Dialogue – 198 (Attitude……thy name is “Adab”)

السلام ُ علیکُم

وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ۔ خوش آمدید سر۔

بہت شُکریہ۔ آپ کو دیکھ کر آپ کے اساتذہ یاد آتے ہیں۔

کیا آپ اُنہیں جانتے ہیں؟

مِلا کبھی نہیں۔ پر جانتا تو ضرور ہوں۔

کیسے، سر؟

آپ کو دیکھ کر۔ پھل کو دیکھ کر درخت ذہن میں آتا ہے ناں۔

ارے واہ۔ یہ دلچسپ بات ہے۔

اس سے بھی دلچسپ بات ہے ایک۔

وہ کیا، سر؟

اُستاد سے زیادہ شاگرد اہم ہوتا ہے۔

یہ کیسے ، سر؟

ادب کی وجہ سے۔ سیکھنے کا سب سے پہلا قدم ادب ہے۔ ایٹی چیوڈ۔ یہی دو انسانوں کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہی انسان کی تقدیر بناتا ہے۔

شاید اسی لئے کہتے ہیں، با ادب ، با نصیب۔

بالکل۔

پر ایک بات سمجھ نہیں آئی سر۔

پوچھو۔

آپ نے کہا، اُستاد سے زیادہ اہم شاگرد ہے۔ اس کی وضاحت فرما دیں؟

دیکھو۔ اگر برتن اُلٹا پڑا ہو، تو بھلے پانی کِتنا ہی اُس پر گِرے ، پانی کا منبع کِتنا ہی اُس کے ڈائریکٹ اوپر ہو، برتن بھرے گا بالکل نہیں۔

جی۔

ایسے ہی، ادب یا سِمت کُچھ حاصل کرنے کرنے کے لئے ناگزیر ہے، اچھے اُستاد سب سے پہلے سمت گری کرتے ہیں۔ اور اچھے شاگرد ادب والے ہوا کرتے ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s