اب اُنھیں ڈُھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر

سید ابولاعلی مودودیؒ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے کبھی کسی ولی اللہ کو دیکھا ہے ؟ سید مودودیؒ نے جواب دیا ہاں ابھی دو دن پہلے ہی لاہور اسٹیشن پر دیکھا ہے ۔ ہماری گاڑی جیسے ہی رکی تو قلیوں نے دھاوا بول دیا اور ہر کسی کا سامان اٹھانے اور اٹھا اٹھا کر بھاگنے لگے لیکن میں نے ایک قلی کو دیکھا کہ وہ اطمینان سے نماز میں مشغول ہے ۔ جب اس نے سلام پھیرا تو میں نے اسے سامان اٹھانے کو کہا اس نے سامان اٹھایا اور میری مطلوبہ جگہ پر پہنچا دیا، میں نے اسے ایک روپیہ کرایہ ادا کردیا ، اس نے چار آنے اپنے پاس رکھے اور باقی مجھے واپس کردئیے ۔ میں نے اس سے عرض کی کہ ایک روپیہ پورا رکھ لو لیکن اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا “نہیں صاحب میری مزدوری چار آنے ہی بنتی ہے” ۔

آپ یقین کریں ہم سب ولی اللہ بننے اور اللہ کے ولیوں کو ڈھونڈنے میں دربدر ذلیل و خوار ہوتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں مشکل ترین ریاضتوں ، مشقتوں اور مراقبوں سے گذرنا پڑےگا ۔ سار ی ساری رات نوافل میں گذارنی پڑےگی یا شاید گلے میں تسبیح ڈال کر میلے کچیلے کپڑے پہن کر اللہ ہو کی صدائیں لگانا پڑے گی تب ہم ولی اللہ کے درجے پر پہنچ جائینگے ۔ آپ کمال ملاحظہ کریں ہماری آدھی سے زیادہ قوم بھی اس کو ہی” پہنچا “ہوا سمجھتی ہے جو ابنارمل حرکتیں کرتا نظر آئیگا ۔ جو رومال میں سے کبوتر نکال دے یا عاشق کو آپ کے قدموں میں ڈال دے ۔

اللہ کا دوست بننے کے لیے تو اپنی انا کو مارنا پڑتا ہے ۔ قربانی ، ایثار اور انفاق کو اپنی ذات کا حصہ بنانا پڑتا ہے ۔ اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے اپنے ابا جی سے پوچھا کہ عشق مجازی اور عشق حقیقی میں کیا فرق ہے ؟ انھوں نے کچھ دیر سوچا اور کہنے لگے “بیٹا **کسی ایک کے آگے اپنی انا کو مارنا عشق مجازی ہے اور ساری دنیا کے سامنے اپنی انا کو مارلینا عشق حقیقی ہے”** ۔

جنید بغدادی اپنے وقت کے نامی گرامی شاہی پہلوان تھے ۔ انکے مقابلے میں ایک دفعہ انتہائی کمزور ، نحیف اور لاغر شخص آگیا ۔ میدان تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا ۔ بادشاہ اپنے پورے درباریوں کے ساتھ جنید بغدادی کا مقابلہ دیکھنے آچکا تھا ۔مقابلہ شروع ہونے سے پہلے وہ کمزور آدمی جنید بغدادی کے قریب آیا اور کہا دیکھو جنید ! کچھ دنوں بعد میری بیٹی کی شادی ہے میں بے انتہائی غریب اور مجبور ہوں ۔ اگر تم ہار گئے تو بادشاہ مجھے انعام و اکرام سے نوازے گا ۔ لیکن اگر میں ہار گیا تو اپنی بیٹی کی شادی کا بندو بست کرنا میرے لیے مشکل ہوجائیگا ۔مقابلہ ہوا اور جنید بغدادی ہار گئے ۔ بادشاہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا اس نے دوبارہ اور پھر سہہ بارہ مقابلہ کروایا اور تینوں دفعہ ہار جنید بغدادی کے حصے میں آئی ۔بادشاہ نے سخت غصے میں حکم دیا جنید کو میدان سے باہر جانے والے دروازے پر بٹھا دیا گیا اور تمام تماشائیوں کو حکم دیا گیا کہ جو جائیگا جنید کو برا بھلا کہتا جائیگا ۔ جنید بغدادی کی انا خاک میں مل گئی لیکن ان کی ولایت کا فیصلہ قیامت تک کے لیے آسمانوں پر سنا دیا گیا ۔

ولی تو وہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کردے۔جو کسی کو جینے کی امنگ دے دے ۔ چہرے پر خوشیاں بکھیر دے ۔ جب کبھی بحث کا موقع آئے تو اپنی دلیل اور حجت روک کر سامنے والے کے دل کو ٹوٹنے سے بچالے اس سے بڑا ابدال بھلا کون ہوگا ؟

رسول اکرمﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے فرمایا :

”معاذؓ !تمھیں وہ عمل نہ بتاوں جو بغیر حساب کتاب کے تمھیں جنت میں داخل کروادے ؟” معاذؓ نے عرض کی ضرور یا رسول اللہﷺ ۔ آپ نے فرمایا :”معاذ ! مشقت کا کام ہے کروگے ؟” ضرور کروں گا یارسول اللہﷺ ،معاذ نے جواب دیا ۔ آپﷺ نے پھر فرمایا :”معاذ مسلسل کرنے کا کام ہے کروگے ؟” معاذؓ نے جواب دیا کیوں نہیں یا رسول اللہﷺ ۔ آپ نے فرمایا:” اے معاذ ! اپنے دل کو ہر ایک کے لیے شیشے کی طرح صاف اور شفاف رکھنا بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجاوگے” ۔

**معروف کرخیؒ نے فرمایا جس کا ظاہر اس کے باطن سے اچھا ہے وہ مکار ہے اور جس کا باطن اس کے ظاہر سے اچھا ہے وہ ولی ہے** ولایت شخصیت نہیں کردار میں نظر آتی ہے ۔ابراہیم بن ادھمؒ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور چند دن رہنے کی اجازت مانگی آپ نے دے دی ۔ وہ کچھ دن ساتھ رہا اور انتہائی مایوس انداز میں واپس جانے لگا ۔ ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا کیا ہوا برخوردار ! کیوں آئے تھے اور واپس کیوں جارہے ہو ؟ اس نے کہا حضرت آپ کا بڑا چرچا سنا تھا ۔ اس لیے آیا تھا کہ دیکھوں کہ آپ کے پاس کونسی کشف و کرامات ہیں ۔ اتنا بول کر وہ نوجوان خاموش ہوگیا ۔ ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا پھر کیا دیکھا ؟ کہنے لگا میں تو سخت مایوس ہوگیا ۔ میں نے تو کوئی کشف اور کرامت وقوع پذیر ہوتے نہیں دیکھی ۔ ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا نوجوان ! یہ بتاو اس دوران تم نے میرا کوئی عمل خلاف شریعت دیکھا ؟ یا کوئی کام اللہ اور اس کے رسول کے خلاف دیکھا ہو ؟ اس نے فورا ًجواب دیا نہیں ایسا تو واقعی کچھ نہیں دیکھا ۔ابراھیم بن ادھمؒ مسکرائے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے بیٹے ! میرے پاس اس سے بڑا کشف اور اس سے بڑی کرامت کوئی اور نہیں ہے ۔

جو شخص فرائض کی پابندی کرتا ہو ۔
کبائر سے اجتناب کرتا ہو ۔
لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرتا ہو ۔
آپ مان لیں کہ اس سے بڑا ولی کوئی نہیں ہوسکتا ہے ۔اللہ کے ولی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ صاحب حال ہوتا ہے ۔نہ ماضی پر افسوس کرتا ہے اور نہ مستقبل سے خوفزدہ ہوتا ہے ۔ اپنے حال پر خوش اور شکر گذار رہتا ہے ۔جو اپنے سارے غموں کو ایک غم یعنی آخرت کا غم بنا کر دنیا کے غموں سے آزاد ہوجائے وہی وقت کا ولی ہے ۔

ایک صحابیؓ نے پوچھا یارسول اللہﷺ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا صبر کرنا اور معاف کرنا ۔آپ یقین کریں تہجد پڑھنا ، روزے رکھنا آسان ہے لیکن کسی کو معاف کرنا مشکل ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسلام کا حسن یہ ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلائواور ہمیشہ اچھی بات زبان سے نکالو ۔جو صبر کرنا سیکھ لے ، بھوکوں کو کھانا کھلائے ، ہمیشہ اچھی بات اپنی زبان سے نکالے اور لوگوں کے لیے اپنے دل کو صاف کرلے اس سے بڑا ولی بھلا اور کون ہوسکتا ہے ؟

یاد رکھیں جو لوگوں سے شکوہ نہیں کرتا جس کی زندگی میں اطمینان ہے وہی ولی ہے ۔ جس کے دل کی دنیا میں آج جنت ہے وہی وہاں جنتی ہے اور جس کا دل ہر وقت شکوے ،شکایتوں ، حسد ، کینہ ، بغض ، لالچ اور ناشکری کی آگ سے سلگتا رہتا ہے وہاں بھی اس کا ٹھکانہ یہی ہے ۔

فرائض کی پابندی کیجیے ،
کبائر سے اجتناب کیجیے ،
حال پر خوش رہیے ،
لوگوں کی زندگیوں میں آسانیا ں پیدا کیجیے ،
اور وقت کے ولی بن جائیے ۔

— منقول۔۔۔۔

Advertisements

…. بدل جاتی ہیں تقدیریں

1965 

۔۔۔۔ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ
ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﺮ ﺭﺳﯿﺪﮦ
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﺭﻭﺿﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﯽ
ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ 11
ﺳﺘﻤﺒﺮ 1965 ﺀ ﮐﻮ ﺳﯿﺎﻟﮑﻮﭦ ﭘﮭﻠﻮﺭﺍ ﻣﺤﺎﺫ
ﭘﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮﺋﭩﮧ ﺍﻧﻔﻨﭩﺮﯼ ﺳﮑﻮﻝ
ﮐﮯ ﺍﻧﺴﭩﺮﮐﭩﺮ ﻣﯿﺠﺮ ﺿﯿﺎﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻋﺒﺎﺳﯽ
( ﺳﺘﺎﺭﮦ ﺟﺮﺍُﺕ ) ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﺗﮭﮯ۔
ﻣﯿﺠﺮ ﺿﯿﺎﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﮐﮯ ﭨﯿﻨﮏ ﮐﻮ
ﺩﺷﻤﻦ ﮐﯽ ﺗﻮﭖ ﮐﺎ ﮔﻮﻟﮧ ﻟﮕﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ
ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ ﺟﺐ ﺻﺪﺭ ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
ﺳﮯ ﻣﯿﺠﺮ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺍﭘﻨﮯ
ﺷﮩﯿﺪ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺑﻌﺪ ﺍﺯ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻻ
ﺳﺘﺎﺭﮦ ﺟﺮﺍﺕ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ
ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﭼﮭﯽ، ﺗﻮ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﻤﺮﮦ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺴﮯ
ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﻧﮯ ” ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﺷﮩﯿﺪ
ﻣﯿﺠﺮ ﺿﯿﺎﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺳﺘﺎﺭﮦ ﺟﺮﺍﺕ ﮐﮯ
ﻭﺍﻟﺪ ﺟﺐ ﺭﻭﺿﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ
ﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﺗﻮ ﺧﺎﺩﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﻭﮨﺎﮞ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ
ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ
ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﻣﯿﺠﺮ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺧﺎﺩﻡ ﻣﺴﺠﺪ
ﻧﺒﻮﯼ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭ ﮨﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ
ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺧﺪﺍﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ
ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﻣﯿﺠﺮ ﺿﯿﺎﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ
ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﮐﺎ ﺁﭖ
ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ
ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﯽ ﺍﺱ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮨﯿﮟ۔
ﯾﮧ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺮﺕ ﺳﮯ ﻟﺒﺮﯾﺰ
ﺧﺎﺩﻡ ﺧﺎﺹ ﻧﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮔﻠﮯ
ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﻮﺳﮯ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ
ﺁﭖ ﯾﮩﯿﮟ ﺭﮐﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔
ﺷﮩﯿﺪ ﻣﯿﺠﺮ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ
ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﮯ
ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﮨﻞ ﻭ ﻋﯿﺎﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﺎﻧﺎ
ﮐﮭﻼﯾﺎ۔ ﺳﺐ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮍﯼ
ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﭘﯿﺶ ﺁﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﺠﺮ
ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﯿﺪ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ
ﮐﮧ ﯾﺎ ﺍﻟٰﮩﯽ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ
ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ
ﺑﺎﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﺁﻧﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﺷﺶ ﻭ
ﭘﻨﺞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺧﺎﺩﻡ ﺧﺎﺹ ﺭﻭﺿﮧ ﺭﺳﻮﻝ
ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ
ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﺳﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﯿﺪ
ﻋﺒﺎﺳﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺍﻧﮕﯽ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ
ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ 11 ﺳﺘﻤﺒﺮ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ
ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﻠﯿﻞ
ﺍﻟﻘﺪﺭ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ
ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﭽﮫ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﮐﺮﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺟﮩﮧ
ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻻﺷﮧ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﻭﮨﺎﮞ
ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ
ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮐﮧ ﺷﮩﯿﺪ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮩﺎﺩﺭﯼ ﺳﮯ
ﮐﻔﺎﺭ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ
ﺳﺎﺗﮫ ﻏﺰﻭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻟﮍﺗﮯ ﺭﮨﮯ
ﮨﯿﮟ۔ ﺧﺎﺩﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ
ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺳﻤﯿﺖ ﺳﺐ
ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﻨﺖ ﺑﻘﯿﻊ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﻋﯿﻦ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺭﯾﮉﯾﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ
ﺟﻨﮕﯽ ﺗﺮﺍﻧﮧ ﮐﻮﻧﺞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ۔ ۔ ﭼﻠﮯ ﺟﻮ ﮨﻮ
ﮔﮯ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﺟﺎﻡ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺗﻢ ۔ ۔ ۔ ﺭﺳﻮﻝ
ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺑﺎﻧﮩﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ۔ ۔ ۔ ﻋﻠﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺷﮩﺎﺩﺕ
ﭘﮧ ﺟﮭﻮﻣﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ۔ ۔ ۔ ﺣﺴﯿﻦ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ
ﺍﺭﺷﺎﺩ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ۔ ۔ ۔ ﺍﮮ ﺭﺍﮦ ﺣﻖ ﮐﮯ
ﺷﮩﯿﺪﻭ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺭﺿﺎﺋﯿﮟ ﺳﻼﻡ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شہاب نامہ سے اقتباس

آٹھویں جماعت کے بعد میں نےعمر بھر کے لیےء ہر روز ایک مقررہ وقت تک درود شریف پابندی سے پڑھنا عادت بنا لی۔تو چند روز بعد ایک عجیب خواب نظر آیا۔خوب میں تاحد نظر ایک وسیع و عریض صحرا پھیلا ہوا تھا۔میں اس میں کسی جانب تیز رفتاری سے بھاگتا ہوا چلا جا رہا تھا۔صحرا کی ریت اتنی گہری تھی کہ میری ٹانگیں گھٹنوں گھٹنوں تک اس میں دھنس دھنس جاتی تھیں۔سانس پھول کر جب مزید بھاگنا محال ہو گیا تو میں گھٹنوں کے بل گھسٹتا گھسٹتا آگے بڑھتا گیا۔کچھ عرصے بعد جب گھٹنے بھی جوا دے گیے تو میں منہ کے بل زمین پر لیٹ گیا۔اور اپنی ٹھوڑی اور پنجے ریت میں گاڑ کر پیٹ کے بل آگے کی جانب رینگنے لگا۔اس شدید مشقت سے میرا سانس بری طرح پھول گیا تھا۔میرے گھٹنے،پیٹ اور ہاتھ شل ہو گیےء تھے اور میرے سینے میں درد کی شدید ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔اسی طرح رینگتے رینگتے اچانک ایک جا نماز نما چٹایء کا ایک کونہ میرے ہاتھ آگیا۔وہ چٹایء ایک کھجور کے درخت کے نیچے بچھی ہویء تھیاور حضور اکرم صلی اللہ علہ و سلم اس پر دو زانو تشریف فرما تھے۔انہوں نے ایک ہلکی سء مسکراہٹ کے ساتھ میری جانب دیکھا اور عین اسی وقت میری آنکھ کھل گءی۔

جمعہ کی نماز کے بعد میں اسی بوسیدہ سی مسجد میں بیٹھ کر نماز پڑھتا رہا۔کچھ نفل میں نے حضرت بی بی فاطمہ کی روح مبارک کو ایصال ثواب کی نیت سے پڑھے پھر میں نے پوری یکسویٴ سے گڑ گڑا کر یہ دعا مانگی :“یا اللہ میں نہیں جانتا کہ یہ داستاں صحیح ہے یا غلط لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ تیرے آخری رسولﷺ کے دل میں اپنی بیٹی خاتون جنت کے لیےٴ اس سے بھی زیادہ محبت اور عزت کا جزبہ موجزن ہو گا۔اس لیے میں اللہ تعالی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ حضرت فاطمہ کی روح طیبہ کو اجازت مرحمت فرمایں کہ وہ میری ایک درخواست اپنے والد گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں پیش کر کے منظور کروا لیں۔درخواست یہ ہے کہ میں اللہ کی راہ کا متلاشی ہوں۔سیدھے سادھے مروجہ راستوں پر چلنے کی سکت نہیں رکھتا۔اگر سلسلہ اویسیہ واقعی ہی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے تو اللہ کی اجازت سے مجھے اس سلسلہ سے استفادہ کرنے کی ترکیب اور توفیق عطا فرمایء جاےء۔

اس بات کا میں نے اپنے گھر میں یا باہر کسی سے ذکر تک نہ کیا۔چھے سات ہفتے گزر گیے اور میں اس واقعے کو بھول بھال گیا۔پھر اچانک سات سمندر پار کی ایک جرمن بھابی کا خط ماصول ہوا۔وہ مشرف بہ اسلام ہو چکی تھیں اور نہایت اعلی درجہ کی پابند صوم و صلوة خاتون تھیں۔انہوں نے لکھا تھا۔

The other night I had the good fortune to see ‘Fatima’ daughter of Hazrat Muhammad (PBUH) in my dream,she talked to me most graciously and said, ‘tell your brother-in-law Qudrat ullah Shahab that I have submitted his request to my exalted Father who has very kindly accepted it’.

یہ خط پڑھتے ہی میرے ہوش و حواس پر خوشی اور حیرت کی دیوانگی سی طاری ہو گیء۔مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ میرے قدم زمین پر نہیں پڑ رہے بلکہ ہوا میں چل رہے ہیں۔ یہ تصور کہ اس برگزیدہ محفل میں ان باپ بیٹی کے درمیان میرا ذکر ہوا،میرے روییں روییں پر ایک تیز و تند نشے کی طرح چھا جاتا تھا۔کیسا عظیم باپ صلی اللہ علیہ وسلم اور کیسی عظیم بیٹی۔دو تین دن میں اپنے کمرے میں بند ہو کر دیوانوں کی طرح اس مصرع کی مجسم صورت بنا بیٹھا رہا۔

مجھ سے بہتر ذکر میرا ہے کہ اس محفل میں ہے۔

اس کے بعد کچھ عرصہ تک مجھے خواب میں طرح طرح کی بزرگ ہستیاں نظر آتی رہیں۔جن کو نہ تو میں پہچانتا تھا اور نہ ان کی باتیں سمجھ آتی تھیں اور نہ ہی ان کے ساتھ میرا دل بھیگتا تھا پھر ایک خواب میں ایک نہایت دلنواز اور صاحب جمال بزرگ نظر آےء جو احرام پہنے ایک عجیب سرور اورمستی کے عالم میں خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے۔میرا دل بے اختیار ان کے قدموں میں بچھ گیا۔وہ بھی مسکراتے ہوےء میری طرف آےء اور مطاف سے باہر حطیم کی جانب ایک جگہ مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور بولے۔میرا نام قطب الدین بختیار کاکی ہے۔تم اس راہ کے آدمی تو نہیں ہو لیکن جس دربار گہر بار سے تمہیں منظوری حاصل ہویء ہے اس کے سامنے ہم سب کا سر تسلیم خم ہے۔

قطب الدین بختیار رحمت اللہ علیہ کاکی صاحب نے ایک پیالہ ہمارے درمیان رکھا جس میں کھانے یا پینے کی کویء چیز پڑی تھی۔انہوں نے اچانک فرمایا۔تم یہ زندگی چاہتے ہو یا وہ زندگی؟

خواب میں بھی میرے دل کا چور انگڑایء لے کر بیدار ہو گیا اور اس نے مجھے گمراہ کیا کہ اس سوال میں فوری طور پر موت قبول کرنے کی دعوت ہے یعنی دنیاوی زندگی چاہتے ہو یا آخرت کی زندگی۔مجھے ابھی زندہ رہنے کا لالچ تھا۔اس لیے میں اپنے دل کے چور کی پیدا کی ہویء بد گمانی میں مبتلا ہو گیا۔حضرت کچھ یہ زندگی چاہتا ہوں کچھ وہ۔

میرا یہ کہنا تھا کہ میرے بایں پہلو کی جانب سے ایک کالے رنگ کا کتا سا جھپٹا ہوا آیا اور آتے ہی سامنے پڑے ہوےء پیالے میں منہ ڈال دیا۔

قطب صاحب مسکراےء اور بولے،افسوس یہ مفت کی نعمت تمہارے مقدر میں نہیں۔تمہارا نفس تم پر بری طرح غالب ہے اس لیے مجاہدہ کرنا ہو گا۔

اس کے بعد کییء ماہ تک نہ کویء خواب آیا اور نہ ہی کسی قسم کا کویء واقعہ رونما ہوا۔یہ تمام عرصہ میرے لیے ایک طرح سے عالم نزع کا زمانہ تھا۔دل اور دماغ میں احساس محرومی کے پرنالے بہنے لگے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے مین سب کچھ حاصل کر کے اچانک سب کچھ کھو بیٹھا ہوں۔بار بار خود کشی کا خیال آتا تھا۔ایک بار میں نے ڈوب کر خود کشی کا منصوبہ بھی بنا لیا۔نہر میں چھلانگ لگانے کے لیے پل کی منڈھیر پر جا بیٹھا۔غالبا جزبہ جھوٹا تھا اس لیے بیٹھے کا بیٹھا ہی رہ گیا اور چند گھنٹے بعد زندہ سلامت گھر واپس آ گیا۔…

A Silent Message – 20

fb_img_1535052125760-526856391.jpg

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا

07e65c5085e8aa0b95e3517d3a8b4bef-566081252.jpg

ہر تمنّا دِل سے رُخصت ہو گئی ، اب تو آ جا اب تو خِلوت ہو گئی

f6ed51f1357b3e683ce6764b2435c167159126345.jpg