ہمت کرو، جینے کو تو اک عمر پڑی ہے

اِس وقت تو یوں لگتا ہے کہیی کچھ بھی نہیں ہے
مہتاب، نہ سورج، نہ اندھیرا، نہ سویرا

آنکھوں کے دریچوں میی کِسی حسن کی چلمن
اور دِل کی پناہوں میں کِسی درد کا ڈیرا

شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید
اب آ کے کرے گا نہ کوئی خواب بسیرا

اب بیر، نہ الفت، نہ کوئ ربط نہ رشتہ
اپنا کوئ تیرا، نہ پرایا کوئی میرا

مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت گھڑی ہے
لیکن مرے دل، یہ تو فقط اک ہی گھڑی ہے
ہمت کرو، جینے کو تو اک عمر پڑی ہے


نسخہ ہائے وفا- فیض احمد فیض 

“Hard times don’t create heroes. It is during the hard times when the ‘hero’ within us is revealed.” – Bob Riley

Few lessons learnt in past few days:

  1. United States is no longer the world’s leading country.
  2. China won the 3rd World War without firing a missile and no one could handle it.
  3. Europeans are not as educated as they appear.
  4. We can survive vacations without trips to Europe and USA.
  5. Rich people are in fact less immune than the poor.
  6. Human beings are opportunistic and despicable no matter their socioeconomic position when prices are rising.
  7. No priest, poojari, usthad saved patients.
  8. Humans are the real viruses on the planet.
  9. We can spend Billions of Rupees on poor without red tapism.
  10. Health professionals are worth more than a footballer.
  11. Oil is worthless in a society without consumption.
  12. How animals feel in the zoo.
  13. The planet regenerates quickly without humans into play.
  14. Majority of people can work from home.
  15. We and the kids can survive without junk food.
  16. Prisoners in jails for petty crimes can be released.
  17. Living a hygienic life is not difficult.
  18. Only women are not supposed to know cooking.
  19. There are a lot of good people in the World.
  20. If you build more schools, you have to construct less hospitals.
  21. Media is !@$%$^&**(&#.

نیازِ خواجگی و شانِ سروری کیا ہے ، شعارِ مُشفقی و طرزِ دلبری کیا ہے

https://maddojazar.wordpress.com/2019/04/27/classics-133/


Re-posted 

خلوصِ دل سے سجدہ ہو تو اس سجدے کا کیا کہنا ، وہیں کعبہ سِرک آیا جبیں ہم نے جہاں رکھ دیِ

جب ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں تو بمشکل تین تسبیحات پوری کرتے ہیں اور سر اٹھا لیتے ہیں ،،
اس سے نماز تو ہو جاتی ہے مگر رب سے آشنائی نہیں ہوتی ـ
ہم نماز میں آٹو پہ لگے ہوتے ہیں
ہم خود نہ جھکتے ہیں
اور نہ اٹھتے ہیں ،
ہم اس دوران کہیں اور مصروف ہوتے ہیں
جیسے پائیلٹ جہاز کو آٹو پائیلٹ پر لگا کر خود سواریوں سے دعا سلام کر رہا ہوتا ھے ـ
یعنی ہم رکوع کو رکوع سمجھ کر ، سجدے کو سجدہ سمجھ کر اور قیام کو واقعی رب العالمین کے سامنے فرمانبرداری سمجھ کرکھڑے نہیں ہوتے بلکہ ہماری کیفیت ٹھیک اس کھلونے کی طرح ہوتی ہے جس میں سیل ڈال دیئے گئے ہوں اور بٹن آن کر دیا گیا ہو تو وہ خود بخود اوپر نیچے دائیں بائیں لڑھکتا پھرتا ہے ،،

آپ جب کوئی میموری کارڈ کسی ڈیوائس میں ڈالتے ہیں تو وہ ڈیوائس پہلے اس میموری کارڈ کا جائزہ لیتی ھے اس کو پڑھتی اور Recognize کرتی ہے ،
پھر پوچھتی ہے کہ اس میموری کارڈ کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں فلاں فلاں چیز ہے ،فلاں فلاں فولڈر ہے ،
اس کی اتنی سپیس استعمال ہو چکی ہے اور اتنی باقی ہے ،
پھر وہ آپ کو بتاتی ہے کہ سرکار آپ جو مواد اس پر کاپی کرنا چاہتے ہیں وہ کاپی نہیں ھو سکتا کیونکہ اس کارڈ میں جگہ کم ہے جبکہ مواد کا حجم زیادہ ہے ،
آپ کچھ مواد ڈیلیٹ کر کے مناسب جگہ بنائیں ـ

ہم جب سجدہ کرتے ہیں تو زمین اس ماتھے کو ریڈ کرتی ھے اور Recognize کرتی ھے ،
اس پرسیس میں کچھ دیر لگتی ہے ، زمین سادا ہو تو جیبن کو پہچاننے میں تھوڑا وقت لگتا ہے ،
مصلی اور قالین جتنا موٹا ہو جیبن کو زمین سے رابطہ کرنے میں ویسی ہی زیادہ دیر ھوتی ھے ـ
ہم زمین کے ماتھا ریڈ کرنے سے پہلے ہی اٹھا لیتے ہیں یوں جیسے جاتے ہیں ویسے آ جاتے ہیں نہ کچھ ڈیلیٹ ھوتا ھے اور نہ ہی کچھ کاپی پیست ھوتا ھے ـ
اللہ کے قدموں میں سر ہو اور کچھ لئے بغیر اٹھ کر گھر آ جاؤ تو نماز اک مزاق ہی بن کر رہ جاتی ہے ـ

جماعت میں مجبور بھی ہوں تو نوافل میں کسر نکال لینی چاہئے ،،
کم از کم پانچ سات دفعہ کی تسبیح کے بعد ہی آپ دنیا کی ٹرانس سے نکل کر مینوئل پر آئیں گے ـ
اور آپ کو اپنی ہیئت کا احساس ہو گا کہ آپ اس وقت کس پوزیشن میں ہیں ،
ہاتھ کہاں ہیں ،
ماتھا کہاں ہے ،
گھٹنے اور پاؤں کہا ہیں ،
جو جو چیز آپ کو یاد آتی جائے گی سمجھ لیں کہ وہ وہ چیز حقیقت میں recognize ہو رہی ہے ،
اس کے بعد اب تسبیح کو الفاظ کی بجائے منہ بند کر کے سوچ کی زبان میں کہیں جتنی دیر بھی مزہ آتا رہے ،
جب اکتاہٹ محسوس ہو تو بیٹھ جائیں اور دو سجدوں کے درمیان کی دعا اپنی زبان میں یاد کر رکھیں اس کو پڑھیں ،
اے اللہ مجھے معاف فرما دے ،
اور مجھ پر رحم فرما ،
اور مجھے ہدایت دے دے،
اور مجھے عافیت عطا فرما ،
اور مجھے رزق عطا فرما اور میرے دکھوں پر مرہم پٹی کر دے ـ

اللھم اغفر لی وارحمنی واھدنی وعافنی وارزقنی واجبُرنی ،،
رزق کا مفہوم ذھن میں رکھیں کہ اس میں گندم اور چاول ہی نہیں بلکہ مال ،اولاد ، صحت ، بصارت ،سماعت اور خوشیاں سب رزق کہلاتی ہیں ،،

اب آپ دوسرے سجدے کے لئے پک چکے ہیں ،،
پہلے سجدے میں اسپیس بنی تھی دوسرے سجدے میں اس دعا کو پیسٹ کر دیں ،
صرف دو رکعتوں کے بعد ہی آپ اپنا وزن خود محسوس کرنا شروع کر دیں گے ،
اپنا آپ کبھی خالی خالی محسوس نہیں ہو گا ،
اور اب آپ کو اگلی نماز کا انتظار رہے گا ـ
کیونکہ نماز میں ثواب کے ساتھ سواد بھی آیا ہے
اور یہی سواد لذتِ آشنائی کہلاتا ہے

عِشق کہانی

”بیوی سے عشق کب ہوتا ہے؟؟“

ایک خاتون نے نہایت دلچسپ سوال کیا ، کہنے لگیں ’’تارڑ صاحب میں نے آپ کا حج کا سفرنامہ ”منہ ول کعبے شریف“ پڑھا ہے جس میں آپ نے اپنی بیگم کا تذکرہ اِس طرح کیا ہے جیسے وہ آپ کی بیوی نہ ہو گرل فرینڈ ہو“

میں نے مسکراتے ھُوئے کہا کہ ، ”خاتون جب میں اپنے سفرناموں میں غیرمنکوحہ خواتین کا تذکرہ کرتا تھا تب بھی لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے اور اب اگر اپنی منکوحہ کے ساتھ چہلیں کرتا ہوں تو بھی اعتراض ہوتا ہے۔ اگر آخری عمر میں بالآخر اپنی بیوی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ھُوں تو بھی آپ کو منظور نہیں“۔

وہ خاتون نہایت پُرمسرت انداز میں کہنے لگیں ”آخری عمر میں ہی کیوں؟“

میں نے انہیں تو جواب نہیں دیا محض مسکرا دیا لیکن میں آپ کو رازداں بناتا ھُوں۔

آخری عمر میں بیوی کے عشق میں مبتلا ہو جانا ایک مجبوری ہے کہ اتنی طویل رفاقت کے بعد آپ کو احساس ہوتا ہے کہ اس بھلی مانس نے مجھ پر بہت احسان کیے۔ میری بے راہرو حیات کو برداشت کیا۔ کبھی شکایت نہ کی البتہ ڈانٹ ڈپٹ وغیرہ بہت کی تو بس یہی عشق میں مبتلا ہونے کے لائق ہے۔

ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ، ”جوانی میں بیوی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، مرد آخر مرد ہے دِل میں خیال آتا تھا کہ اگر یہ مَر جائے تو سبحان اللہ میں دوسری شادی کر لُوں“۔

اب اِس بڑھاپے میں ہر نماز کے بعد میں دعا مانگتا ھُوں ، کہ یا اللہ اسے سلامت رکھنا، یہ مَر گئی تو میں دربدر ہو جاؤں گا، مجھے تو کوئی پانی بھی نہیں پُوچھے گا مجھے پہلے لے جانا اِسے سلامت رکھنا۔


مستنصر حسین تارڑ

Facts – 209

ہماری سوسائٹی میں دو خرابیاں ہیں۔ پہلی تو یہ کہ ہم ایک دوسرے کو منافق اور نالائق سمجھتے ہیں۔ دوسری خرابی یہ کہ بالکل صحیح سمجھتے ہیں

مشتاق احمد یوسفی

A Silent Message – 67

پارسا کتے

مریض پر گزشتہ 20 منٹ سے جھکا ہوا ڈاکٹر سیدھا ہوکر مڑا ۔ چند ثانئیے توقف کے بعد عاشق حسین کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مغموم لہجے میں کہا ۔ بزرگو ہم نے اپنی سی پوری کوشش کی ۔ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں یے ۔کسی بھی وقت کوئی بھی معجزہ رونما ہو سکتا ہے مگر مرض اتنا پرانا تھا اور سلوتریوں نے مرض کو اتنا بگاڑا تھا کہ مریض کے بچنے کی اب کوئی امید نہیں ہے ۔ بمشکل 13 گھنٹے جی سکے گا ۔ عاشق حسین نے نیلی آنکھوں سے جو بہ کثرت رونے سے لال ہوئی تھی ڈاکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ڈاکٹر صاحب کیا میرے جوان جہان بیٹے کے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے؟ ڈاکٹر نے تاسف کے ساتھ کہا مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ شائد ہی ہم آپکے بیٹے کو بچاسکیں ۔ اچھا ڈاکٹر صاحب پھر ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم گھر کی راہ لیں، عاشق حسین نے ڈاکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔ ڈاکٹر اس تقاضے پر ششدر رہ گیا ۔حیرت سے کہا بزرگو آپ کے بیٹے پر جانکنی طاری ہے۔وہ جان دینے کے کرب میں مبتلا ہے ۔ یہاں ہم اسکو ایسی ادویات ڈرپ میں ڈال کر دے رہے ہیں کہ جس سے موت کا عمل کم تکلیف دہ ہوتا ہے ، درد کا احساس کم ہوتا ہے اور روح قدرے کم تکلیف سے نکل جاتی ہے اور آپ نیم مردہ بیٹے کو گھر لے جانے کی بات کر رہے ہیں ۔ عاشق حسین نے افسردگی کے ساتھ کہا ڈاکٹر صاحب آپ موت کی تکلیف کی بات کر ریے ہیں لیکن آپ زندگی کے درد سے واقف نہیں ہیں ۔ کبھی تو غریب رہ کر زندہ رہنے کا تجربہ کر لیجئے ۔ کبھی تو غریب مر کر دیکھ لیجئے ۔ آپ کو کیا پتہ غربت کی زندگی اور غربت کی موت کسی محشر سے کم نہیں ہوتی۔ ہمیں ہسپتال سے جانے کی اجازت دئیجئے ۔سرکار پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے ۔ ڈاکٹر نے غصہ ہوکر کہا یہی تو تم لوگوں کی جاہلیت ہے ۔پہلے جوان بیٹے کو خودساختہ ڈاکٹرز، حکیموں اور پیروں فقیروں سے علاج کرواتے ہوئے موت کے منہ میں دھکیلا، ایک سادہ عام سی بیماری کو اتنا پیچیدہ کردیا کہ بیچارہ اس دنیا سے رخصت ہورہا ہے اور اب اسے چین سے مرنے بھی نہیں دے رہے ہیں ۔ کیا یہ آپ کا فرزند ہے یا دشمن؟ عاشق حسین نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا ڈاکٹر صاحب اگر یہ چین سے مر گیا تو دنیا والے مجھے چین سے جینے نہیں دینگے ۔ میرے بیٹے کی درد ناک موت میں میری آبرومندانہ زندگی چھپی ہوئی ہے۔ ہمارے گاوں تک بس کا کرایہ 120 روپے ہے اور ایمبولینس والے 6 ہزار مانگتے ہیں ۔ بس والے میت کی ٹکٹ نہیں کاٹتے اور نہ ہی مردے کو سیٹ دیتے ہیں البتہ رستے میں اگر سواری مرجائے تو لاش کو اتارنے کا نہیں کہتے ۔ آپ نے 13 گھنٹے مزید زندہ رہنے کا کہا ہے اور یہ تجہیز و تکفین کے لیئے مناسب وقت ہے ۔ایمبولینس کا کرایہ آخری رسومات پر خرچ کرلونگا اور بس میں انشاللہ اسے موت بھی جلد آجائیگی ۔ جانکنی کے عذاب کا دورانیہ بھی کم ہوجائے گا ۔ڈاکٹر یہ سب کچھ سن کر سن ہوگیا ۔ بنا کچھ کہے چل پڑا ۔ عاشق حسین بیٹے کو ٹکٹکی باندھے اس وقت تک دیکھتا رہا جب تک آنکھوں میں امڈتے ہوئے آنسوؤں نے اسکا چہرہ ڈھنپا نہیں تھا ۔ اتنے میں نرس نے آکر عاشق حسین کو ڈسچارج سلئپ تمھاتے ہوئے کہا بابا جی آپ مریض کو لیکر جاسکتے ہیں ۔ عاشق حسین بوجھل دل اور شکست خوردہ قدموں کے ساتھ گاوں کی طرف چل پڑا ۔ بس میں دوران سفر جب ابھی وہ گاوں سے کوسوں دور تھا وہ تجہیز و تکفین کے پورے انتظامات کو ذہن میں ترتیب دے چکا تھا ۔ آج جمعہ مبارک کا دن تھا ۔صبح کے 10 بج ریے تھے ۔اسے امید تھی کہ گاوں پہنچتے پہنچتے اسکے بیٹے نے جان دے چکی ہوگی ۔ گاوں والے انا”فانا” قبر کھود کر تیار کرلینگے ۔کفن، عرق گلاب، سخات کا صابن، مولوی صاحب کی جائے نماز اور دیگر تمام لوازمات گاوں کے بازار میں “سلام دکاندار” کے پاس دستیاب ہوتے ہیں ۔ اس نے انگلیوں پر موٹا موٹا حساب لگاتے ہوئے تخمینہ ساڑھے چار ہزار کا نکالا ۔ اس کے علاوہ قل تک اور بعد میں بھی فاتحہ پڑھنے کے لیئے آنے والے مہمانوں اور دور پاس کے رشتہ داروں کے لیئے آٹے، دودھ ، پتی، چائے اور گھی شکر کا خرچہ اسکے حساب سے کوئی ڈھائی ہزار بن رہا تھا اور تقریبا اتنی ہی رقم اسکے پاس بچی ہوئی تھی جو اس نے بیٹے کے علاج معالجے کے لیئے گھر کا آخری اثاثہ بیل بیچتے ہوئے کھری کی تھی ۔ انسانوں سے جانور بھی اچھے ہوتے ہیں ضرورت کے وقت تو کام آجاتے ہیں، اس نے لمبی سانس لیتے ہوئے سوچا ورنہ انسان تو مشکل میں منہ موڑ لیتے ہیں اور خوامخوا کے لیئے اشرف المخلوقات بنے پھرتے ہیں ورنہ کہاں جانور اور کہاں انسان ۔ جوں جوں گاوں قریب آتا جارہا تھا توں توں اسکی پریشانی بڑھ رہی تھی ۔ اس نے جنازے کا وقت ظہر کی نماز ادا ہوتے ہی طے کیا تھا اور مفرب تک ساری رسومات ادا ہو چکی ہونگی ۔ مغرب پڑھنے کے بعد مسجد میں گاوں والوں اور مہمانوں کو جو کھانا اس نے دینا تھا اس کا انتظام اس سے نہیں ہو پارہا تھا ۔ کسی سے ادھار لینا تو ناک کٹنے والی بات تھی۔ چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کامقام تھا۔ شرم کی بات تھی ۔زندگی بھر گاوں والے طعنہ دیتے کہ بیٹے کو ادھارے کا کفن پہنایا تھا ۔ مسکینوں کی طرح زمین میں گاڑا تھا۔ بغیر رسومات ادا کئیے جانے کے دفنانا تھوڑا ہوتا ہے۔ گاڑنا ہی تو ہوتا ہے۔ اس نے شکر ادا کیا کہ اس نے مردہ بیٹے کو گاوں لانے کی بجائے جاں بلب بیٹے کو لانے کا فیصلہ کیا ورنہ گاوں میں شلوار بھی اترتی اور بیٹے کی بخشش بھی نہ ہوتی ۔ گلابو کمہار کے ساتھ یہی تو ہوا تھا ۔ بیوی کی موت پر جنازے کے بعد نہ مولویوں میں سخات بانٹ سکا، نہ ہی امام مسجد کو جائے نماز خرید کر دے سکا اور نہ ہی تدفین کے بعد لوگوں کو کھانا کھلا سکا ۔ مولوی صاحب تو صاف بات کرنے کے عادی تھے ۔انہوں نے تو برملا کہا تھا کہ گلابو کمہار کی بیوی کی بخشش نہیں ہوگی اور اگر پھر بھی کوئی نیکی کام آگئی اور بخشش ہو بھی گئی تو عذاب قبر تو تا قیامت پکاہے ۔ بیچارہ گلابو کمہار! ۔ بیوی بھی جہنمی اور وہ بھی آج تک کسی سے آنکھ ملانے کا قابل نہیں ہے ۔ عاشق حیسن کو جھرجھری سی آگئی اور ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو داد دی کہ بیٹے کو جانکنی کی حالت میں ہسپتال سے نکالا ورنہ اگر یہی پیسے ایمبولینس پر خرچ ہوتے تو اسکا انجام بھی گلابو کمہار جیسا ہوتا اور بیٹا بھی عذاب قبر سہتا ۔ اچانک عاشق حسین کو زبردست جھٹکا لگا ۔ ڈرائیور نے اتنے زور سے بریک دبائی تھی کہ سڑک پر ٹائروں کے نشانات پڑ گئے تھے اور پہیوں کے گھسنے کی کریہہ آواز بھی دور تک سنائی دی گئی تھی مگر ڈرائیور پھر بھی ان تین کتوں کو نہیں بچا سکا تھا جو جفتنی کتیا کا تعاقب کرتے ہوئے کتیا سمیت چلتی بس کی زد میں آگئے تھے۔ جنس کی شدت ہمیشہ حواس چھینتی ہے ۔ محبت اور عقل اسی لیئے تو ایک دوسرے کی ضد ہے، آگ اور پانی ہے، چوہے بلی کا کھیل ہے ۔ محبت میں جنسی نا آسودگی پاگل پن طاری کرتی ہے ، دیوانہ بناتی ہے ۔ محبت میں خود سپردگی تتلیوں کی گود میں سونا ہے ، رنگ و نور میں نہانا ہے ۔ محبتوں میں جسمانی ملاپ بارش کی معصوم ادا ہے، کلی کا چٹکنا ہے ۔ بن جسمانی لئمس کی محبت زہنی مرض ہے، آسیب ہے۔ بریک لگنے کی شدت سے سواریاں ایک دوسرے پر لڑھک گئی تھیں۔ بس میں یک دم سے افراتفری مچ گئی ، سواریوں کے شور وغوغا نے آسمان سر پر اٹھا دیا۔ تین کتے، ایک کتیا اور عاشق حسین کا بیٹا ساتھ مرگئے ۔ادھر تین کتے اور ایک کتیا بس کے نیچے آکر کوچ کرگئے اور ادھر عاشق حسین کے بیٹے کی روح اوپر پرواز کر گئی۔ عاشق حسین نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے ہوئے رب کا شکریہ بھی ادا کردیا کہ تین کتوں اور ایک کتیا کے ساتھ ساتھ اسکے بیٹے کی جان بھی نکال دی ۔ اس نے دل ہی دل میں عزرائیل کو بھی بڑی داد دی۔ کس چابکدستی سے لوگوں کی مشکلات آسان کردیتا ہے۔ اگر عزرائیل نہ ہوتا تو خدا جانے لوگ کیسے جیتتے ۔ بیٹے اور کتوں کے مرنے کا وقت اور مقام جیسے اسکے زہن میں نقش ہو کر رہ گیا ۔ کنڈیکٹر نے جلدی جلدی مرے ہوئے کتوں کو ٹانگوں سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے سڑک کے کنارے ڈال دیا اور بس روانہ ہوئی ۔ تقریبا 5 منٹ بعد بس عاشق حسین کے گاوں کے سٹاپ پر رکی ۔ سٹاپ کے قریبی گھر سے چارپائی منگوا کر عاشق حسین نے گاوں والوں کی مدد سے بیٹے کی لاش چارپائی پر رکھی اور گھر کی راہ لی ۔ بس اس گاوں کے واحد سواریوں کو اتارنے کے بعد دھواں اگلتے ہوئے اور غوں غوں کی آوازیں نکالتے ہوئے اگلی منزل کی طرف رینگنے لگی تھی ۔ عاشق حسین نے گاوں والوں اور رشتہ داروں کے حوالے تجہیز و تکفین کے انتظاما کرتے ہوئے چھوٹے بھائی کو ساری نقد رقم بھی ہاتھ میں تمھا دی ۔ خواتین کے بین اور گاوں والوں کی با آواز بلند انتظامات بارے باتوں کے دوران عاشق حسین ایک بڑی بوری میں ایک عدد کلہاڑی ، تیز دار والی چھری اور کام والے میلے اور بوسیدہ کپڑے رکھ کر خاموشی کے ساتھ نکل گیا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ جائے حادثہ پر موجود تھا ۔ سڑک پر ویرانی چھائی ہوئی تھی ۔وہ جلدی جلدی چاروں مرے ہوئے کتوں کو ٹانگوں سے کھینچتے ہوئے سڑک کنارے گنے کے کھیتوں میں اندر تک لے گیا ۔ بجلی کی سی سرعت کے ساتھ اس نے چاروں کتوں کو کاٹ کر بوری میں ڈالا اور کپڑوں کے اوپر پہنے ہوئے میلے اور خون آلود ملبوس کو اتار کر ماچس کی تیلی سلگا دی ۔ گھر داخل ہوکر اس نے بڑی بیٹی کو گوشت حوالے کرکے میت کا کھانا تیار کرنے کے بارے میں اچھی طرح سمجھایا اور باہر نکل کر فاتحہ کے لیئے آنے والوں میں گھل مل گیا ۔ تدفین بھی شان سے ہوئی ۔ چار پیٹی صابن بانٹا گیا اور آئے ہوئے تمام مولویوں میں جائے نماز ، سفید ٹوپیاں اور تسبیح بھی تقسیم کی گئیں ۔ مغرب کے بعد سارے گاوں کو مسجد ہی میں چھوٹا گوشت کھلایا گیا ۔ گرم گرم تندوری روٹیوں کے ساتھ سب نے پیٹ بھر کر کھایا۔ خوب واہ واہ ہوئی ۔سب نے لذت کی تعریف کی ۔ عاشق حسین مطمئن تھا کہ انشاللہ میت کا ایسا کھانا گاوں میں کسی کے باپ نے بھی اب تک نہیں دیا ہوگا اور نہ ہی آئندہ سو سالوں میں کھلا سکے گا ۔ عاشق حسین نے ایک بھرا ہوا خوانچہ مولوی صاحب کے گھر بھی بجھوایا ۔ خوب دعائیں ہوئیں اور مرحوم کو شہید کا درجہ بھی عطا ہوا ۔ اگلی صبح فجر پڑھ کر بھری مسجد میں مولوی صاحب نے عاشق حسین کو مخاطب کیا ۔ بھائی عاشق حسین رات کو تو بڑی عجیب بات ہوئی ۔میں نے اور ملانی جی نے اکھٹے ایک ہی خواب دیکھا کہ تیرا برخوردار جنت کی باغوں میں چہل قدمی کر رہا ہے ۔ خوش و خرم ہے ۔ میں نے تو بس صرف یہی دیکھا مگر ملانی جی کہہ رہی تھی کہ اسے شہید نے کہا کہ ابا کی حویلی بھی وہ جنت میں دیکھ چکا ہے جسکی سفید موتیوں کی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے ۔ تمام جماعت عش عش کر اٹھی۔ عاشق حسین زیر لب مسکرایا ۔ اسے پہلی مرتبہ نجس کتے کی پارسائی کے زور کا علم ہوا تھا ۔ واقعی جنت کا ہر راستہ پیٹ سے گزرتا ہے اور جہنم بھوک کی پیداوار ہے ۔ عاشق حسین نے دل ہی دل میں ان چاروں کتوں کا شکریہ ادا کیا کہ نجس ہونے کے باوجود اس کی انا اور دین کو قائم رکھا ، اسکے بیٹے اور اسے جنت تک لے جانے کا سبب بنے ۔پہلی مرتبہ اسکے دل سے کتوں کے لئیے دعا نکلی ۔ اگر ان کتوں نے آج اسکی پردہ پوشی نہ کی ہوتی تو انسان تو اسے برہنہ کرچکے ہوتے!
منقول

فلاح

مؤذن نے اللہ اکبر کہا ۔ بابا جی نےپکوڑوں کی کڑاہی کے نیچے شورمچاتے چولہے کو بند کیا ۔ اور بولے
دوستو ! تھوڑا سا انتظار کر لو ، بلاوا آگیا ہے ۔ حاضری لگوا کے آتا ہوں
میں ذاتی طور انکی سیدھی سادھی باتوں سے بہت متاثر ہوا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب ہمیں بھی نماز کی دعوت ملے گی ۔ مگر بابا جی نے کسی سے کچھ نہیں کہا ۔ دو تین گاہک شاید جلدی میں تھے ، بڑبڑاتے چلے گئے ۔
” آپ کے دو تین گاہک چلے گئے ہیں
میں نے بابا جی کے آتے ہی انہیں کہا ؟؟ انہوں نے سنی ان سنی کر دی ۔
” رزق حلال کی کوشش بھی عبادت ہے ، آپ گاہک فارغ کر کے بھی نماز پڑھ سکتے تھے
بابا جی مسکراتے ہوئے بولے ۔میرے مالک نے کتنی محبت سےفلاح کی طرف بلایا ۔ میں رزق کی کمی کی غرض سے رک کر فلاح کا موقع نہیں گنوانا چاہتا تھا ۔ رزق تو ملتا رہا ہے ملتا رہے گا – بیٹا کبھی اسکی آواز پر لپک کر تو دیکھو ، ساری لذتیں ایک طرف ، یہ لذت ایک طرف
رزق تو ہر دروازے پر اپنے وقت کے مطابق پہنچ جاتا ہے ۔ مگر فلاح کی آواز کسی کسی دل پہ دستک دیتی ہے ۔ کئی کان اسے قریب سے بھی نہیں سن پاتے ۔ دعا کرو اللہ وہ دل دے دے ، جس پر یہ آواز دستک دے ۔ یہ اللہ کی محبت کی آواز ہے بیٹا ۔”
میں اپنا دل ٹٹول رہا تھا ۔ آواز تو میں نے بھی سنی تھی اوروں نے بھی ۔ مگر دل پہ دستک نہیں ہوئی ۔ الله پاک ہمارے دل میں بھی ایسی کیفیت پیدا فرمادےجو فلاح کی صدا پر فورًا لبیک کہے!!!!

آمین یا ربالعالمین۔

یہی آئینِ قُدرت ہے یہی اسلوبِ فطرت ہے ، جو ہے راہ عمل میں گامزن محبوبِ فطرت ہے

Screenshot_20200120-073702

“Discussion is an exchange of knowledge, argument an exchange of ignorance.” – Robert Quillen

ایک محفل میں دوران تقریب کچھ باتیں ہوئیں
ایک صاحب کہنے لگے، آپ نے اتنی باتیں کرلیں ذرا یہ تو بتایئے کہ نماز میں دو سجدے کیوں ہیں؟
میں نے کہا : مجھے نہیں معلوم۔
کہنے لگے: یہ نہیں معلوم تو پھر آپ کو معلوم ہی کیا ہے؟ اتنی دیر سے آپ کی باتیں سن کر محسوس ہورہا تھا کہ آپ علمی آدمی ہیں لیکن آپ تو صفر نکلے۔
میں نے کہا: جناب! میں صفر نکلا نہیں، میں صفر ہوں! میں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ مجھے بہت کچھ آتا ہے۔
کہنے لگے: اب سنیئے کہ نماز میں دو سجدے کیوں ہیں! ایک سجدہ اسلیئے کہ جب اللہ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں تو تمام فرشتے سجدے میں چلے گئے تھے۔ جب فرشتے سجدے سے اٹھے اور دیکھا کہ سجدہ نہ کرنے پر شیطان کو تا قیامت وعید ہوئی تو انہوں نے ایک اور سجدہ شکرانہ ادا کیا کہ ہم حکم عدولی والوں میں نہ تھے۔
میں نے کہا: بہت شکریہ جناب! آپ نے میری معلومات میں اضافہ کیا، میں اس کی تحقیق میں نہیں جاؤنگا کہ آیا یہ بات حسب واقعہ ہے بھی یا نہیں، لیکن ایک سوال میری طرف سے بھی۔ اگر کسی شخص سے نماز میں ایک سجدہ چھوٹ جائے تو کیا اس کی نماز ہوجائے گی؟
کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم۔
میں نے پوچھا: جناب! کیا ہمیں پہلے وہ معلومات حاصل نہ کرنی چاہیئیں جن سے زندگی میں اکثر و بیشتر پالا پڑتا ہو یا پڑنے کی امید ہو۔؟
اس پر وہ بحث کرنے لگے۔
بہرحال ان صاحب نے تو وہ بات نہ مانی لیکن میں یہ سمجھ چکا تھا کہ لوگوں کے دماغ میں “علمیت” کا معیار کیا ہے؟

یقین کیجئے میں نے مسجدوں کی دیواروں ہر قران و حدیث کی بجائے کفر و گستاخی کے فتوے آویزاں دیکھے۔
میں نے کارپینٹر اور مستری کے درمیان “علم غیب” کے مسئلے پر بحث ہوتے دیکھی ہے۔
میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگوں کو مسلکی ویڈیوز شیئر کرتے دیکھا ہے جن کو غسل کے فرائض تک نہیں معلوم۔
حدیث میں آتا ہے:
“اختلاف العلماء رحمۃ”
علماء کا اختلاف رحمت ہے۔
مجھے لگتا ہے یہ حدیث مجھے اپنے اندر چھپے ایک اور معانی بتا رہی ہے اور وہ ہے:
“اختلاف الجہلاء زحمۃ”
جاہلوں کا اختلاف زحمت ہے۔
کیونکہ علم والے جب اختلاف کرتے ہیں تو غور و فکر کے دروازے کھلتے ہیں اور دلائل کے انبار لگتے ہیں
جبکہ جاہل جب اختلاف کرتے ہیں تو بحث و تکرار کے در وا ہوتے ہیں اور گالیوں کے ڈھیر لگتے ہیں۔

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

— قاضی حارث

Jewels and Gems – 126

ایک دفعہ ایک گدھ اور ایک شاہین بلند پرواز ہو گئے۔ بلندی پر ہوا میں تیرنے لگ گئے۔ وہ دونوں ایک جیسےہی نظر آرہے تھے۔ اپنی بلندیوں پر مست، زمین سے بے نیاز، آسمان سے بے خبر، بس مصروفِ پرواز۔

دیکھنے والے بڑے حیران ہوۓ کہ یہ دونوں ہم فطرت نہیں ہیں، ہم پرواز کیسے ہو گئے؟ شاہین نے گدھ سے کہا “دیکھو اس دنیا میں ذوقِ پرواز کے علاوہ اور کوئی بات قابلِ غور نہیں”۔ گدھ نے بھی تکلفاً کہہ دیا ”ہاں مجھے بھی پرواز عزیز ہے، میرے پَر بھی مجھے بلند پروازی کے لئے ملے”۔

لیکن کچھ ہی لمحوں بعد گدھ نے نیچے دیکھا۔ اُسے دور ایک مرا ہوا گھوڑا نظر آیا۔ اس نے شاہین سے کہا “جہنم میں گئی تمہاری بلند پروازی اور بلند نگاہی، مجھے میری منزل پکار رہی ہے”۔
اتنا کہہ کر گدھ نے ایک لمبا غوطہ لگایا اور اپنی منزلِ مُردار پر آ گرا۔ فطرت الگ الگ تھی، منزل الگ الگ رہی۔ ہم سفر آدمی اگر ہم فطرت نہ ہو تو ساتھ کبھی منزل تک نہیں پہنچتا۔

انسانوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ معلوم کرنا مشکل نہیں ہو گا کہ فطرت اپنا اظہار کرتی رہتی ہے۔ جو برا ہے وہ برا ہی ہےخواہ وہ کسی مقام و مرتبہ میں ہو۔ میاں محمد صاحب رح کا ایک مشہور شعر ہے کہ؛

نیچاں دی اشنائی کولوں کسے نئیں پھل پایا
ککر تے انگور چڑھایا، ہر گچھا زخمایا

(برے انسان کی دوستی کبھی کوئی پھل نہیں دیتی جس طرح کیکر پر انگور کی بیل چڑھانے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ہر گچھا زخمی ہو جاتا ہے۔

حضرت واصف علی واصف رحمہ اللہ علیہ
کتاب: حرف حرف حقیقت سے اقتباس

Classics – 151

جب زیست کے مشکل لمحوں میں اپنے بھی کنارا کرتے

اس وقت بھی ہم اے اہل جہاں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں

صیاد نے تیرے اسیروں کو آخر یہ کہہ کر چھوڑ دیا

یہ لوگ قفس میں رہ کر بھی گلشن کا نظارا کرتے ہیں

جذبات میں آ کر مرنا تو مشکل سی کوئی مشکل ہی نہیں

اے جان جہاں ہم تیرے لیے جینا بھی گوارا کرتے ہیں

منجدھار میں ناؤ ڈوب گئی تو موجوں سے آواز آئی

دریائے محبت سے کوثرؔ یوں پار اتارا کرتے ہیں


مولانا کوثر نیازی مرحوم

شکل دیکھی ہے اپنی ۔۔۔

“شکل دیکھی ھے اپنی”

عطا اللّه خان عیسی خیلوی اور مستنصر حسین تارڑ کی پی ٹی وی کے کسی پروگرام میں ہلکی پھلکی نوک جھونک جاری تھی۔ تارڑ صاحب نے سوال کیا کیا کہ ” یہ جوآپ کے گانوں میں اذیت ھے یعنی سنگلوں سے مارنے والی اور یہ جو ہجر اور فراق ھے، یہ کوئی اپنے آپ تو نہیں هو جاتا۔ بس یہ بتایں کہ یہ کس کا ہجر و فراق ھے ۔ ۔ ۔؟؟؟”

عطا اللہ خان بولے کہ آپ کی اس بات سے ایک دلچسپ واقعہ یاد آ گیا۔

ان ہی کی زبانی سنئیے۔

کہتے ہیں کہ ” میں کچھ عرصہ اسلام آباد میں بھی رہا ہوں ۔ وہاں پی ٹی وی کے کسی پروگرام میں میرا یہی گانا ریکارڈ ہوا کے

” بالو بتیاں وے ماہی میکوں مارو سنگلاں نال۔”
ریکارڈنگ ٹی وی پے چلائی گئی تو ایک دن رات دو بجے مجھے فون آیا۔ دوسری طرف سے ایک نسوانی آواز تھی۔ میں ان دنوں سنگل بھی تھا اس لئے تھوڑا الرٹ هو گیا۔ خاتون کہنے لگی کہ میں نے آپ کا گانا سنا مگر ایک شعر کی سمجھ نہیں آئی۔ اگر آپ سمجھا دیتے تو ________!!!
کہنے لگے کہ میں نے کہا کہ خاتون رات کے دو بج رہے ہیں ۔ پھر بھی آپ بتائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوشش کروں گا کہ سمجھا سکوں۔
خاتون بولیں کے اس شعر کا مطلب بتائیں کہ

” میں اتھاں تے ڈھولا واں تے ۔۔
میں سمّاں ڈھولے دی بانہہ تے۔ ۔ “

کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اصل میں ڈھولے ماہیے کا پہلا مصرع بے معنی سا ہوتا ھے۔ صرف قافیہ ردیف ملانے کے لئے استعمال ہوتا ھے اور دوسرا مصرع بڑا جاندار ہوتا ھے جیسا کہ اس شعر میں ھے۔ ویسے “واں” ہمارے علاقے میں ایک چھوٹا سا گاؤں ھے ۔ ۔۔ بہرحال شعر کا مطلب یہ ھے کہ میں کہیں اور ہوں اور میرا محبوب کہیں اور ھے ________ میرا جی بڑی شدت سے چاہتا ھے کہ میں اپنے محبوب کے بازو پے سر رکھوں اور سو جاؤں۔ وغیرہ وغیرہ
کہتے ہیں کہ خاتون بڑے تحمل سے میری بات سنتی رہیں۔ جب میں خاموش ہوا تو فی الفور گویا ہوئیں _______
“شکل دیکھی ھے اپنی”

اور کھٹاک سے فون بند

نگاہیں راہ تکتی ہیں تمہاری ، مُلاقاتیں قیامت پر نہ ڈالو

fb_img_1570255708945.jpg

“Life doesn’t come with a manual. It comes with a mother..”

” ماں “
کل پھیکے کمہار کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔۔۔!!
سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔۔۔!!
جانے کون ملنے آیا تھا۔۔۔!!

میں جانتا تھا پھیکا پہلی فرصت میں آ کر مجھے سارا ماجرا ضرور سناۓ گا۔۔۔! وہی ہوا شام کو بیٹھک میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ پھیکا چلا آیا۔۔۔! حال چال پوچھنے کے بعد کہنے لگا۔۔۔!

صاحب جی کئی سال پہلے کی بات ہے آپ کو یاد ہے ماسی نوراں ہوتی تھی جو پٹھی پر دانے بھونا کرتی تھی۔۔۔! جس کا اِکو اِک پُتر تھا وقار۔۔۔! میں نے کہا ہاں یار میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔!

اللہ آپ کا بھلا کرے صاحب جی وقار اور میں پنجویں جماعت میں پڑھتے تھے۔۔۔! سکول میں اکثر وقار کے ٹِڈھ میں پیڑ رہتی تھی۔۔۔! صاحب جی اک نُکرے لگا روتا رہتا تھا۔۔۔! ماسٹر جی ڈانٹ کر کار بھیج دیتے تھے کہ جا حکیم کو دکھا اور دوائی لے۔۔۔! اک دن میں آدھی چھٹی کے وقت وقار کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔!

میں نے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا اور اچارکھولا۔۔۔! صاحب جی آج وی جب کبھی بہت بھوک لگتی ہے نا۔۔۔! تو سب سے پہلے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا ہی یاد آتا ہے۔۔۔! اور سارے پنڈ میں اُس پراٹھے کی خوشبو بھر جاتی ہے۔۔۔! پتہ نئیں صاحب جی اماں کے ہاتھ میں کیا جادو تھا۔۔۔!

صاحب جی وقار نے پراٹھے کی طرف دیکھا اور نظر پھیر لی۔۔۔! اُس ایک نظر نے اُس کی ٹِڈھ پیڑ کے سارے راز کھول دیئے۔۔۔! میں نے زندگی میں پہلی بار کسی کی آنکھوں میں آندروں کو بھوک سے بلکتے دیکھا۔۔۔! صاحب جی وقار کی فاقوں سے لُوستی آندریں۔۔۔! آنسوؤں کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھی تھیں جیسے کہتی ہوں۔۔۔!

اک اتھرو بھی گرا تو بھرم ٹوٹ جاۓ گا۔۔۔! وقار کا بھرم ٹوٹنے سے پہلے میں نے اُس کی منتیں کر کے اُسے کھانے میں شریک کر لیا۔۔۔! پہلی بُرکی ٹِڈھ میں جاتے ہی وقار کی تڑپتی آندروں نے آنکھوں کے ذریعہ شکریہ بھیج دیا۔۔۔! میں نے چُپکے سے ہاتھ روک لیا اور وقار کو باتوں میں لگاۓ رکھا۔۔۔!اس نے پورا پراٹھا کھا لیا۔۔۔! اور پھراکثر ایسا ہونے لگا۔۔۔! میں کسی نہ کسی بہانے وقار کو کھانے میں شریک کرنے لگا۔۔۔! وقار کی بھوکی آندروں کے ساتھ میرے پراٹھے کی پکی یاری ہو گئی۔۔۔! اور میری وقار کے ساتھ۔۔۔! خورے کس کی یاری زیادہ پکی تھی۔۔۔؟ میں سکول سے کار آتے ہی بھوک بھوک کی کھپ مچا دیتا۔۔۔! ایک دن اماں نے پوچھ ہی لیا۔۔۔! پُتر تجھے ساتھ پراٹھا بنا کر دیتی ہوں کھاتا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔! اتنی بھوک کیوں لگ جاتی ہے۔۔۔؟ میرے ہتھ پیر پھول جاتے ہیں۔۔۔! آتے ساتھ بُھوک بُھوک کی کھپ مچا دیتا ہے۔۔۔! جیسے صدیوں کا بھوکا ہو۔۔۔!

میں کہاں کُچھ بتانے والا تھا صاحب جی۔۔۔! پر اماں نے اُگلوا کر ہی دم لیا۔۔۔! ساری بات بتائی اماں تو سن کر بلک پڑی اور کہنے لگی۔۔۔! کل سے دو پراٹھے بنا دیا کروں گی۔۔۔! میں نے کہا اماں پراٹھے دو ہوۓ تو وقار کا بھرم ٹوٹ جاۓ گا۔۔۔!میں تو کار آکر کھا ہی لیتا ہوں۔۔۔! صاحب جی اُس دن سے اماں نے پراٹھے کے ول بڑھا دیئے اور مکھن کی مقدار بھی۔۔۔! کہنے لگی وہ بھی میرے جیسی ماں کا پتر ہے۔۔۔! مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی پھیکے۔۔۔! مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔؟

میں سوچ میں پڑ گیا۔۔۔! پانچویں جماعت میں پڑھنے والے پھیکے کو بھرم رکھنے کا پتہ تھا۔۔۔! بھرم جو ذات کا مان ہوتا ہے۔۔۔! اگرایک بار بھرم ٹوٹ جاۓ تو بندہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔! ساری زندگی اپنی ہی کرچیاں اکٹھی کرنے میں گزر جاتی ہے۔۔۔! اور بندہ پھرکبھی نہیں جُڑ پاتا۔۔۔! پھیکے کو پانچویں جماعت سے ہی بھرم رکھنے آتے تھے۔۔۔! اِس سے آگے تو وہ پڑھ ہی نہیں سکا تھا۔۔۔! اور میں پڑھا لکھا اعلی تعلیم یافتہ۔۔۔! مجھے کسی سکول نے بھرم رکھنا سکھایا ہی نہیں تھا۔۔۔!

صاحب جی اس کے بعد امّاں بہانے بہانے سے وقار کے کار جانے لگی۔۔۔! “دیکھ نوراں ساگ بنایا ہے چکھ کر بتا کیسا بنا ہے” وقار کی اماں کو پتہ بھی نہ چلتا اور اُن کا ایک ڈنگ ٹپ جاتا۔۔۔! صاحب جی وقار کو پڑھنے کا بہت شوق تھا پھر اماں نے مامے سے کہہ کر ماسی نوراں کو شہر میں کسی کے کار کام پر لگوا دیا۔۔۔! تنخواہ وقار کی پڑھائی اور دو وقت کی روٹی طے ہوئی۔۔۔! اماں کی زندگی تک ماسی نوراں سے رابطہ رہا۔۔۔! اماں کے جانے کے چند ماہ بعد ہی ماسی بھی گزر گئی۔۔۔! اُس کے بعد رابطہ ہی کُٹ گیا۔۔۔!

کل وقار آیا تھا۔۔۔! ولایت میں رہتا ہے جی واپس آتے ہی ملنے چلا آیا۔۔۔! پڑھ لکھ کر بہت بڑا افسر بن گیاہے۔۔۔! مجھے لینے آیا ہے صاحب جی کہتا تیرے سارے کاغزات ریڈی کر کے پاسپورٹ بنوا کر تجھے ساتھ لینے آیا ہوں

اور ادھر میری اماں کے نام پر لنگر کھولنا چاہتا ہے۔۔۔!

صاحب جی میں نے حیران ہو کر وقار سے پوچھا۔۔۔! یار لوگ اسکول بنواتے ہیں ہسپتال بنواتے ہیں تو لنگر ہی کیوں کھولنا چاہتا ہے اور وہ بھی امّاں کے نام پر۔۔۔؟

کہنے لگا۔۔۔! پھیکے بھوک بہت ظالم چیز ہے چور ڈاکو بنا دیا کرتی ہے۔۔۔! خالی پیٹ پڑھائی نہیں ہوتی۔۔۔! ٹِڈھ پیڑ سے جان نکلتی ہے۔۔۔! تیرے سے زیادہ اس بات کو کون جانتا ہے پھیکے۔۔۔! سارے آنکھیں پڑھنے والے نہیں ہوتے۔۔۔! اور نہ ہی تیرے ورگے بھرم رکھنے والے۔۔۔! پھر کہنے لگا۔۔۔! یار پھیکے تجھے آج ایک بات بتاؤں۔۔۔! جھلیا میں سب جانتا ہوں۔۔۔! چند دنوں کے بعد جب پراٹھے کے بل بڑھ گئے تھے۔۔۔! اور مکھن بھی۔۔۔! آدھا پراٹھا کھا کر ہی میرا پیٹ بھرجایا کرتا۔۔۔! اماں کو ہم دونوں میں سے کسی کا بھی بھوکا رہنا منظور نہیں تھا پھیکے۔۔۔! وقار پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔۔! اماں یہاں بھی بازی لے گئی صاحب جی۔۔۔!

اور میں بھی اس سوچ میں ڈُوب گیا کہ لُوستی آندروں اور پراٹھے کی یاری زیادہ پکی تھی یا پھیکے اور وقار کی۔۔۔! بھرم کی بنیاد پر قائم ہونے والے رشتے کبھی ٹوٹا نہیں کرتے۔۔۔!

پھیکا کہہ رہا تھا مُجھے امّاں کی وہ بات آج بھی یاد ہے صاحب جی۔۔۔! اُس نے کہا تھا۔۔۔! مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی پھیکے۔۔۔! مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔! اُس کے ہاتھ تیزی سے پراٹھے کو ول دے رہے تھے۔۔۔! دو روٹیوں جتنا ایک پیڑا لیا تھا امّاں نے صاحب جی۔۔۔! میں پاس ہی تو چونکی پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔۔۔! روٹی بیلتے بیلتے نماز کا سبق پڑھاتی میرے ساتھ نکیاں نکیاں گلاں کرتی۔۔۔! آج بھی ویہڑے میں پھرتی نظر آتی ہے۔۔۔! پھیکا ماں کو یاد کر کے رو رہا تھا۔۔۔!
سورج کی پہلی کرن جیسا روشن چہرہ تھا اماں کا صاحب جی۔۔۔! باتیں کرتے کرتے پھیکا میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اُس پل میں لے گیا اور ایک دم میرے سامنے کسی پُرانْی فلم کی طرح سارا منظر بلیک اینڈ وائٹ ہو گیا۔۔۔! زندگی کے کینوس پر صرف ایک ہی رنگ بکھرا تھا مامتا کا رنگ۔۔۔!!

The anatomy of today’s ‘media’…

شاگردوں نے استاد سے پوچها :

*سفسطہ* / *مغالطہ* سے کیا مراد هے؟

استاد نے کہا:

اس کے لیے ایک مثال پیش کرتا ہوں.

دو مرد میرے پاس آتے ہیں.
ایک صاف ستهرا
اور دوسرا گندا.
میں ان دونوں کو مشورہ دیتا ہوں
کہ وہ غسل کرکے پاک و صاف ہو جائیں.

اب آپ بتائیں
کہ ان میں سے کون غسل کرے گا؟

شاگردوں نے کہا: گندا مرد.

استاد نے کہا:
نہیں
بلکہ صاف آدمی ایسا کرے گا کیونکہ
اسے نہانے کی عادت ہے
جبکہ گندے کو صفائی کی قدر و قیمت معلوم ہی نہیں.

اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟

بچوں نے کہا: صاف آدمی.

استاد نے کہا:
نہیں
بلکہ گندا نہائے گا
کیونکہ اسے صفائی کی ضرورت ہے.

پس اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟

سب نے کہا: گندا.

استاد نے کہا :
نہیں بلکہ دونوں نہائیں گے کیونکہ
صاف آدمی کو نہانے کی عادت ہے
جبکہ گندے کو نہانے کی ضرورت ہے.

اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟

سب نے کہا :دونوں.

استاد نے کہا:
نہیں
کوئی نہیں.
کیونکہ گندے کو نہانے کی عادت نہیں
جبکہ صاف کو نہانے کی حاجت نہیں.

اب بتائیں کون نہائے گا؟
بولے : کوئی نہیں.

پهر بولے:
استاد آپ ہر بار الگ جواب دیتے ہیں
اور ہر جواب درست معلوم ہوتا ہے.
ہمیں درست بات کیسے معلوم ہو؟

استاد نے کہا:
*سفسطہ اور مغالطہ* یہی تو ہے.

بچّو!
آج کل اہم یہ نہیں ہے
کہ حقیقت کیا ہے؟
اہم یہ ہے کہ
میڈیا کس چیز کو ثابت کرنا چاہتا ہے.!

امید ہے میڈیا کے چکروں کی سمجھ آ گئی ہو گی..

اگر آپ کو سمجھ آ گئی ہے
تو دوسروں کو بھی سمجھا دیں

جزاک اللّٰه

Masterpiece – 89

سُقوطِ ڈھاکہ پر جہاں فیض احمد فیض نے ”ہم کہ ٹھہرے اجنبی“ کہی اور نصیر ترابی نے ”وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی“ جیسی شاہکار غزلیں لکھیں وہاں محترمہ زہرہ نگاہ نے بھی اپنے دُکھ اور رَنج کا اظہار نظم ”متاعِ الفاظ“ لکھ کر کیا۔

یہ نظم انہوں نے لندن مشاعرے میں پڑھی جس میں فیض احمد فیض بھی موجُود تھے۔

”متاعِ الفاظ“

یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو، میری بات سنو
ہم اِسی چھوٹی سی دنیا کے، کسی رَستے پر
اتفاقاً، کبھی بُھولے سے، کہیں مل جائیں

کیا ہی اچھا ہو کہ، ہم دوسرے لوگوں کی طرح
کچھ تکلف سے سہی ، ٹھہر کہ کچھ بات کریں
اور اِس عرصۂ اخلاق و مروت میں، کبھی
ایک پل کے لیے، وہ ساعتِ نازک، آ جائے

ناخنِ لفظ، کسی یاد کے زخموں کو چُھوئے
ایک جھجھکتا ہوا جملہ، کوئی دُکھ دے جائے
کون جانے گا؟ کہ ہم دونوں پہ، کیا بیتی ہے؟

یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو، میری بات سنو

اِس خامشی کے اندھیروں سے، نکل آئیں، چلو
کسی سلگتے ہوئے لہجے سے، چراغاں کر لیں
چن لیں پھولوں کی طرح، ہم بھی متاعِ الفاظ
اپنے اُجڑے ہوئے دامن کو، گلستاں کر لیں

یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو، میری بات سنو

دولتِ درد بڑی چیز ہے، اقرار کرو
نعمتِ غم، بڑی نعمت ہے، یہ اِظہار کرو
لفظ، پیماں بھی، اِقرار بھی، اظہار بھی ہیں

طاقتِ صبر اگر ہو تو، یہ غم خوار بھی ہیں
ہاتھ خالی ہوں تو، یہ جنسِ گراں بار بھی ہیں
پاس کوئی بھی نہ ہو پھر تو، یہ دلدار بھی ہیں

یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو ، میری بات سنو

زہرہ نگاہ

انتخاب

شہیدوں کا لہو وہ نُور ہے جِس کی تجلّی سے ، یقیں افراد کے قوموں کے مستقبل سنورتے ہیں

FB_IMG_1566847469797.jpg

1965 ﺀ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ
ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﺮ ﺭﺳﯿﺪﮦ
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﺭﻭﺿﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﯽ
ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ 11
ﺳﺘﻤﺒﺮ 1965 ﺀ ﮐﻮ ﺳﯿﺎﻟﮑﻮﭦ ﭘﮭﻠﻮﺭﺍ ﻣﺤﺎﺫ
ﭘﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮﺋﭩﮧ ﺍﻧﻔﻨﭩﺮﯼ ﺳﮑﻮﻝ
ﮐﮯ ﺍﻧﺴﭩﺮﮐﭩﺮ ﻣﯿﺠﺮ ﺿﯿﺎﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻋﺒﺎﺳﯽ
( ﺳﺘﺎﺭﮦ ﺟﺮﺍُﺕ ) ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﺗﮭﮯ۔
ﻣﯿﺠﺮ ﺿﯿﺎﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﮐﮯ ﭨﯿﻨﮏ ﮐﻮ
ﺩﺷﻤﻦ ﮐﯽ ﺗﻮﭖ ﮐﺎ ﮔﻮﻟﮧ ﻟﮕﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ
ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ ﺟﺐ ﺻﺪﺭ ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
ﺳﮯ ﻣﯿﺠﺮ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺍﭘﻨﮯ
ﺷﮩﯿﺪ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺑﻌﺪ ﺍﺯ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻻ
ﺳﺘﺎﺭﮦ ﺟﺮﺍﺕ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ
ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﭼﮭﯽ، ﺗﻮ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﻤﺮﮦ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺴﮯ
ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﻧﮯ ” ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﺷﮩﯿﺪ
ﻣﯿﺠﺮ ﺿﯿﺎﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺳﺘﺎﺭﮦ ﺟﺮﺍﺕ ﮐﮯ
ﻭﺍﻟﺪ ﺟﺐ ﺭﻭﺿﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ
ﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﺗﻮ ﺧﺎﺩﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﻭﮨﺎﮞ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ
ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ
ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﻣﯿﺠﺮ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺧﺎﺩﻡ ﻣﺴﺠﺪ
ﻧﺒﻮﯼ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭ ﮨﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ
ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺧﺪﺍﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ
ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﻣﯿﺠﺮ ﺿﯿﺎﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ
ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﮐﺎ ﺁﭖ
ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ
ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﯽ ﺍﺱ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮨﯿﮟ۔
ﯾﮧ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺮﺕ ﺳﮯ ﻟﺒﺮﯾﺰ
ﺧﺎﺩﻡ ﺧﺎﺹ ﻧﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮔﻠﮯ
ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﻮﺳﮯ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ
ﺁﭖ ﯾﮩﯿﮟ ﺭﮐﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔
ﺷﮩﯿﺪ ﻣﯿﺠﺮ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ
ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﮯ
ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﮨﻞ ﻭ ﻋﯿﺎﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﺎﻧﺎ
ﮐﮭﻼﯾﺎ۔ ﺳﺐ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮍﯼ
ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﭘﯿﺶ ﺁﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﺠﺮ
ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﯿﺪ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ
ﮐﮧ ﯾﺎ ﺍﻟٰﮩﯽ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ
ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ
ﺑﺎﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﺁﻧﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﺷﺶ ﻭ
ﭘﻨﺞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺧﺎﺩﻡ ﺧﺎﺹ ﺭﻭﺿﮧ ﺭﺳﻮﻝ
ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ
ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﺳﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﯿﺪ
ﻋﺒﺎﺳﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺍﻧﮕﯽ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ
ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ 11 ﺳﺘﻤﺒﺮ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ
ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﻠﯿﻞ
ﺍﻟﻘﺪﺭ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ
ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﭽﮫ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﮐﺮﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺟﮩﮧ
ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻻﺷﮧ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﻭﮨﺎﮞ
ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ
ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮐﮧ ﺷﮩﯿﺪ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮩﺎﺩﺭﯼ ﺳﮯ
ﮐﻔﺎﺭ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ
ﺳﺎﺗﮫ ﻏﺰﻭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻟﮍﺗﮯ ﺭﮨﮯ
ﮨﯿﮟ۔ ﺧﺎﺩﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ
ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺳﻤﯿﺖ ﺳﺐ
ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﻨﺖ ﺑﻘﯿﻊ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﻋﯿﻦ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺭﯾﮉﯾﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ
ﺟﻨﮕﯽ ﺗﺮﺍﻧﮧ ﮐﻮﻧﺞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ۔ ۔ ﭼﻠﮯ ﺟﻮ ﮨﻮ
ﮔﮯ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﺟﺎﻡ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺗﻢ ۔ ۔ ۔ ﺭﺳﻮﻝ
ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺑﺎﻧﮩﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ۔ ۔ ۔ ﻋﻠﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺷﮩﺎﺩﺕ
ﭘﮧ ﺟﮭﻮﻣﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ۔ ۔ ۔ ﺣﺴﯿﻦ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ
ﺍﺭﺷﺎﺩ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ۔ ۔ ۔ ﺍﮮ ﺭﺍﮦ ﺣﻖ ﮐﮯ
ﺷﮩﯿﺪﻭ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺭﺿﺎﺋﯿﮟ ﺳﻼﻡ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ
۔ ۔منقول

Jewels and Gems – 111

سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ھوا تھا. دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے۔ سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے..
سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا ……..

سلطان نے شرط منظور کر لی اس شخص کو چلہ کے لیے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا…..
6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید لگیں گے ….

مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود کے دربار میں اس شخص کو دوبارہ پیش کیا گیا تو بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا…. ؟یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں حضرت خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا …. میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک سے مر رہے تھے اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا…..

سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے . وزیر نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ھے۔ لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے . دربار میں اک نورانی چہرے والے بزرگ بھی تشریف فرما تھے، کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا …..

بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کا گلا نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کہ مرے اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ……….

سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے غلام ایاز سے پوچھا تم کیا کہتے ہو؟ ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آیی .اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا اگر میری بات مانیں، تو اسے معاف کر دیں ……..اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے …..ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا …. ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ……

سلطان محمود غزنوی نے اس بابا جی کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے…بابا جی کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا.

دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا کتوں سے شکار کھیلتا تھا اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا آپ کی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ھی مرنا ہے ..

اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا …..سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو……

ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز کھولا آج میں بھی ایک راز کھول دیتا ہوں۔ اے بادشاہ سلامت یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں..!!
۔۔

شبلی نعمانی کی کتاب سے ………….

کرم یافتہ لوگ

واصف علی واصف صاحب نے لکھا ہے جس پہ کرم ہے، اُس کے معاملے میں ٹانگ نہ اڑانا وہ تو کرم پہ چل رہا ہے۔ تم چلتی مشین میں ہاتھ دو گے، اُڑ جاؤ گے۔ کرم کا فارمولا تو کوئی نہیں اُس کرم کی وجہ ڈھونڈو۔

جہاں تک میرا مشاہدہ ہے، جب بھی کوئی ایسا شخص دیکھا جس پر ربّ کا کرم تھا، اُسے عاجز پایا۔ پوری عقل کے باوجود بس سیدھا سا بندہ۔ بہت تیزی نہیں دکھائے گا۔ اُلجھائے گا نہیں۔ رستہ دے دے گا۔ بہت زیادہ غصّہ نہیں کرے گا۔سِمپل بات کرے گا۔ میں نے ہر کرم ہوئے شخص کو مخلص دیکھا ـــ اخلاص!! غلطی کو مان جاتا ہے۔ معذرت کر لیتا ہے۔ سرنڈر کر دیتا ہے۔

جس پر کرم ہوا ہے نا، میں نے اُسے دوسروں کے لئے فائدہ مند دیکھا۔

یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کی ذات سے نفع ہو رہا ہو، اور اللہ آپ کے لئے کشادگی کو روک دے۔ وہ اور کرم کرے گا۔ میں نے ہر صاحبِ کرم کو احسان کرتے دیکھا ہے۔ حق سے زیادہ دیتا ہے۔ اُس کا درجن 13 کا ہوتا ہے، 12 کا نہیں۔ اللہ کے کرم کے پہیے کو چلانے کے لئے آپ بھی درجن 13 کا کرو اپنی زندگی میں۔ اپنی کمٹمنٹ سے تھوڑا زیادہ احسان کر دیا کرو۔ نئیں تو کیا ہو گا؟ حساب پہ چلو گے تو حساب ہی چلے گا!

دل کے کنجوس کے لئے کائنات بھی کنجوس ہے۔ دل کے سخی کے لئے کائنات خزانہ ہے۔جب زندگی کے معاملات اڑ جائیں سمجھ جاؤ تم نے دوسروں کے معاملات اڑاۓ ہوۓ ہیں ۔

آسانیاں دو آسانیاں ملیں گی۔۔۔ انشاء اللّٰہ

Masterpiece – 81 (Re-posted)

خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا،کمال یہ ہے
ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا ، کمال یہ ہے

ذرا سی لغزش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلق زمانے والے
سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا،کمال یہ ہے

کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دکھ بچھڑنے کا بھول جائے
اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا،کمال یہ ہے

خیال اپنا ، مزاج اپنا ، پسند اپنی ، کمال کیا ہے ؟
جو یار چاہے وہ حال اپنا بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے

کسی کی راہ سے خدا کی خاطر، اٹھا کے کانٹے،ہٹا کے پتھر
پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا،کمال یہ ہے

وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے،شکست کھائے
لبوں پہ اپنے وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا،کمال یہ ہے

ہزارطاقت ہو،سو دلیلیں ہوں پھر بھی لہجے میں عاجزی سے
ادب کی لذت، دعا کی خوشبو بسا کے رکھنا ،کمال یہ ہے

(مبارک صدیقی)

A Silent Message – 33

“سماج کا ایندھن”

دولہن کے شرارے بیچنے والے کا ملازم ہرگاہک کو سوٹ کا دوپٹہ اوڑھ کردولہن بن کر دکھاتا ہے،
مزدوری کرکے دولہن کے سوٹ پر نگ اور موتی لگانے والا کاریگر راتیں لگا کر لاکھوں کا سوٹ تیار کرتا ہے،
ٹینٹ سروس والے کے مزدور یخ بستہ سردی کی رات یا گرمیوں کی چل چلاتی دھوپ میں شادی کا سیٹ اپ لگاتے ہیں،
ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں میں باورچی اور ویٹر کی ملازمت کرنے والے عاجزی سے جھک جھک کر گاہکوں کی آؤ بھگت کرتے ہیں.
کڑوے الفاظ سننے کو ملتے ہیں، گاہک کی شکایت پر مالک سے الگ سنتے ہیں، پیٹ کی خاطر اپنی عزت نفس تک کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔
وزیروں اور سینئر سرکاری افسران کے ماتحت کام کرنے والے کلرک، اسسٹنٹ، ڈرائیور، پٹے والا، صاحب کے اٹھنے بیٹھنے، آنے جانے پسند نا پسند کا خیال رکھتےہیں۔ منٹس، فائل، پرزینٹیشن، بریفنگ ساری ساری رات لگا کر تیار کرتے ہیں، تاکہ صاحب جب پہنچیں تو کوئی التواء نا ہو۔

لیکن…!!

ان غریب کاریگروں کی بہنیں نا کبھی ویسے سوٹ پہن سکتی ہیں اور نا ہی ان کی باراتیں لاکھوں روپے میں لگنے والے پنڈال میں آتی ہیں۔
ان ویٹرز کے بچے کبھی اس طرح کے ریسٹورنٹ اور ہوٹلوں میں “عیاشی” نہیں کر پاتے۔۔
صاحب کے بچے اسکول لانے لیجانے والے ڈرائیور نے شاید کبھی اپنے بچوں کا اسکول بھی نا دیکھا ہو۔
ایسے ہی موچی کی اولاد اچھے جوتے نہیں پہنتی.
لوگوں کے بچے سنبھالنے والی آیا کے اپنے بچے بن سنبھلے ہی پل جاتے ہیں۔

یہ سب کاریگر، مزدور، کلرک،ڈرائیور، پٹے والے، خاکروب، باورچی، نائی، موچی وغیرہ “سماج کا ایندھن” ہیں،

اس ایندھن سے بڑے بڑے “جنریٹر” چلتے ہیں۔ اور جس دن اس ایندھن میں کچرا آجائے اچھے اسے اچھا جنریٹر بھی بند ہوجائے گا۔

مسجد، مندر، گرجا جہاں جانا ہیں لازمی جائیے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ سماج کے اس ایندھن کے دلوں میں کوئی گھر بنائیے۔

اللہ ان دلوں کے بہت قریب ہوتا ہے۔ کسی کی روزی پر لات نا ماریں، کسی کی عزت نفس کو ٹھیس نا پہنچائیں۔

اس ایندھن کی ایک “آہ” زندگی میں ایسی آگ لگا سکتی ہیں کہ جسے پھر اللہ ہی بجھا سکتا ہے۔

اقتباسات
— فیصل رحمان ساغر

سچی خوشی

تیرے چہرے کے خدوخال یادکرتاہوں،تاکہ جنت میں ملتے ہی تجھے پہچان سکوں!!!

کسی ٹی وی ٹاک شو میں اینکرنے اپنے کروڑ پتی مہمان سے سوال پوچھا : زندگی میں آپ کو حقیقی خوشی کب اور کیسے ملی ہے؟
مہمان نے کہا: حقیقی خوشی کے حصول کے لیے میں چار مراحل سے گزرا ہوں۔
1- دنیا کی ہر من پسند چیز کو پالینا
2- دنیا کی مہنگی سے مہنگی چیز حاصل کرنا
لیکن میں نے دیکھا کہ ایسی ہر چیز کی تاثیر وقتی ہے

3- بڑے بڑے پراجیکٹ کی ملکیت حاصل کرنا مثلا کسی ٹیم یا فرنچائز کو خریدنا۔ دنیا بھر میں سیاحت کے حوالے سے خدمات سرانجام دینا وغیرہ ۔۔ ۔
لیکن ان سب کاموں میں بھی مجھے وہ خوشی نہ مل سکی جس کا میں متلاشی تھا

4- مجھ سے ایک دوست نے کہا کہ میں کچھ معذور بچوں کے لیے وھیل چیئر خریدنے میں مدد کروں ۔

میں نے فورا دوست کی بات مان لی کہ میں ضرور اس کارخیر میں حصہ لوں گا ۔
دوست نے اصرار کیا کہ میں اس کے ساتھ جاوں اور بچوں کو یہ تحفہ بذات خود پیش کروں ۔
میں نے بچوں کے چہرے پر انتہائی خوشی دیکھی ۔ بچے کرسیوں پر بیٹھ کر خوشی سے جھوم رہے تھے ۔ ہنسی خوشی کے ساتھ ادھر ادھر گھوم رہے تھے ۔ ایسا لگ رہاتھا کہ وہ کسی پارک یا کھیل کے میدان میں ہوں ۔ ۔
یہ سب کچھ کرنے اور یہ منظر دیکھنے کے بعد بھی مجھے حقیقی خوشی محسوس نہ ہوئی ۔۔

جب میں وہاں سے جانے لگا تو ایک بچے نے میرے پاوں پکڑ لیے ۔میں نے کوشش کی کہ اسے پیار سے اٹھا لوں لیکن وہ چمٹ گیا ۔اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے اور اس کی نگاہیں مجھ پر جمی ہوئیں تھیں ۔ میں نے نیچے جھک کر اس سے پیار بھرے انداز میں پوچھا۔
بیٹا کسی اور چیز کی ضرورت ہے تو مجھے بتا دیجیے !
اس بچے نے جو جواب دیا اسی جواب نے مجھے حقیقی خوشی سے روشناس کرایا ۔

کہنے لگا : میں تمہارے چہرے کے خدوخال یاد کرتاہوں تاکہ جنت میں ملتے ہی تجھے پہچان سکوں ۔ اور اپنے رب کے سامنے ایک بار پھر تمہارا شکریہ ادا کرسکوں۔۔

کوشش کریں کہ ہمیشہ ان لوگوں میں آپ کا شمار ہو جن سے ملنے کی تمناقیامت والے دن بھی لوگ کریں تاکہ وہاں رب کے حضور بھی ان کاشکریہ ادا کریں
ان لوگوں میں سے نہ ہوں جن سے قیامت والے دن بھی لوگ جھگڑہ کرنے کی تمنا کریں اور ان سے بدلہ لینے کے لیے قیامت کا انتظار کریں۔

عربی سے ترجمہ…

ابو لہب کی تلاش

جب سے سورۂ لہب پر غور کیا مُجھے کبھی آئینے میں ابو لہب نظر آتا ہے کبھی اپنے دوستوں میں۔ میں گھبرا کر مسجد کا رُخ کرتا ہوں تو ممبر اور صفوں میں ہر طرف ابُو لہب نظر آتے ہیں۔
میری گلیوں شہروں ، حکوتی و فوجی اداروں اور عدالتوں میں مُجھے ہر طرف ایک ہی چہرہ نظر آتا ہے۔ آگ برساتا عقل اور تدبیر سے عاری جزبات اور احساس برتری سے سے بھرا ابُو لہب۔.
مُجھے ان سب میں سے اُس ابُو لہب کی تلاش ہے جسکے بارے میں قُرآن کی سورۂ ابو لہب ہے۔ مولوی صاحب نے بتایا بھائی کسے ڈھونڈتے ہو ابُو لہب تو مُحمدﷺ کا چچا عبدُل عُزا تھا جسے اُس کے رویّے کی وجہ سے ابُو لہب یعنی شُعلوں کا باپ کہا جاتا تھا وہ تو چودہ سو سال پہلے مر کھپ گیا تھا۔
میں نے عرض کی مولانا کیا جیسے سورہ ابُو لہب میں ذکر ہے اُس کے ہاتھ ٹُوٹیں گے کیا اُس کے ہاتھ ٹُوٹے تھے۔ مولانا نے فرمایا نہیں بھئی یہ حقیقت میں نہیں مجازی طور پر ہونا تھا یعنی تباہی اُسکا مُقدّر تھی۔
میں نے مولانا سے سوال کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ابُو لہب کا ذکر کرنے میں بھی مجازی طور پر میرا اور اور آپکا ذکر ہو اگر ہاتھ ٹُوٹنا مجازی معنوں میں لیا جانا چاہیے تو اُس حقیقی عبدُل عُزا کا ہی کیوں سوچا جائے جو صدیوں پہلے مر کھپ گیا۔
مولانا کے امام اور امام کے اُستاد نے چونکہ اپنی صدیوں پہلے عبدُل عُزا کو ہی آخری اور حتمی ابُو لہب لکھ دیا تھا لہٰذا مولانا تو نہیں مانے میں نے سوچا آئینہ آپکی خدمت میں پیش کروں۔
کہیں آپ بھی آگ کے باپ تو نہیں۔ کہیں آپ بھی عبدُل عُزا کی طرح ضدّی اور انا پرست تو نہیں۔ کہیں اُسکی طرح آپ بھی مُخالف نظریے کے لوگوں کی نفرت میں اندھے تو نہیں ہو جاتے۔ کہیں آپ کے بھی دل دماغ آنکھ کان اور عقل پر مُہر تو نہیں لگی۔ کیا دلیل آپ پر بھی تو بے اثر نہی ہو گئی۔ اگر آپ میں یہ سب نشانیاں ہیں تو آپ ہی اصلی گُمشدہ ابُو لہب ہیں.
مُجھے آپکو ڈھونڈ کر بس یہ بتانا تھا کہ سورہ ابُو لہب کے مُطابق آپکے ہاتھ ٹُوٹیں گے۔ آپکا مال اولاد آپکے کام نہ آئیں گے۔ آپکے اندر بھری انا ، غُصہ ، فرقہ ورانہ نفرت ، حسد اور بُغض کی آگ اس سورہ کے مُطابق آپ ہی کے گلے کا طوق بنے گی۔
قُرآن بعض اوقات بظاہر کسی خاص قوم یا افراد سے مُخاطب ہوتا ہے جیسے بنی اسرائیل ، نصارا، ابُو لہب یا قُریش وغیرہ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جب یہ آیات آپ کے لیے ہیں ہی نہیں تو آپ کیوں انہیں تلاوت کرتے ہیں جبکہ نہ ابُو لہب زندہ ہے اور نہ کوئی قُریشی اب غیر مُسلم ہے۔ بنی اسرائیل نصارا، ابُو لہب یا مُشرک قُریش کولکھے جانے والے کھُلے خط مُجھے کیوں دیے گئے۔ ایک تو یہ بات ہے کہ اُن تک یا اُن جیسوں تک یہ خطوط مُجھے پہنچانے ہیں لیکن یہ خط کھُلے اس لیے چھوڑے گئے کہ میں آگے پُہچانے سے پہلے ان خطُوط کے آئینے میں خود کو دیکھ لوں۔
بنی اسرائیل کو پیغام دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لوں کہیں اُنکی سب سے بڑی بُرائیاں یعنی قوم پرستی اور نسلی تفاخُر مُجھ میں تو نہیں۔
کسی بھی قوم کے بارے میں جو آیات قُرآن میں ہیں وہ ہمارا آئینہ اور ایمان کی چھلنیاں ہیں۔ آئیے اُن چھلنیوں سے گُزر کر دیکھیں۔

— محمد رضوان خالد چوھدری

Classics – 133

آخری فائدہ …..

دنیا میں تین طرح کے لوگ بستے ہیں۔ ایک وہ جو فائدہ لیتے ہیں (نفع خور) اور انکی اکثریت ہے، اور دوسرے جو نفع دیتے ہیں (نفع بخش) اور یہ تھوڑے ہیں، اور تیسرے وہ کہ جنہیں حالات کے جبر نے اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ کسی کو کچھ دے سکیں اور شرافت نے کچھ لینے سے روکے رکھا.

نفع خور ہر وقت اپنے آپکو ہر چیز کا مستحق گردانتے ہیں . ان کی entitlement کی فہرست لا متناہی ہوتی ہے. کھانا انہیں اچھا ملنا چاہئے، تنخواہ انکی شاندار ہو ، عزت سب انکی کریں ، بات انکی سب سے بھاری ، آن ، بان ، شان ، گھر ، گاڑی ، اولاد ، شجرہ نسب اور اہلیت و سند سب انکی اونچی. پتہ نہیں اتنی زیادہ بڑائیوں کے بعد سجدہ بھی شاید اپنے آپ ہی کو کرتے ہیں کہ دیکھو! میں کتنا نیک ہوں. یہ لوگ و مکرو مکرا کبّارا کے مصداق روز نت نئی چالیں چلتے ہیں کہ انکی بزرگی کا سامان مہیا ہو.

دوسری قسم کے لوگ ہمہ وقت اس کوشش میں لگے ہوتے ہیں کہ انکی ذات سے کسی کو نفع کیسے پہنچ سکتا ہے اور حتیٰ الامکان کوشش کرتے ہیں کہ کسی کو ان سے تکلیف نہ پہنچے۔

تیسری قسم کے لوگ شاید باقی دونوں کی آزمائش کے لئے بناۓ گئے ہیں. انہیں زمانے کی ستم ظریفی نے اس حال میں پہنچا دیا ہوتا ہے کہ یہ کسی کو کوئی زیادہ مدد دے نہیں سکتے (دعا کی کوئی قیمت تو ہے نہیں نا آج کل)، اور خوداری یا خدا شناسی انہیں کچھ مانگنے سے روکے رکھتی ہے۔

ہم میں سے ہر ایک عموماً نفع خور ہی ہوتا ہے۔ نفع بخش تو ہم کبھی ہوئے ہی نہیں مگر قدرت کو کوئی نہ کوئی بہانہ چاہیے ہوتا ہے شاید ہمیں نوازنے یا آزمانے کا تو کوئی ایک آدھ کام ہمارے واسطے رکھ چھوڑا ہوتا ہے کہ بندہ یہ کرتا رہے تو زندگی کا سلسلہ چلتا رہے اور ایسے میں وہ تیسری قسم کے کسی فرد کے ساتھ جوڑ دیتا ہے . میرا دوست عبداللہ کہتا ہے کہ میرے مال میں جتنی برکت آئی وہ قرض دینے سے آئی۔

آپ یوں سمجھ لیں کہ ڈاکیے کی جاب ہے ، آپ کا کام ڈاک وصول کرکے آگے پہنچانا ہے۔ کیا آیا ، کیوں آیا ، کس کے لئے آیا ، کہاں سے آیا ، کتنا آیا؟ یہ جاننا آپکا کام نہیں . آپ بس ان لوگوں کو سرو کرتے رہیں . سوال پوچھنا تو عشق کی توہین ہے . سوال وہاں پوچھتے ہیں جہاں اعتبار نہ ہو اور جہاں اعتبار نہ ہو وہاں عشق کا کیا کام ؟

غور سے سوچئے کہ کتنے ہی ایسے لوگ آپ کے حلقہ احباب میں ہونگے جن سے آپکا صرف ایک فائدے کا تعلق ہوگا . وہ آپکا آخری فائدہ ہوتا ہے . آپ کسی کا بجلی کا بل بھر دیتے ہیں ، کسی کے موبائل فون کا ریچارج کروادیتے ہیں ، کسی کی اسکول کی فیس، کسی کی دوا ، کسی کو کچھ پڑھا دیا ، کسی کو کچھ سمجھا دیا ، کسی کو کوئی مشورہ دے دیا تو کسی کا فقط حوصلہ بڑھا دیا ، اور کچھ نہیں ایک آدھ مہینے میں فون کرکے پوچھ لیا کہ آپ کیسے ہیں ؟ اس بات کا خصوصی خیال رکھیں کہ یہ آخری فائدہ چھٹنے نہ پاۓ۔ کم ظرفی کی نشانی ہے کہ ذرا سی بات پر آپ کسی کو اسکے آخری فائدے سے محروم کردیں . آپکو پیسے دینے ہیں وقت پر دے دیں یہ دیکھ بغیر کے اسکا رویہ کیا ہے . کسی کو محروم نہ کریں . پتہ نہیں کب کس کے نصیب سے کون پا رہا ہوتا ہے ، پیاسوں پہ پانی بند کردینے سے کنواں سوکھ جاتا ہے.

آپ سے کچھ عرض کروں ؟ سجدہ صرف خدا کے لئے ، بلکل اسی طرح رونا دھونا ، شکوے شکایتیں لوگوں کی ، رویوں کی سب اسکے گوش گزار کردیں . مخلوق سے نہ الجھیں . قرب و دوری صرف ہمارے لئے ہے،اسکے لئے کیا قرب اور کیا دوری . وہ شہ رگ سے قریب ہے اور کل جہاں سے بے نیاز . اس سے باتیں کریں . وہ ایسا رنگریز ہے کہ آپکو ہر صبح نیا اور ہر شام نیا رنگ دے گا . جسکی حیرت رنگی جائے اسے کیا پرواہ کوئی کیا کہتا پھرے.

ہاں ، یہ خیال رہے ادب نہ چھوٹے نہ مالک کا نہ مخلوق کا. آپ سے ایک دل کی بات کہوں ؟

الله اگر ناراض ہوجاے تو بندہ کہیں کا نہیں رہتا ، اور
الله اگر راضی ہوجاے تو بھی بندہ کہیں کا نہیں رہتا

ایسے لوگوں کو تنگ نہ کریں جو کہیں کے نہ رہیں . جب دنیا چاروں اور سے مار ،مار کے کسی کو کارنر کردیتی ہے نا تو مالک کی رحمت کا ہاتھ اسکے سینے پر آ پڑتا ہے ، اب لڑ لے جس نے لڑنا ہے . غلط صحیح سے کیا ہوتا ہے یہ دیکھیں وہ کس کی سائیڈ پر ہے ؟

گناہوں کی حد کے پار جو سرحد ہے وہاں سے اسکا فضل شروع ہوتا ہے . آخری فائدہ جاری رکھیں۔ زندگی چلتی رہیگی ، کسی اور کے صدقے

— ذیشان الحسن عثمانی

اِک آگ کا دریا ہے ، اور ڈُوب کے جانا ہے

شہیدِ محبت حضرت حسین بن منصور حلاج رحمتہ اللہ علیہ:
تذکرۃ الاولیا میں مرقوم ہے کہ ’’حلاج کے کان، ناک کاٹ دیے گئے اس کے آخری کلام کے بعد اس کی زبان کاٹ دی گئی پھر نماز شام کے وقت اس کا سر تن سے جدا کردیا گیا۔‘‘ ایک اور روایت جو کچھ یوں ہے کہ ’’حلاج نے اپنے دونوں کٹے ہوئے خون آلود بازو اپنے چہرے پر ملے ان کا چہرہ خون سے دہکنے لگا جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ ایسا کیوں کررہے ہو ، کہنے لگے میرے جسم کا بہت خون بہہ چکا ہے جس سے میرا چہرہ زردپڑ گیا ہوگا میں نے اپنے چہرے کو سرخ اس لئے کیا تاکہ لوگ یہ نہ سمجھیں میرا چہرہ کسی ڈر یا خوف سے پیلا پڑ گیا ہوگا ۔ پھر لوگوں نے سوال کیا آپ نے چہر ہ تو سرخ کرلیا مگر اپنی کلائیوں کو خون سے تر کیوں کیا ۔جواب دیا کہ وضو کیلئے ۔ عشق میں دو رکعت کی نماز ہے جس کا وضو صرف خون سے ہی ہوتا ہے ۔

جب منصور کے ہاتھ، پاؤں ، بازو کاٹے جاچکے تھے اور آنکھیں نکال دی گئی تھیں جلاد نے ان کی زبان کاٹنے کیلئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو منصور نے کہا ٹھہر میں ایک بات کہہ لوں پھر آسمان کی طرف منہ اٹھا کے بولے یا الٰہی اس تکلیف پر جو یہ مجھ پر تیرے لئے روا رکھے ہیں انہیں محروم نہ رکھنا ۔ میں تیرے دیدار کیلئے آرہا ہوں، اب جلاد نے حامد کے کہنے پر اس کا سر کاٹنے کیلئے اپنا ہاتھ اٹھایا ساتھ ہی حلاج نے یہ کلمات ادا کئے ’’واجد کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ تیرے ساتھ ایک ہوجائے۔ میں تیرے دیدار کو آرہا ہوں۔‘‘ حلاج کا کٹا ہوا سر نیچے آن گرا اس کے جسم کو تیل سے تر کردیا گیا اور پھر آگ لگادی خاکستر کو ایک مینار سے دریائے دجلہ میں پھینک دیا گیا ۔

علامہ حضرت زکریا قزوینی لکھتے ہیں ’’ جب انہیں پھانسی دینے کے لیے لے جانے لگے تو انہوں نے ایک حاجب کو بلایا اور کہا کہ جب مجھے جلایا جانے لگے تو دجلہ کا پانی چڑھنا شروع ہوجائے گا اور قریب ہوگا کہ پانی بغداد کو غرق کردے جب تم یہ منظر دیکھو تو میری راکھ پانی میں ڈال دینا تاکہ پانی ساکت ہوجائے ۔ جب انہیں پھانسی دی گئی اور جلایا گیا تو دجلہ میں طغیانی آگئی حتی کہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ بغداد غرق ہوجائے گا تو خلیفہ نے کہا کیا تمہیں پتہ ہے کہ منصور حلاج نے اس بارے میں کچھ کہا تھا ۔ حاجب نے کہا ہاں امیر المومنین اس نے اسی طرح کہا تھا تب اس نے حکم دیا جیسا اس نے کہا تھا ویسا ہی کرو پھر انہوں نے راکھ پانی میں پھینک دی ۔ پانی کی سطح پر وہ راکھ اس طرح اکٹھی ہو گئی کہ اللہ لکھا ہوا نظر آتا تھا اور پانی ساکت ہوگیا ۔

یہ 309ھ کی بات ہے ۔ موت سے عین پہلے منصور حلاج نے آخری بات یہ کہی ’’اے رب اگر تو ان لوگوں کو بھی وہی کچھ دکھادیتا جو میں دیکھ رہا ہوں تو یہ مجھے کبھی سزا نہ دیتے اور اگر مجھ سے وہ چیز چھپا لیتا جو ان سے چھپا رکھی ہے تو میں کبھی اناالحق کا نعرہ نہ لگاتا ۔ اے اللہ میرے قاتلوں کو معاف کردے۔‘‘
واللہ اعلم

——————————————————

شہیدِ محبت حضرت حسین بن منصور حلاج رحمتہ اللہ علیہ
858ء ایران کے شہر طور میں پیدا ہوئے
والد کپڑا بنتے تھے، جن کی وجہ سے نسبت حلّاج پڑ گئی
بارہ برس کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا
بچپن ہی سے آیات کے باطنی معانی تلاش کرنے کا شوق تھا
بارہ برس کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا

874ء
سولہ برس کی عمر میں تعلیم مکمل کر لی، جس میں صرف و نحو، قرآن اور تفسیر شامل تھےاور تستر چلے گئے جہاں سہل التستری کےحلقہٴ ارادت میں شمولیت اختیار کر لی، جن کی تعلیمات نے ان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

876ء
اس زمانے کے تصوف کے اہم مرکز بصرے چلے گئے اور وہاں عمرو المکّی کے سلسلہٴ طریقت میں شامل ہوگئے۔

878ء
ابو ایوب الاقع کی بیٹی سے شادی کر لی ،بعد میں عمرو المکّی ان کا مخالف ہو گیا۔
کچھ عرصے بعد بغداد چلے گئے جہاں ان کی مشہور صوفی بزرگ جنید بغدادی؀ سے ملاقات ہوئی۔

897ء
دوسرا حج کرنے کے بعدبحری جہاز کے ذریعے ہندوستان کا سفر اختیار کیا۔جس کے دوران ہندو مت اور بدھ مت کے پیروکاروں سے واسطہ پڑا۔ ہندوستان میں انھوں نے ملتان اور منصورہ کا سفر کیا۔
بغداد واپسی پر جادو، افسوں طرازی اور جنات سے رابطے کے الزامات لگے
گلیوں بازاروں میں والہانہ انداز میں اشعار پڑھتے اور خدا سے عشق کا اظہار کرتے
خود کھانا کھانے کی بجائے اپنے سیاہ رنگ کا کتے کو کھلایا کرتے تھے، جس کو وہ اپنا نفس کہا کرتے تھے۔
اسی دوران ایک دن صوفی بزرگ شبلی کے دروازے پر دستک دی۔ جب شبلی نے پوچھا کون ہے، تو جواب میں یہ مشہور فقرہ کہا اناالحق۔

913ء
گرفتار کر لیا گیا اور نو برس تک نظر بند رکھا گیا
نظر بندی کے دوران کتاب الطواسین مکمل کی۔
آخر بارسوخ وزیر حامد العباس کی ایما پر مقدمہ چلایا گیا
قاضی ابوعمر ابن یوسف نے حکم نامہ جاری کر دیا گیا کہ تمہارا خون بہانا جائز ہے

25 مارچ 922ء
کی رات کو قید خانے میں ابنِ خفیف آکر ملے
پوچھا، عشق کیاہے؟
حلّاج نے جواب دیا، کل خود دیکھ لینا
26 مارچ 922ء

پہلے ان کو سولی دی گئ پھر ان کے ہاتھ کاٹے گئے، پھر پیرکاٹے گئے اور آخر میں سر قلم کر دیا گیا۔ اس کے بعد ان کی لاش پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی گئی اور راکھ دریائے دجلہ میں بہا دی گئی۔

ﭼﮍﮬﺎ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺳﻮﻟﯽ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻭﺍﻗﻒ ﺗﮭﺎ ﻭﮨﯽ ﺩﻟﺒﺮ–
ﺍﺭﮮ مُلّا ﺟﻨﺎﺯﮦ پڑھ، ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﮯ– ❤

جب منصور رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی نگاہِ حق بیں نے اس حقیقت کو پہچان لیا کہ

الا کل شیئی ما خلاللہ باطل
اللہ تعالٰے کی ذات کے سوا ہر شے باطل ہے۔

اور ذاتِ الٰہی ہی حق ہے، تو وہ اپنے نام تک کو بھول گئے لٰہذا جب ان سے سوال کہا گیا کہ تمہارا نام کیا ہے ؟
تو جواب دیا میں حق ہوں۔

منتہٰی میں ہے کہ محبت کا صدق تین چیزوں میں ظاہر ہوتا ہے، محب، محبوب کی باتوں کو سب کی باتوں سے اچھا سمجھتا ہے، اس کی مجلس کو تمام مجالس سے بہتر سمجھتا ہے اور اس کی رضا کو اوروں کی رضا پر ترجیح دیتا ہے۔

کہتے ہیں کہ عشق پردہ دری کرنے والا اور رازوں کا افشاء کرنے والا ہے اور وجد ذکر کی شیرنی کے وقت روح کا غلبہء شوق کا بار اٹھانے سے عاجز ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اگر وجد کی حالت میں انسان کا کوئی عضو بھی کاٹ دیا جائے تو اسے محسوس تک نہیں ہوگا

———————————–
من نمی گویم اناالحق یار می گوید بگو
چوں نگویم چوں مرا دلدار می گوید بگو

میں نہیں کہتا اناالحق ،یار کہتا ہے کہ کہہ
جب نہیں کہتا ہوں میں ،دلدار کہتا ہے کہ کہہ

اے صبا کہ پرسنت کز ما چہ می گوید معین
ایں دوئی را از میاں بر دار می گوید بگو

اے صبا تجھ سے وہ پوچھیں کچھ معین کہتا بهی تها
دور کرنے کو دوئی غم خوار کہتا ہے کہ کہہ

حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین سنجری چشتی رح
—————————————————-
دوستو! ہم نگاہوں کا کہنا مانتے ہیں

جن کی طرف پاک نگاہیں اُٹھ جاتی ہیں وہ کہیں بھی دھوکہ نہیں کھاتے
جیسے سیاہ ریشم پر سفید رنگ نہیں چڑھتا اور جیسا کہ کوّے سفید نہیں ہوتے
شاہ حسین وہ شہید ہوتے ہیں جو محبوب کی خاطر قربان ہو جاتے ہیں
شاہ حسین رح

حکیم میری نواؤں کا راز کیا جانے
ورائے عقل ہیں اہل جنوں کی تدبیریں

عبادت کے بهروسہ پرعبث ہےعمرکاکهونا
بجز فضل خدا ممکن نہیں ہے اولیاء ہونا

نہ مقامِ گفتگو ہے نہ محلِ جستجو ہے
نہ وہاں حواس پہنچیں نہ خِرد کو ہے رسائی

—————————————-

خرد، مذہبِ عشق کے بارے میں کچھ نہیں جانتی سو (مذہب عشق کے معاملات سے) حیران ہو جاتی ہے۔ اگرچہ خرد اور تو سب مذاہب کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے۔
مولانا رومی ر حمتہ اللہ علیہ ۔
جو دنیا کو پہچان لے گا وہ زاہد ہوجائے گا ، اور جو اللہ تعالیٰ کو پہچان لےگا وہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کو ہر چیز پر مقدم رکھے گا، اور جو اپنے ہی کو نہ پہچانے گا وہ تو زبردست غرور اور دھوکہ میں مبتلا رہے گا ۔

حضرت شیخ منصور رح
تذکرۃ الاولیاہ مضمون کاپی پیسٹ ہے مجھے ایک دوست نے واٹس اپ کیا تھا معلوم نہین کس نے تحریر کیا ہے مجھے اچھا لگا لہزا اس کو فیس بک پر شئیر کردیا

Jewels and Gems – 102

عربی کے مشہور ادیب علی طنطاوی رحمه الله فرماتے ہیں :
ایک مرتبہ مجھے یہ سوال تنگ کرنے لگا کہ کیا میں الله تعالٰی کے محبوب بندوں میں شامل ہوں یا نہیں؟؟؟

سوچتے سوچتے یکدم خیال آیا که قرآن میں ألله نے ان اوصاف اور کمالات کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے انسان الله تعالٰی کی نظر محبت کا مستحق ٹھہرتا ہے ..
چنانچہ میں ان صفات کو دہرانے لگا اور ذہن میں تصور کرنے لگا..

قرآن میں تھا کہ الله متقی اور پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے .. میں اپنے آپ کو پرہیزگاروں کی صف میں کھڑا کرنے کی جرات نہ کر سکا…

قرآن میں تھا کہ الله تعالی صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے .. مجھے اپنا دامن صبر سے خالی نظر آیا…

قرآن میں تھا کہ الله جہاد کرنے والوں سے محبت کرتا ہے .. مجھے اپنی سستی اور کم ہمتی سامنے کھڑی نظر آئی..

قرآن میں تھا کہ الله تعالٰی احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے …میں نے اپنے آپ کو اس سے بھی کافی دور پایا..

تب میں رکا اور مزید آگے بڑھنے کی ہمت نھیں ہورہی تھی اس خوف سے کہ کہیں میں الله کے محبوب بندوں میں شامل ہی نہ ہو … میں نے اپنے نامہ اعمال پر نظر ڈالی .. گناہوں سے.. خطاؤں سے سیاه کاریوں سے بھرا پایا…

میں مایوس ھونے ہی لگا تھا کہ خیال آیا که قرآن میں ہے :
ان الله یحب التوابین
کہ الله توبه کرنے والوں سے بھی محبت کرتا ہے ..

فوراً سمجھ گیا که یه آیت میرے لئے ہے اور مجھ جیسے دیگر خطاکاروں کے لئے اور رب کے حضور استغفار کرنے لگا تاکه اس کے محبوب بندوں کی فہرست میں شامل ہوجاؤں…

گِرے پڑے ہوئے لَفظوں کو مُحترم کردے

اپنے ناول راجہ گدھ میں بانو قدسیہ نے ایک کردار پروفیسر سہیل کی زبانی حرام اور حلال کے نظریے کو نہایت انوکھے انداز میں بیان کیا ہے۔

’جس وقت حرام رزق جسم میں داخل ہوتا ہے وہ انسانی جینز کو متاثر کرتا ہے۔ رزق حرام سے ایک خاص قسم کی میوٹیشن ہوتی ہے جو خطرناک ادویات، شراب اور ریڈی ایشن سے بھی زیادہ مہلک ہے۔ رزق حرام سے جو جینز تغیر پذیر ہوتے ہیں وہ لولے، لنگڑے اور اندھے ہی نہیں ہوتے بلکہ نا امید بھی ہوتے ہیں نسل انسانی سے۔ یہ جب نسل در نسل ہم میں سفر کرتے ہیں تو ان جینز کے اندر ایسی ذہین پراگندگی پیدا ہوتی ہے جس کو ہم پاگل پن کہتے ہیں۔ یقین کر لو رزق حرام سے ہی ہماری آنے والی نسلوں کو پاگل پن وراثت میں ملتا ہے اور جن قوموں میں من حیث القوم رزق حرام کھانے کا لپکا پڑ جاتا ہے وہ من حیث القوم دیوانی ہونے لگتی ہیں‘۔

اردو ادب کی شاہکار تصنیف ’راجہ گدھ‘ اور دیگر بے شمار لازوال تصانیف کی خالق بانو قدسیہ کی دوسری برسی آج منائی جا رہی ہے‘ داستان سرائے کی اس مکین کے رخصت ہونے سے اردو ادب ایک بے مثال و بے بدل مصنف سے محروم ہوگیا۔

الله کریم آپا کے درجات بلند فرمائیں!!!

— سیاہ پوش

“Big egos are big shields for lots of empty space.” – Diana Black

fb_img_15484316237581478396488.jpg

سادہ سا اِک کاغذ لے کر ، بُھولے بسرے پل لِکھ لینا ، اپنے سارے کل لِکھ لینا ، سارے دوست اکٹھے کرنا ، ساری صُبحیں حاضر کرنا ، ساری شامیں پاس بلانا ۔۔۔۔۔۔ اب کے برس کُچھ ایسا کرنا

آخری چند دن دسمبر کے

آخری چند دن دسمبر کے
ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانے میں
کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں

رفتگاں کےبکھرتے سالوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے

فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے

کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بدنما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں

دھیان کی سیڑھیوں میں کیا کیا عکس
مشعلیں درد کی جلاتے ہیں
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں

حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھے نشانوں پر
چاک کی لائنیں لگاتے ہیں

ہر دسمبر کے آخری دن میں
ہر برس کی طرح اب بھی

ڈائری ایک سوال کرتی ہے
کیا خبر اس برس کے آخر تک

میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گرد ماضی سے اٹ گئے ہونگے

خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفان سمٹ گئے ہونگے

ہردسمبر میں سوچتا ہوں میں
ایک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے

اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری ،دوست دیکھتے ہونگے

ان کی آنکھوں کے خاکدانوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
اور کچھ بے نشاں صفحوں سے

نام میرا بھی کٹ گیا ہوگا
(امجد اسلام امجد)

نام کہانی

جب لڑکیاں عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کے ناول پڑھیں۔۔۔۔

سہلی، ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ، ﮐﯿﺎ ﻧﺎﻡ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ؟
ﺑﺎﺭﯾﻔﺎﺯ –
ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ؟
ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﮈﻭﺑﺘﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﻭ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮬﺪﮬﺪ ﮐﯽ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ۔
ﺍﭼﮭﺎ؛ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺗﻮ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﻧﺎﻡ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ؟
ﺟﻤﺒﻮﻟﯿﻼ –
ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ؟
ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﺧﻮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺧﺸﮏ ﭘﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺁﻭﺍﺯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﺎ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺑﭽﮧ ﻣﻨﮧ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﺎ ﮨو!
😜😜😜

شہ رگ

میرے ایک استاد اونگارتی تھے ، میں ان کا ذکر پہلے بھی کرتا رہا ہوں – میں نے ان سے پوچھا کہ سر ” ایمان کیا ہوتا ہے ” انھوں نے جواب دیا کہ ” ایمان خدا کے کہنے پر عمل کرتے جانے اور کوئی سوال نہ کرنے کا نام ہے یہ ایمان کی ایک ایسی تعریف تھی جو دل کو لگتی تھی “
اٹلی میں ہمارے کمرے میں ایک بار آگ لگ گئی اور ایک بچا تیسری منزل پر رہ گیا شعلے بڑے خوفناک قسم کے تھے – اس بچے کا باپ نیچے زمین پے کھڑا بڑا بیقرار اور پریشان تھا اس لڑکے کو کھڑکی میں دیکھ کر اس کے باپ نے کہا “چھلانگ مار بیٹا ” اس لڑکے نے کہا بابا میں کیسے چھلانگ ماروں مجھے تو تم نظر ہی نہیں آ رہے اس کے باپ نے کہا ” تو چاہے جہاں بھی چھلانگ مار تیرا باپ تیرے نیچے ہے تو مجھے نہیں دیکھ رہا ” میں تو تمھیں دیکھ رہا ہوں نا !” اسی طرح الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” تم مجھے نہیں دیکھ رہے میں تو تمھیں دیکھ رہا ہوں “
اعتماد کی دنیا میں اترنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی شہ رگ کی بیٹھک اور شہ رگ کے ڈرائنگ روم کا کسی نہ کسی طرح آہستگی سے دروازہ کھولیں – اس کی چٹخنی اتاریں اور اس شہ رگ کی بیٹھک میں داخل ہو جائیں جہاں الله پہلے سے موجود ہے

از اشفاق احمد زاویہ ٣ شہ رگ کا ڈرائنگ روم

اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا ، ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

059d6ec92f710e46b9b41e9eaa3fd9c2-712378740.jpg

مطالعہ سورۃ کہف از حضرت شیخ ذوالفقار نقشبندی

حضرت شیخ ذوالفقار نقشبندی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ میں نے دو سال لگائے سورہ کہف کو سمجھنے میں اور ۱۲۰ تفاسیر کا مطالعہ کیا جن میں اردو اور عربی کی تفاسیر کا مطالعہ کیا اس کے علاوہ ایک فارسی تفسیر بھی تھی۔

ہم اس سورت کو صرف غار والوں کا واقعہ سمجھتے ہیں مگر اصل مدعا جو ہے اس کی طرف کسی کی نظر ہی نہیں گئی۔

تو اس سورت کامقصود/ لب لباب یا سینٹرل آئیڈیا کہہ لیں یہ ہے کہ اللہ اس دنیا میں لوگوں کو آٹھ طرح کے حالات سے آزماتے ہیں، عزت، ذلت، صحت، بیماری، نفع، نقصان، خوشی ، غمی۔
ہر بندہ ہر وقت ان میں سے کسی ایک حال میں ہوتا ہے۔ ان آٹھ کو اگر تقسیم کریں تو دو دو حالات میں تقسیم ہو ں گے۔ تو یا تو اچھے حالات ہوں گے یا برے۔ یعنی یا تو بندہ عزت میں ہوگا یا ذلت میں۔ یا صحت ہو گی یا بیماری۔ تو اللہ دو حالات میں آزماتے ہیں یا تو اچھے یا برے۔ کہ یہ بندہ اچھے حالات میں شکر کرتا ہے یا نہیں اور برے حالات میں صبر کرتا ہے یا نہیں۔
تو دو پیپر بنے ایک شکر کا پیپر اور دوسرا صبرکا پیپر۔ اب اگر بندے نے اچھے حالات میں شکر کیا تو اس نے پیپر کو پاس کیا اور اگر ناشکری کی تو اس پیپر کو فیل کیا ۔ اور اگر صبر کے پیپر میں صبر کیا تو پاس ہوا اور بے صبری کی تو فیل ہوگیا۔
یہ زندگی دار الامتحان ہے جہاں ہم نے دو پیپر دینے ہیں ایک صبر کا دوسراشکر کا۔
اللہ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کو بھی ان دو پیپرز میں آزمایا۔ پہلا شکر کا تھا جو کہ جنت کی نعمتیں تھیں، دوسرا درخت کا پھل تھا جو کھانے سے منع کیا گیا تھا تو یہ صبر کا پیپر تھا جس میں شیطان نے ان کو کامیاب نہ ہونے دیا۔
سورہ کہف میں پانچ واقعات ہیں۔
*حضرت آدم علیہ اسلام کاواقعہ۔
یہ قلب ہے اس سورت کا۔ آیتیں تھوڑی ہیں اس لیے پڑھنے والوں کی توجہ ہی نہیں جاتی۔
آدم علیہ السلام کے واقعہ سے پہلے دو واقعات عام الناس کے ہیں جن میں سے ایک اصحاب کہف تھے یہ عام نوجوان تھے اور انہوں نے صبر کا امتحان دیا اور اس پیپر میں پاس ہو کر مقبول بندوں میں شامل ہو گئے، دوسرا واقعہ دو باغوں والے شخص کا تھا یہ بھی عام شخص تھا جس کو مال و دولت دی گئی تھی اس کا پیپر شکر کا تھا کہ تم نے نعمتوں پر شکر کرنا ہے تو یہ فیل ہو گیا۔ اس کے بعد آدم علیہ السلام کا واقعہ اور پھر دو واقعات ہیں خواص کے۔ ایک موسٰی علیہ السلام کا کہ ان سے بھی صبر کا پیپر لیا گیا اور سکندر ذوالقرنین کا شکر کا پیپر تھا اور انہوں نے غرور و تکبر نہیں کیا اور شکر کا پیپر پاس کیا۔ اسی طرح اللہ اولاد آدم سے بھی صبر اور شکر کےپیپر لیتے ہیں۔
کچھ نکات

※ اللہ نے اس سورت کی شروعات میں اپنی الوہیت کا ذکر کیا اور ختم اپنی ربویت کے تذکرے پر کیا۔
※ شروع سورت میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت کا تذکرہ کیا اور اختتام ان کی بشریت پر کیا۔
※ انسان کے لیئے دنیا میں سب سے بڑی بلندی عبدیت ہے۔ اسی لیئے انسان ذکر کرتا ہے تاکہ اللہ کی محبت اس کے دل میں آ جائے۔ اب صرف محبت کا آ جانا مقصود نہیں ہے ، جب محبت آ جائے تو پھر محب ہمیشہ محبوب کو راضی کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ اور رضا کیا ہے اللہ کی تقدیر پر راضی رہنا، اگر اللہ اچھے حالات بھیجے تو شکر کرنا اور برے حالات میں صبر کرنا۔
جب بندے کو یہ مقامِ رضا حاصل ہو جائے تو پھر اس کو مقام عبدیت حاصل ہو جاتا ہے۔
※ عبد کا لفظ اللہ نے اپنے حبیب کے لیئے استعمال کیا۔
مفسرین کی نظر میں عبد وہ ہوتا ہے جس کو اپنے آقا کے سوا کچھ نظر نہ آئے۔ بعض کے نزدیک عبد وہ ہوتا ہے جو اپنے آقا سے کسی بات میں اختلاف نہیں کرتا ، ہر حال میں راضی رہتا ہے، شکوہ نہیں کرتا۔
※ چونکہ اس سورہ کو دجال سے حفاظت کے لیے پڑھنے کا ذکر احادیث میں آتا ہے۔ اس لیےکہ یہ ہمیں اس سے بچاتی ہے۔
※ پہلے دجال کے معنی کو سمجھیں کہ یہ دجل سے نکلا ہے دجل فریب کو کہتے ہیں اور ملمع سازی کرنے کو کہتے ہیں جس طرح تانبے پر سونے کا پانی چڑھا دیا جائے تو وہ اوپر سے کچھ ہو گا اور اندر سے کچھ ،اسی طرح دجال بھی اندر سے کچھ اور ہوگا اور باہر سے کچھ اور۔
آج کے دور میں اسی طرح دجالی تہذیب ہے کہ اوپر سے تو خوش نما نظر آتی ہے مگر اندر سے کچھ اور ہے۔ آج کے دور میں ایمان اور مادیت کی ایک جنگ چل رہی ہے۔ اب اس دور میں اگر اپنا ایمان بچانا ہے تو ہمیں بھی کہف میں گھسنا ہونا ہوگا۔ جی ہاں کہف میں!
※ آج کے زمانے میں پانچ کہف ہیں۔ اگر انسان ان میں داخل ہو جائے تو وہ دجال کے فتنے سے بچ سکتا ہے۔
※ ان میں پہلا کہف ہے مدارس
ان میں جو داخل ہو جائے وہ اپنا ایمان بچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
※ دوسرا اللہ والوں کی خانقاہیں
جو لوگ اللہ والوں سے جڑ جاتے ہیں تو وہ لوگ زمانے کے فتنے اور فساد سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔
※ تیسرا دعوت و تبلیغ کا کام
یہ بھی کہف کی مانند ہے۔ جو نوجوان صرف سہہ روزہ یا چلہ لگالیتے ہیں وہ نہ صرف اپنا بلکہ اپنے گھر والوں کا دین بھی محفوظ کر لیتے ہیں۔
※ چوتھا قرآن مجید
جو قرآن کے ساتھ نتھی ہو جاتا ہے اس کو پڑھنا ،سیکھنا ،سمجھنا شروع کر دیتا ہے تو وہ بھی اپنا دین بچا لیتا ہے اور قرآن اس کے لئیے کہف بن جاتا ہے۔
※ پانچواں مکہ اور مدینہ
یہ پانچواں کہف ہے۔ احادیث کے مطابق جو بھی ان میں داخل ہو جائے وہ بھی دجال سے محفوظ رہے گا۔
تو یہ پانچ کہف ہیں جن میں داخل ہونے سے انسان اپنے ایمان کو بچا لیتا ہے اور دجال سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

اس سورت کا ہر واقعہ ہمیں ایک سبق سکھاتا ہے کہ کس طرح ہم نے خود کو دجال سے بچانا ہے۔
※ اصحاب کہف کے قصے سے یہ سبق ملا کہ ہم کو اپنے ایمان کی حفاظت کے لئیے کسی نہ کسی کہف میں پناہ لینی ہے تاکہ ہم اپنا ایمان بچا لیں اور دجال سے محفوظ رہیں۔
اور ان پانچ کہف کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔

※ صاحب جنتین کے قصے سے یہ سبق ملا
کہ اللہ نے جو مال دیا اس کو اپنی طرف منسوب نہ کرے جیسا کہ اس باغ والے نے کیا اور پکڑ میں آ گیا اور اس نعمت سے محروم کر دیا گیا۔
※ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملا کہ یہ دنیا ہمارے لیئےدار اقامت ہے ہمارا اصلی وطن جنت ہے دنیا میں رہ کر دنیا کو اپنا اصلی وطن سمجھ لینا اور ساری محنتیں اور ساری امیدیں دنیا پر لگا دینا بےوقوفی کی بات ہے۔ شیطان بدبخت نے ہمیں چھوٹی قسمیں کھا کھا کر اصلی وطن سے نکالا تھا اب یہاں بھی یہ ہمارا دشمن ہے اور ہم سے گناہ کرواتا ہے تاکہ دوبارہ جنت میں جانے کے قابل نہ رہیں۔ اللہ شر سے بچائے اور ہمارے اصلی گھر جنت میں پہنچا دے۔ آمین
※ موسٰی علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہم دنیا میں جتنا بھی علم حاصل کر لیں ،دنیا میں کوئی نا کوئی ہم سے بھی بڑھ کر جاننے والا ہوگا۔
انسان کبھی بھی اشیاء کی حقیقت کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
جب ہم یہ سمجھیں گے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں تو پھر ہم دجال فتنے میں پھنس جائیں گے اس لیے اللہ نے موسی علیہ السلام کا واقعہ بیان کر دیا تاکہ ہم لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ہمیں سب پتا ہے بلکہ یہ کہیں کہ اللہ ہی حقیقت حال کو جانتے ہیں۔
علم اوربھی اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے، اسی لیئے سورہ کہف انسان کو دجال کے فتنے سے محفوظ رکھتی ہے اور اس کی ذہن سازی کرتی ہے اور ایسا ذہن بناتی ہے کہ بندہ کا ذہن محفوظ ہو جاتا ہے۔
※ حضرت ذوالقرنین کے واقعے سےسبق ملا
حضرت ذوالقرنین جہاں گئے وہ ان کے کوئی دوست رشتے دار نہیں تھے یا کوئی جاننے والے نہیں تھے کیوں کہ وہ تو ان کی زبان تک نہیں جانتے تھے لیکن پھر بھی انہوں نے ان لوگوں کی مدد کی کیوں کہ وہ اللہ کی رضا کے لیئے اللہ کے بندوں کے بندوں کو نفع پہنچاتے تھے۔ ان سے کوئی پیسہ وغیرہ نہیں مانگتے تھے بلکہ جب انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس کے لیئے پیسے دیں گے تو انہوں نے انکار کر دیا۔ دوسرا یہ کہ وہ اللہ کی زمین پراللہ کا قانون نافذ کرتے تھے۔ جب ان کو اختیار دیا گیا کہ آپ اس قوم کے ساتھ جو سلوک چاہیں کریں مطلب چاہیں تو سزا دیں یا اچھا سلوک کریں تو انہوں نے اس قوم کو اللہ کی طرف بلایا تھا اور اپنے اختیار/ طاقت کو اللہ کے قانون کے نفاذ میں استعمال کیا۔

※ سورہ کہف میں پہلے پانچ واقعات بیان کر کے بندے کے ذہن سازی کی گئی اور اب آخری آیات میں اس ساری سورت کا نچوڑ بیان کی جا رہا ہے جو کہ تین باتیں ہیں :۔
1-جو لوگ دنیا ہی کو بنانے میں لگے رہتے ہیں درحقیقت وہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔ ہر وقت دنیا اور اس کی لذات کو پانے کی فکر میں رہنا ہے دجالی فتنہ ہےلہذا فقط دنیا ہی کی فکر میں نا رہیں بلکہ آخرت کی بھی سوچیں۔

2-اس کے بعد اللہ نے اپنی صفات کو بیان فرمایا کہ اگر تم اہنے رب کی تعریفوں کو بیان کرو اور سمندر سیاہی بن جائیں اور دوسرا سمندر بھی اس میں ڈال دیا جائے تو تم پھر بھی اپنے رب کی تعریف بیان نہ کرسکو گے۔

3- آخر میں بتایا کہ جو اپنے رب کا دیدار کرنا چاہے، جو کہ سب سے بڑی اور سب سے بڑھ کر نعمت ہے، اس کا کیا طریقہ بتایا کہ وہ شخص دو کام کرے ایک نیک عمل اور دوسرا اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے اور جو ایسا کرے گا اللہ اس کو اپنا دیدار عطا کریں گے۔
اللہ ہمیں بھی اپنا دیدار عطا فرمائے۔ آمین

سر طور ہو سر حشر ہو ہمیں انتظار قبول ہے،
وہ کبھی ملیں، کہیں ملیں، وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی۔

ماخوذ از بیان
*حضرت شیخ ذوالفقار نقشبندی*
*دامت برکاتہم*

تحریر: ج- ش

دعا کی درخواست ہے۔

یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں

IMG-20181117-WA0006.jpg