Dialogue – 200 ( مٹّی )

The 200th dialogue is dedicated to Linta Noor………  Linta means: نرم خو


زندہ ہونے کا پتہ دیتی ہے نرمی ورنہ

بعد مرنے کے تو سب جسم اکڑجاتے ہیں


انسان کی سمجھ نہیں آتی۔ ایک طرف اِتنا شعور ، اور دوسری طرف اتنی جہالت۔

کیا ہو گیا! یہ مشاہدے ، یہ طرزِ تخاطب۔ کُچھ شکوہ شکوہ سا لگ رہا ہے۔

میں دراصل ایک ریسرچ کے نتائج دیکھ رہا تھا۔ میری ماسٹرز ڈگری کا تحقیقی مقالہ فائنل سٹیج میں ہے۔ اُس میں معاشرتی خصوصاً انٹر پرسنل سطع پر کافی عجیب و غریب رویے دیکھنے کو مِلتے ہیں۔

تو آپ نے اِس سے کیا سیکھا؟

میری نظر میں انسان کا اصل روپ کوئی نہیں۔ سب کُچھ اضافی ہے۔ حالات ، واقعات ، معاملات ، جبر ، قدر۔ یہ سب ایک طرف ، اور ہماری چوائس یا انتخاب کا حق دوسری طرف ۔ ہم اپنی چوائسز کا نتیجہ ہیں۔ پر یہ کافی اُلجھی ہوئی تصویر ہے۔

اِس کا تو پتا نہیں ، پر ہم اس کے بارے میں اُلجھے ہوئے ضرور ہیں۔

درست۔

انسان کو سمجھنے کی لئے اس کا بُنیادی عنصر سمجھ لیں۔

اور وہ کیا ہے؟

مٹی۔

اور مٹی کو کیسے سمجھا جائے؟

مٹی سے انسان کو بنایا گیا۔ اس کے علاوہ، قرآن میں آتا ہے کہ ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا۔ لہٰزا یہ طے ہو گیا کہ انسان کی بُنیاد مٹی ، اور اُس میں زندگی کا محرک پانی ہے۔ اور روح تو ہے ہی۔

اس سے کیا پتہ چلا؟

پانی رواں ہوتا ہے۔ مٹی ساکن،۔ پانی مٹی کو متحرک کرتا ہے۔ اسے نرم کرتا ہے۔

نرم۔ یہ دلچسپ بات ہے۔

بالکل۔ پانی سے مٹی نرم ہوتی ہے۔ پانی زیادہ ہو جائے ، تو بہہ بھی جایا کرتی ہے۔ اِس لئے توازن ضروری ہے۔

واہ۔

آپ نے دیکھا ہو گا ، اچھا کُمہار یا فنکار ، مٹی سے شاہکار تخلیق کر سکتا ہے۔

جی۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ مٹی سے زیادہ بنانٓے والا اہم ہے، اُس پر کام کرنے والا اہم ہے۔ اسی لئے ، آج تک جو بھی انبیاء اور عظیم انسان بھیجے گئے ، انھوں سے انسانوں پر کام کیا ، چیزوں پر نہیں۔

بالکل۔

مٹی کی خصوصیت ہے کہ وہ زمین پر ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ پر اُس کی ساخت اور اوصاف مُختلف ہوتے ہیں۔ کہیں وہ پتھریلی ہوتی ہے ، کہیں نرم۔ کہیں ریتلی ، کہیں دھاتی۔ کہیں بھربھری۔ کہیں نمک سے بھرپور، کہیں کیچڑ نُما، کہیں کیمیاوی مادوں سے لبریز۔

اس میں تو میرے سوال کا جواب مِل گیا۔

🙂

واقعی۔ ایسے ہی ہے۔

مٹی کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اسے اگر مناسب طریقے سے پکایا جائے، تو یہ تعمیر سازی میں  بہترین چوائس ہے۔ یہ ساری بڑی بڑی عمارتیں اینٹوں سے تیار ہوتی ہیں ، جو مٹی سے بنتی ہیں۔ اس سے پتہ چلا کہ انسان اور اُسکی مادی ترقی ایک جیسے اصولوں پر نشونما پاتے ہیں۔

یہ تو ہے۔

، وہ انسان جو مٹی سے قریب رہتے ہیں ، وہ انسانیت سے قریب رہتے ہیں۔ جن لوگوں کا تعلق دیہات سے ہے وہ مٹی کے قریب ہیں ۔ انھیں موجودہ جدید دور کی بہت سی بیماریاں نہیں ہیں۔

ارے واہ۔

مٹی اور انسانوں سے بلاواسطہ تعلق رکھنے والے پیشے بھی دلچسپ ہوتے ہیں۔ غور کرنا ۔ اچھے مالی ، اُستاد اور ڈاکٹر ، سب ایک طرح سے سوچتے ہیں۔ وہ صبر والے ہوا کرتے ہیں ، اور پُرامید ، استقامت والے اور محنت کش۔

مزیدار بات۔

مٹی کی ایک بہت اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ جلتی نہیں۔ انشاء اللہ ، جلے گی بھی نہیں۔

انشاء اللہ۔

سب سے اہم بات۔ مٹی کا تعلق سب مادوں سے ، سب چیزوں سے رہتا ہے۔ ہوا ، پانی ، ماحول ، روشنی ، برف، پودے۔ پر مٹی کا سب سے گہرا تعلق معلوم ہے کِس چیز کے ساتھ ہے؟

کِس کے ساتھ؟

مٹی کا سب سے پکّا رِشتہ خون کے ساتھ ہوتا ہے۔

Advertisements

7 thoughts on “Dialogue – 200 ( مٹّی )

  1. اُستادِ من کا تبصرہ

    واہ۔ بہت خوب۔ یہ انسان اور مٹی کا رشتہ بھی عجیب ہے کہ مٹی سے بنا اور آخر میں مٹی بن جاتا ہے، مٹی سے نکل کر پھر مٹی میں شامل ہو جاتا ہے جب کہ اس سفر میں ساری عمر ” مٹیو مٹی” ہوتا رہتا ہے۔ ایک دل چسپ بات اور کہ زمین کی کیمیکل کمپوزیشن اور انسانی کمپوزیشن بھی ملتی جلتی ہے۔ میرا تو یہاں تک خیال ہے کہ اگر ہم ایک فرد میں پائے جانے والے کل مادے کی پیما ئش کریں اور زمین کے کل مادے پر تقسیم کریں تو ہمیں کل تعداد معلوم ہو جائے کہ اس مادے سے کتنے انسان پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم اب تک پیدا ہو کر مرنے والوں کی تعداد کا اندازہ لگا سکیں تو ہم آنے والے زمانوں میں انسانی پیداوار کا اندازہ لگا پائیں گے۔ یہ محض خیال آفرینی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن سوچنے میں کیا حرج ہے۔

    Liked by 2 people

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s