اے خاصۂ خاصانِ رُسل ﷺ ، وقتِ دُعا ہے

hudikhuwan

دعا درد کے اماوس بھرے آسمان پر سکون کا چاند بن کر نکلتی ہے، دعا دکھوں کے برفیلے پہاڑوں پر چین کا سورج بن کر طلوع ہوتی ہے، دعا اندھیرے راستوں کا جگنو ہے، جنگلوں کا راستہ ہے، سمندروں کے سفر میں سمت کا ستارہ اور امید کا استعارہ ہے، بوجھل اور پژمردہ دلوں کی راحت ہے، دعا طاقت ہے رفعت ہے اور رحمتوں کا زینہ ہے۔ دعا مومن کیلئے اللہ کی بہترین نعمت کی مانند ہے لیکن آج کل ہم اللہ سے دعا مانگتے ہوئے اپنئے اسباب ذیاده مدنظر رکھتے ہیں اور اللہ کی رحمت اور اس کی وسعت کو کم ، اسی لئے دعا کے بعد بھی سکون نہیں ملتا۔

افسوس آج ہماری دعاؤں کو بھی دعا کی ضرورت ہے دعا کا مغز احتیاج ہے اور انسانی فطرت میں محتاجی سب سے طاقتور عنصر ہے ہم ہر حال میں اللہ کے محتاج ہیں اسی لئے دعا سکون بخشتی…

View original post 559 more words

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s