بنانے کو بھی بند کر دیا جائے‘‘۔

ہوتے ہوتے دسواں منٹ سٹارٹ ہوگیا۔ شارٹ فلم کے آغاز میں ہی بتایا گیا تھا کہ اس کا دورانیہ 10 منٹ ہے‘ لیکن اب تو دسواں منٹ شروع ہوگیا تھا اور سکرین پر صرف چھت والا پنکھا چلتا دکھائی دے رہا تھا۔آخر محض ایک چلتے ہوئے پنکھے کو فلم دیکھنے والے کتنی دیر تک برداشت کر سکتے ہیں۔ہال میں اب لوگوں کے ہنسنے کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔کئی لوگ طنزیہ جملے بھی کسنا شروع ہوگئے

اتنے میں اچانک شارٹ فلم کا منظر بدلا اور کیمرہ دھیرے سے گھومتا ہوا پنکھے کے بالکل الٹی سمت میں حرکت کرگیا۔ اب سکرین پر ایک بیڈ نظر آرہا تھا‘ جس پرایک شخص ساکت لیٹا ہوا چھت کے پنکھے کو خالی نظروں سے دیکھے جارہا تھا۔ منظر بدلتے ہی سینما ہال میں موجود لوگ بھی چونک گئے۔ سرگوشیاں بند ہوگئیں اور نظریں سکرین پر جم گئیں۔ دس منٹ ختم ہونے میں پندرہ سیکنڈ باقی تھے…تبھی سینما ہال میں ایک آواز گونجی…”یہ شخص ہلنے جلنے سے قاصر ہے ‘جس منظر کو آپ دس منٹ نہیں دیکھ سکے‘ اُسے یہ شخص دس سال سے مسلسل اسی طرح دیکھ رہا ہے‘‘۔…ایک لمحے کے لیے ہر طرف خاموشی چھا گئی …اور پھرپورا ہال تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔

ایسے لوگ ہمارے ہاں بھی موجود ہیں‘ جو آزادی کے اس مفہوم سے ناآشنا ہیں۔کوئی آزادی سے اُٹھ نہیں سکتا‘ کسی کے پائوں بیماری نے جکڑرکھے ہیں۔کوئی آوازیں سننے سے قاصر ہے اور کسی کے نصیب میں برستی بارش دیکھنا نہیں۔ کوئی آزادی سے ہر چیز کھانے کا رسک نہیں لے سکتا۔کسی کی سانس آکسیجن سلنڈر کی محتاج بن کر رہ گئی ہے‘کوئی ہاتھ بڑھا کر پانی کا گلاس خود نہیں پی سکتا اور کسی کے لیے خواب آور گولیوں کے بغیر سونا ممکن نہیں۔ایسے لوگ تقریباً ہر گھر میں موجود ہیں۔ ماں کی شکل میں‘ باپ کی شکل میں یا کسی قریبی عزیز کی شکل میں۔یہ آزادی سے جشن ِآزادی بھی نہیں منا سکتے۔انہیں روزانہ دس منٹ ایسے ضرور دیجئے‘ جس میں آپ کی برداشت جواب نہ دے…!!!

منقول

One liners – 160

People who are brutally honest get more satisfaction out of the brutality than out of the honesty.

[Richard J Needham]

اِک لفظ تیری شان کے قابل نہ بن سکا ، ہر زاویے سے ذہن میں آئے گئے حروف ﷺ

91DjiaUpO+L._SY606_.jpg

جس نے سیکھا ہی نہیں زہر کو امرت کرنا ، خاک آئے گا بھلا اس کو محبت کرنا

727ef111fdf2515c79b6bb17fa105e55.jpg

فنا کی راہ پر کوئی دوبارہ جا نہیں سکتا ، گُزرتا پَل کبھی پِھر سے گزارا جا نہیں سکتا

Wish.png

لہو پُکارے گا آستیں کا

جبر اور مجبوری سامنے آجائیں تو کیسے منظر بنتے ہیں۔


http://www.humsub.com.pk/183920/usman-jamai-13/

ایدا ککھ نہ روے

میں سرکاری ہسپتال میں اپنی بیٹی کے کچھ ٹیسٹ کروانے کیلیئے گیا ہوا تھا۔ فرصت ملنے پر وہیں بنی ہوئی ٹک شاپ سے اپنی بیٹی کیلیئے برگر اور جوس خریدا جو اس نے مزے سے وہیں کھڑے کھڑے کھانا پینا شروع کر دیا۔

اتنی دیر میں میری نظر بنچ پر بیٹھے ایک بچے پر پڑی جو میری بیٹی کو برگر کھاتے بڑی حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے انسانی ہمدردی میں جلدی سے جا کر اس بچے کیلیئے بھی برگر اور جوس خریدا جو بچے نے بلا توقف کھانا پینا شروع کر دیا۔

اتنی دیر میں بچے کی ماں جو اس کی پرچی بنوانے کیلیئے کھڑکی پر گئی ہوئی تھی واپس آئی، بچے کو برگر کھاتے دیکھا تو دونوں ہاتھ اٹھا کر، باقاعدہ منہ قبلہ رخ کر کے، اسے بد دعائیں دینے لگی جس نے اس کے بچے کو یہ چیزیں لیکر دی تھیں۔ کہہ تو وہ بہت کچھ رہی مگر میں نے اپنی بچی کو اُٹھا کر وہاں سے فرار ہوتے ہوئے جو چند باتیں سنیں وہ یہ تھیں کہ:

ایدا ککھ نہ روے جنے میرے بچے نوں ایہہ برگر لے کے دتا اے۔ میں اتنی دور سے کرایہ بھاڑا لگا کر اس کے نہار منہ ٹیسٹ کرانے لائی تھی اور اس بے شرم نے اس کے ساتھ ظلم کر دیا ہے۔😂😂

— منقول….

“Men’s eyes are in their heads; women’s, in their hearts…” [Ivan Panin]

خاتونِ خانہ پریشان تھیں۔ رات کو گھر میں دعوت تھی۔ پیزا بنانا چاہ رہی تھیں۔ سارا سامان لے آئی تھیں لیکن مشرومز لانا بھول گئی تھیں۔ رہتی بھی شہر سے دور تھیں۔ قریب کی مارکیٹ میں مشرومز دستیاب بھی نہ تھے۔

صاحب کو مسئلہ بیان کیا تو ٹی وی سے نظریں ہٹائے بغیر بولے؛
” میں شہر نہیں جارہا۔ اگر مشرومز نہیں ڈلے تو پیزا بن جائے گا۔ اور اگر نہیں گزارا ہوتا تو پچھلی طرف جھاڑیوں میں آگے ہوئے ہیں جنگلی مشرومز توڑ لو”۔

خاتونِ خانہ نے فرمایا کہ میں نے سنا ہے جنگلی مشرومز زہریلے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو فوڈ پوائزننگ ہو گئی تو؟؟؟”

صاحب بولے؛
دعوت میں سارے شادی شدہ آرہے ہیں۔ زیریلی باتیں سننے کے عادی ہیں۔ زہریلے مشرومز بھی ان پہ اثر نہیں کریں گے۔

خاتون گئیں اور جنگلی مشرومز توڑ لائیں۔ مگر چونکہ خاتون تھیں اس لیے دماغ استعمال کیا اور کچھ مشرومز پہلے اپنے کتے “موتی” کو ڈال دیئے۔ موتی نے مشرومز کھائے اور مزے سے مست کھیلتا رہا۔ چار پانچ گھنٹے بعد خاتون نے پیزا بنانا شروع کیا اور اچھی طرح سے دھو کر مشرومز پیزا اور سلاد میں ڈال دیئے۔

دعوت شاندار رہی۔ مہمانوں کو کھانا بے حد پسند آیا۔ خاتونِ خانہ کچن میں برتن سمیٹنے کے بعد مہمانوں کے لیے کافی بنا رہی تھیں تو اچانک ان کی بیٹی کچن میں داخل ہوئی اور کہا؛
” امی ہمارا موتی مر گیا”۔

خاتون کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی۔ مگر چونکہ خاتون سمجھدار تھیں اس لیے panic نہیں ہوئیں۔ جلدی سے ہسپتال فون کیا اور ڈاکٹر سے بات کی۔ ڈاکٹر نے کہا؛
چونکہ کھانا ابھی ہی کھایا گیا ہے اس لیے بچت ہوجائے گی۔ تمام لوگ جنہوں نے مشرومز کھائے ہیں ان کو انیمیا دینا پڑے گا اور معدہ صاف کرنا پڑے گا۔

تھوڑی ہی دیر میں میڈیکل اسٹاف پہنچ گیا۔ سب لوگوں کا معدہ صاف کیا گیا۔

رات تین بجے جب میڈیکل اسٹاف رخصت ہوا تو سارے مہمان لیونگ روم میں آڑے ترچھے بےدم پڑے ہوئے تھے۔

اتنے میں خاتون کی بیٹی، جس نے مشرومز نہیں کھائے تھے اور اس ساری اذیت سے بچی ہوئی تھی، سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ماں کے پاس بیٹھ گئی۔ ماں کے کاندھے پہ سر رکھ کر بولی؛

” امی لوگ کتنے ظالم ہوتے ہیں۔ جس ڈرائیور نے اپنی گاڑی کے نیچے موتی کو کچل کر مار ڈالا وہ ایک سیکنڈ کے لیے رکا بھی نہیں۔ اُف کتنا پتھر دل آدمی تھا۔ ہائے میرا موتی”۔

تو ڈئیر خواتین ! آپ خود کو کتنا بھی ذہین، سمجھدار، معاملہ فہم اور ہوشیار سمجھیں، پوری بات سن لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔۔ 😆😆

Beautiful Pakistan – Nanga Parbat, viewed from Fairy Meadows

58679546059ad.jpg

Pic by Mubashir Jadoon

Expressions – 89

آئین وفا اتنا بھی سادہ نہیں ہوتا

ہر بار مسرت کا اعادہ نہیں ہوتا

یہ کیسی صداقت ہے کہ پردوں میں چھپی ہے

اخلاص کا تو کوئی لبادہ نہیں ہوتا

جنگل ہو کہ صحرا کہیں رکنا ہی پڑے گا

اب مجھ سے سفر اور زیادہ نہیں ہوتا

اک آنچ کی پہلے بھی کسر رہتی رہی ہے

کیوں ساتواں در مجھ پہ کشادہ نہیں ہوتا

سچ بات مرے منہ سے نکل جاتی ہے اکثر

ہر چند مرا ایسا ارادہ نہیں ہوتا

اے حرف ثنا سحر مسلم ترا تجھ سے

بڑھ کر تو کوئی ساغر بادہ نہیں ہوتا

افسانۂ افسون جوانی کے علاوہ

کس بات کا دنیا میں اعادہ نہیں ہوتا

سورج کی رفاقت میں چمک اٹھتا ہے چہرہ

شبنمؔ کی طرح سے کوئی سادہ نہیں ہوتا

 

[Shabnam Shakeel]

Rays of Hope – 4 (Khana Ghar, Karachi)

http://www.khanaghar.org/


In 2002 Parveen Saeed, a resident of Surjani Town, heard news of a woman who had murdered her two children because she was unable to feed them, and could not bear to watch them slowly starve to death. Parveen thought that surely there is enough food in Pakistan that no one need go hungry, so she started Khana Ghar, a small dhaba in Khuda Ki Basti in Karachi, where she provides a full meal (one roti and saalan) to any one who wants to eat for only 3 rupees.

Previously Parveen had been funding the Khana Ghar herself, and with whatever sporadic donations she could get. The objective of this group is to organise a regular source of funding, so that the Khana Ghar can operate without having to struggle to obtain supplies. Around 300 people eat at Khana Ghar in Khuda Ki Basti daily, and the cost of the operations comes to about Rs 4,000 a day. If we all give Rs 1,000 a month, Khana Ghar could run independently of one-off donors, and Parveen Saeed can look into opening other establishments in equally needy areas.

Thanks to the regular contributions of donors since August 2008, Parveen Saeed was able to open another Khana Ghar in February 2009, doubling the number of people who eat at least one square meal a day. We need to keep these regular contributions continuing, and increasing, so that Khana Ghar can expand to cater to more people.

 

 

 

Gratitude – 13

‘Fear is a line in your head. You have to cross it.’

[Sabeen Mahmud]

 

Allah bless your soul. Aameen.

#PeaceNiche

#T2F

One liners – 159

عشق کسی بھی چیز کا ہو اسے سمجھا نہیں جاسکتا ۔

بس اس میں جیا جاتا ہے ۔ سمجھنے سمجھانے والی چیزیں عقل والوں کے پاس ہوتی ہیں اور اگر عقل والوں کو بھی عشق ہو جائے تو وہ عقل مند نہیں رہتے

جدوں عشق دے اوکھے رستے تے اکھاں مِیٹ کے پیر ودھا لئیے ،، فیر سڑدی ریت دا کی رونا فیر تھل دا شکوہ کی کرنا

Quotefancy-122078-3840x2160.jpg

Umair’s Tagline – 404

یہ جو پانی میں چلا آیا سُنہری سا غرور

! ! اُس نے دریا میں کہیں پاؤں اُتارا ہو گا

Umair’s Tagline – 403

جانے کس غم کا استخارہ ہے

تتلیاں مر رہی ہیں خوابوں میں

Lookers, Listeners, Talkers and Touchers….

Lookers

These people process information in pictures and images. You can tell by reading their body language. Lookers generally dress well and decorate their surroundings for appearance. Their shoulders are usually a little raised and tight. They also have thin lips. In addition, Lookers have a furrowed brow — because people tend to look up and to the right when they remember something they have seen.

To build rapport with Lookers, give them plenty of eye contact. They believe if you aren’t looking at them, you aren’t seeing them. They often use words with a visual component, so you should, too: “I see what you mean.” “Picture this.” “Here’s what I envision.”

Listeners

These people think in words and sounds. They don’t give you much eye contact. Instead, they generally have their heads turned down and to the left — because that’s the posture people have when they remember something they have heard. This naturally points their right ear at you, so they can hear you. In addition, listeners can move their lips when they read, or speak quietly to themselves — because it helps to speak their thoughts.

To connect with Listeners, don’t give them too much eye contact — it makes them uncomfortable (just ask that controller!). Look at them, and then look away — when speaking or listening. Here, too, use words that appeal to them: “Tell me your opinion.” “I hear what you’re saying.” “That sounds good to me.”

Touchers

These people process information tactility and through feelings. They dress for comfort, not style, and have a much more relaxed stance than Lookers. They also frequently look down and to the right — because that’s the posture people have when remembering something they have felt. As Touchers, these people enjoy physical contact, are big on hugs, and need very little personal space in a conversation.

For rapport, feel free to reach out and touch a Toucher’s shoulder or arm when emphasizing a point — but only if you feel comfortable doing this. If you’re not a Toucher, do your best to avoid stiffening up if they touch you. And use language that appeals to them: “I feel your pain.” “Let’s get in touch.” “I want to get a handle on the situation.”

Talkers

Those who prefer to analyse a situation using logic and rationale. These people think in words as if using a voice inside their heads.

For them, a solid explanation will usually do. Just make sure you tell them why something needs to be done, or why it works. That little nugget of info is probably the most important part of the conversation for them.
Start watching people — and paying attention to the words they use when speaking or writing. You’ll begin to figure out how they think. And this will help you make better choices on how to connect with them.

 

Links:
http://www.yourwordsmith.com/read-their-bodies-connect-with-their-minds/
https://medium.com/the-coffeelicious/are-you-a-looker-a-listener-a-talker-or-a-toucher-bdb785c0dbfe

یہ کیا شبنم کا قطرہ کہہ گیا ہے ۔۔۔ سمندر تلملا کر رہ گیا ہے

سانس کا خراج یہ ہے کہ اسے اس طرح خرچ کیا جائے کہ اس دنیا کے حسن میں کچھ اضافہ ہو سکے جس میں ہمیں جینے کا موقع ملا۔ ہم سے پہلے اس دنیا میں گزرنے والوں کی سعی سے ہماری منزلیں سہل ہو گئیں۔ بس ہمیں اسی طرح حسب توفیق خوبصورتی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا آنے والوں کی نذر کرنا ہے۔ کوئی تصویر، کوئی گیت، کوئی خیال، ایک مجسمہ، ایک کتاب، ناانصافی کی خلاف ایک آواز، ظلم کی مزاحمت میں ایک حرف انکار۔ قانون کی کتاب میں ایزاد کیا ایک اصول، پارلیمنٹ میں پیش کیا ہوا ایک مسودہ قانون، کسی رسم کہن سے انحراف۔ گوتم بدھ نے دکھ کا پہاڑ دیکھا اور ہمیں دکھانا چاہا۔ مائیکل اینجلو نے ہتھوڑے کی مسلسل ضرب سے اس چٹان کے کچھ فالتو ٹکڑے اڑا کے رکھ دیے۔ بے معنویت کے بدہیئت تودے سے کچھ جیتے جاگتے خوبصورت مجسمے برآمد کئے۔ بس ایک اکیلی زندگی میں یہی ممکن ہے اور اس سے بہتر ممکن ہی نہیں۔ موسیقار خاموشی کے خلا سے گیت کا سر پیدا کرتا ہے۔ صحافی بے خبری کے تالاب میں خبر کا پتھر پھینکتا ہے۔ استاد سوال کرنا سکھاتا ہے۔ مصور کورے کاغذ پر لکیر کا پیچ و خم ثبت کرتا ہے۔ سیاسی کارکن تاریخ کا تضاد واضح کرتا ہے۔

وجاہت مسعود

Expressions – 88

شاید کہ ایسا وقت ہو ترتیبِ وقت میں

دستک کو تیرا ہاتھ اُٹھے، میرا دَر نہ ہو

Rays of Hope – 3 (FAiTh)

https://blogs.tribune.com.pk/author/31/ayesha-mehmood/

http://www.ayesha.thalassemia.com.pk/tag/faith/

 


 

Simply put, Ayesha is a warrior against Thalassemia…

FAiTh stands for “Fight Against Thalassemia”…..and is literally so.

*لفٹین کا بِل*

تحریر : لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

یہ1997 کا ذکر ہے جب اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل جہانگیر کرامت پشاور تشریف لائے۔ گیریژن آڈیٹوریم میں تمام آفیسرز سے ان کے خطاب کا اہتمام کیا گیا۔ ہمارے قریب ہی چند نشستوں کے فاصلے پر لیفٹیننٹ شفیق براجمان تھے۔ موصوف ہم سے ایک سال سینئر تھے اور ایک انتہائی باغ و بہار شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ خطاب مکمل ہوا اور آفیسرز کو سوالات کی دعوت دی گئی۔ ہم اپنے دھیان میں مگن تھے کہ اچانک ’’السلام علیکم سر!آئی ایم لیفٹیننٹ شفیق‘‘ کی آواز سن کر ہمارا ماتھا ٹھنکا۔ دیکھا تو سر شفیق مائیک سنبھال چکے تھے۔ اب وہ بول رہے تھے اور پورا گیریژن سن رہا تھا۔ سر شفیق چیف آف آرمی سٹاف سے براہ راست مخاطب تھے اور کہہ رہے تھے’’سر میں آپ کی توجہ ایک نہایت اہم مسئلے کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ اس ماہ مجھے میرے کمرے کا بجلی کا بل چار ہزار روپے موصول ہوا ہے جبکہ میں حال ہی میں ایک مہینہ چھٹی گزار کر واپس لوٹا ہوں۔آپ ہی بتائیں میری غیر موجودگی میں ایسا کیسے ممکن ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایم ای ایس کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ میں نے اس بارے میں یونٹ سے لے کر ڈیو ہیڈکوارٹرز تک سب کو کہہ کر دیکھ لیا ہے، لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اب آپ ہی اس مسئلے کا کوئی حل نکالیں۔‘‘ چیف آف آرمی سٹاف نے ساری بات سننے کے بعد کور کمانڈر کو کہا کہ آفیسر کا مسئلہ حل کریں۔ ہم نے غور سے دیکھا تو جی او سی اور کمانڈر آرٹلری کے چہروں پر ہوائیاں اڑتی نظر آئیں جبکہ سی او نے تو اپنا سر باقاعدہ دونوں ہاتھوں سے تھام لیا تھا۔ یہ کارنامہ سرانجام دینے کے بعد سر شفیق کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی گویا کوئی قلعہ فتح کر لیا ہو۔ لیکن ان کی یہ خوشی زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوئی۔ اس دن کے بعد سے یہ معمول ہو گیا کہ سر شفیق دن کا آغاز علی الصبح ڈیو ہیڈکوارٹر زمیں رپورٹ کر کے کیا کرتے۔ وہاں ان کو اس بات پر لیکچر دیا جاتا کہ ان میں عقل اور سمجھ کی شدید کمی ہے اور انہیں اتنا بھی نہیں معلوم کہ کیا بات، کس سے، کب اور کہاں کرنی ہے۔ یہ سلسلہ لگاتاردو ہفتوں تک جاری رہا اور اس دوران سرشفیق کی حالت دیوانوں جیسی ہو گئی۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان کا مسئلہ بھی جوں کا توں رہا یعنی انہیں چارو ناچارمذکورہ بل ادا کرتے ہی بنی۔ ایک فرق البتہ ہم سب نے محسوس کیا کہ اگلے ماہ سے ان کے بل سو ڈیڑھ سو کی رینج میں آنا شروع ہو گئے۔ ہم نے اس خوشگوار تبدیلی کی وجہ جاننے کی بہتیری کوشش کی لیکن ہماری لاکھ کوشش کے باوجود سر شفیق نے راز سے کبھی پردہ نہیں اُٹھنے دیا۔ تھک ہار کر ہم نے اندازہ لگایا کہ ہو نہ ہو چیف آف آرمی سٹاف نے سر شفیق کے بلوں کے بارے میں ضرور کوئی خاص ہدایات جاری کر دی ہوں گی جس بنا پر بلوں میں اتنی زبردست کمی واقع ہو گئی تھی۔ بہت سالوں کے بعد ملاقات ہوئی تو سر شفیق نے بتایا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ دراصل بلوں میں کمی لانے کے لئے انہوں نے ایم ای ایس کے بلنگ سیکشن میں اپنا کوئی گرائیں ڈھونڈ لیا تھا۔

Expressions – 87

ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺑﮭﻼﻧﮯ ﮐﯽ

ﺷﻌﻮﺭﯼ ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﮐﺮ ﮐﮯ

ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ

ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﮐﺮ ﮐﮯ

ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺗﮭﮏ گیا ﮨﻮﮞ ﺍﺏ

ﺍﺩﮬﻮﺭﯼ ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﮐﺮ ﮐﮯ

تبصرہ کرتے ہیں کیا اہلِ تفکر اس پر، صبر کے پھل کا اگر ذائقہ کڑوا نکلے

suffering_quote_2.jpg

One liners – 158

Family reunions is that time when you come face to face with your family tree, and you realize some branches need to be cut.

[Rene Hicks – American comedian]