تِرا در ہو، مِرا سر ہو ، مِرا دِل ہو ، تِرا گھر ہو

http://www.journalisteye.com/the-man-who-designed-makkah-madina-masajid/

بلقیس پاسباں ہے یہ کس کی جناب ہے

اور نبی ﷺ نے فرمایا، اے جان سے پیاری فاطمہؑ، سونے سے پہلے چار کام ضرور انجام دیا کرو۔

 ختم قرآن کرو ۔ پیغمبروں کو اپنے لئے شفیع قرار دیں ۔ مومنین کو خود سے راضی کرو ۔ حج و عمرہ کو انجام دو۔

 اس کے بعد پیغمبر اسلام(ﷺ) فرماتے ہیں، جب آپ تین مرتبہ سورہ اخلاص تلاوت کریں تو پورے ختم قرآن کا ثواب ہے۔ ۔ اور جب مجھ پر اور انبیاء ما سلف پر درود بھیجیں تو قیامت تک آپ شفیع ہیں۔  اور جب مومنین کیلئے استغفار کریں گی تو وہ آپ سے راضی ہوجائیں گے۔ ۔ اور جب مذکورہ دعا تلاوت کریں گی تو گویا حج و عمرہ انجام دیا ہے۔

سبحان اللّٰہ والحمدللہ ولا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر


صحیفۂ زہراء ؑ۔

آسانی

One of the companions asked: “O Messenger of Allah, the laws of Islam have become many for me, so tell me something which I can cling on to.”

He ﷺ replied: “Always keep your tongue moist with the remembrance of Allah.”

(Tirmidhī)

ہے غیر ممکن کہ اُن کے در سے کوئی سوالی بھی آئے خالی ، قسیم جنت قسیم کوثر قسیم دُنیا جناب زہراؑ

حبب الٰھی من دنیاکم ثلاث : تلاوة کتاب اللہ و المنظر فی وجہ رسول اللہ

و الانفاق فی سبیل اللہ 

حضرت فاطمہ زہرا (ع) فرماتی ہیں 

 میرے نزدیک تمہاری اس دنیا میں تین چیزیں محبوب ہیں: تلاوت قرآن مجید ، زیارت چہرہ رسول خدا  اور راہ خدا میں انفاق ۔

مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز ، از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز

اچھے اخلاق اور پسندیدہ کاموں کے حصول میں دعا

پروردگارا!آپ غیب سے بھی واقف ہیں اور تمام موجودات پر قادر و توانا۔ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لئے مفید ہے اور مجھے اس وقت موت دے جب خیرو نیکی کو میری موت میں دیکھے۔

خداوند! خوشی و غمی میں اخلاص اور تجھ سے ڈرتے رہنے اور فقر و ثروت مندی سے میانہ روی کی خواستگاہوں اور تجھ سے ایسی نعمت مانگتی ہوں جو ختم نہ ہو۔ اور تم سے ایسی چیز کی طلبگار ہوں جو مجھے خوش کرے اور ختم نہ ہو۔

اے اللہ میں تیری بارگاہ میں دعا کرتی ہوں کہ اس دنیا میں تیری رضا پر راضی رہنے کی توفیق عنایت فرما اور مرنے کے بعد اجھی زندگی عطا فرما اور ملاقات کے شیدائی کو اپنا دیدار نصیب فرما۔ ایسا دیدار جس میں کسی قسم کا رنج و الم نہ ہو۔

اے پروردگارا!ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما اور ہمیں ہدایت دینے والا قرار دے اور صحیح ہدایت کرنے والا قرار دے تاکہ تیری ہدایت ہمارے شامل حال ہو۔ اے دونوں جہاں کے پالنے والے۔


صحیفۂ زہراءؑ

وہ ایسی مشعل ہے جس کی کِرنوں سے آگہی کے اُصول چمکے ، اسی کے دم سے زمانے بھر کی جبیں پہ نامِ رسول چمکے

اللہ سبحانہ کی تسبیح و تقدیس میں

پاک ہے وہ ذات جو صاحب عزت اور سر بلند و سرفراز ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو جلالت اور بزرگی کی مالک ہے۔

پاک ہے وہ ذات جس کی بادشاہی ہمیشہ رہنے والی ہے۔

پاک ہے وہ ہستی جس نے خود کو خوبصورت ترین لباس پہنا رکھا ہے۔

پاک ہے وہ ذات جس نے خود کو نور اور وقار کے ساتھ چھپا رکھا ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو چیونٹی کے قدموں کے نشان سخت پتھر پر دیکھتی ہے۔

پاک ہے وہ ذات گرامی جو ہوا میں تیرنے والے پرندوں کو دیکھتی ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو اس طرح ہے کہ کوئی بھی اس طرح نہیں۔

دوسری روایت میں نقل ہے

پاک ہے وہ ذات جس کی حکومت تمام تر افتخارات کے ساتھ ہمیشہ رہنے والی ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو جلالت و عظمت کی مالک ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو خوبصورتی اور زیبائی کی مالک ہے۔

پاک ہے وہ ہستی جس نے خود کو نور اور وقار کے پردے میں چھپا رکھا ہے۔

پاک ہے وہ ذات گرامی جو چیونٹی کے قدوں کے نشان صاف پتھرپر اور ہوا میں محو پرواز پرندوں کو دیکھتی ہے۔

 ہر مہینے کے تیسرے دن میں تسبیح و تقدیس

پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی قوت و قدرت کے ساتھ جہاں کو منور کیا۔

پاک ہے وہ ذات جو سات آسمانوں میں مخفی ہے اور اس طرف سے کہ کوئی آنکھ اس کو نہیں دیکھ سکتی۔

پاک ہے وہ ذات جس نے بندوں کو موت کے ساتھ ذلیل کیا اور خود کو زندہ جاوید کی صفت سے عزیز و گرامی بنایا۔

پاک ہے وہ ذات جو ہمیشہ زندہ رہے گی اور بقیہ سب کچھ فنا ہوجائے گا۔

پاک ہے وہ ذات جس نے حمد و ستائش کو اپنے ساتھ مخصوص قرار دیا۔ اور اس پر راضی ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو زندہ اور دانا ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو بردباد اور بزرگوار ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو حقیقی بادشاہ اور برائیوں سے مبرا ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو بزرگ و برتر ہے۔

پاک ہے وہ ذات کہ حمد و ستائش اسی کے ساتھ مخصوص ہے۔


صحیفۂ زہراءؑ

اے خاصۂ خاصانِ رُسل ﷺ ، وقتِ دُعا ہے

hudikhuwan

دعا درد کے اماوس بھرے آسمان پر سکون کا چاند بن کر نکلتی ہے، دعا دکھوں کے برفیلے پہاڑوں پر چین کا سورج بن کر طلوع ہوتی ہے، دعا اندھیرے راستوں کا جگنو ہے، جنگلوں کا راستہ ہے، سمندروں کے سفر میں سمت کا ستارہ اور امید کا استعارہ ہے، بوجھل اور پژمردہ دلوں کی راحت ہے، دعا طاقت ہے رفعت ہے اور رحمتوں کا زینہ ہے۔ دعا مومن کیلئے اللہ کی بہترین نعمت کی مانند ہے لیکن آج کل ہم اللہ سے دعا مانگتے ہوئے اپنئے اسباب ذیاده مدنظر رکھتے ہیں اور اللہ کی رحمت اور اس کی وسعت کو کم ، اسی لئے دعا کے بعد بھی سکون نہیں ملتا۔

افسوس آج ہماری دعاؤں کو بھی دعا کی ضرورت ہے دعا کا مغز احتیاج ہے اور انسانی فطرت میں محتاجی سب سے طاقتور عنصر ہے ہم ہر حال میں اللہ کے محتاج ہیں اسی لئے دعا سکون بخشتی…

View original post 559 more words

ظاہر ہو تو ہر برگِ گُلِ تَر تِری خُوشبو ، غائب ہو تو دنیا کو سراپا نہیں مِلتا ، وہ اِسم کہ جس اِسم کو لب چُوم لیں ہر بار ، وہ جسم کہ سُورج کو بھی سایہ نہیں ملتا ۔۔ ﷺ

3e94a613868185.562797b60bafc

“The Message of the Qur’an”…

http://www.muhammad-asad.com/Message-of-Quran.pdf


English translation and interpretation of the Qur’an by Muhammad Asad

جہاں میں رمزِ شعورِ وحدت کی عارفہ ہے، اَمیں ہے زہراؑ ، مباہلہ کی صفوں میں دیکھو تو دیں کی فتحِ مبیں ہے زہراؑ

اللہ سبحانہ کی تسبیح و تقدیس میں

پاک ہے وہ ذات جو صاحب عزت اور سر بلند و سرفراز ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو جلالت اور بزرگی کی مالک ہے۔

پاک ہے وہ ذات جس کی بادشاہی ہمیشہ رہنے والی ہے۔

پاک ہے وہ ہستی جس نے خود کو خوبصورت ترین لباس پہنا رکھا ہے۔

پاک ہے وہ ذات جس نے خود کو نور اور وقار کے ساتھ چھپا رکھا ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو چیونٹی کے قدموں کے نشان سخت پتھر پر دیکھتی ہے۔

پاک ہے وہ ذات گرامی جو ہوا میں تیرنے والے پرندوں کو دیکھتی ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو اس طرح ہے کہ کوئی بھی اس طرح نہیں۔

دوسری روایت میں نقل ہے

پاک ہے وہ ذات جس کی حکومت تمام تر افتخارات کے ساتھ ہمیشہ رہنے والی ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو جلالت و عظمت کی مالک ہے۔

پاک ہے وہ ذات جو خوبصورتی اور زیبائی کی مالک ہے۔

پاک ہے وہ ہستی جس نے خود کو نور اور وقار کے پردے میں چھپا رکھا ہے۔

پاک ہے وہ ذات گرامی جو چیونٹی کے قدوں کے نشان صاف پتھرپر اور ہوا میں محو پرواز پرندوں کو دیکھتی ہے۔


صحیفۂ زہراء

حیا کی دیوی وفا کی آیت حجاب کی سلسبیل زہراؑ ، کہیں ہے معصومیت کا ساحل کہیں شرافت کی جھیل زہراؑ ، جہانِ موجود میں بنی ہے وجودِ حق کی دلیل زہراؑ ، زمانے بھر کی عدالتوں میں نِساء کی پہلی وکیل زہراؑ

 ہر نماز کے بعد

سبحان اللہ دس مرتبہ

الحمد اللہ دس مرتبہ

اللہ اکبر دس مرتبہ

ؑ تسبیح جناب سیدہ

اللہ اکبر چونتیس بار

الحمد اللہ تینتیس بار

سبحان اللہ تینتیس بار

لا الہ الا اللہ ایک مرتبہ

یہ وہ ندی ہے جو آدمیّت کی مملکت میں رواں ہوئی ہے ، یہ وہ شجر ہے کہ جس کی چھاؤں میں خود شرافت جواں ہوئی ہے

امام جعفرصادق سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہؑ کے نو نام ہیں، فاطمہ، صدیقہ، مبارکہ، طاہرہ، ذکیہ، راضیہ، مرضیہ، محدثہ، زہرا۔


صحیفۂ فاطمہ زہراء

دُنیا و دیں میں جِس کو مُعلّیٰ نسب مِلے ، خالق کی بارگاہ سے حیدرؑ لقب مِلے

غوث، قطب، ابدال، قلندر سب کی منزل ایک

تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا ۔۔ نہ بن سکی ہے، نہ بن سکے گا، مثال تیری جواب تیرا

تُعانقُهُ الغُيومُ إذا تدلَّى
وتتبعُهُ النُّجومُ إذا تعلَّى

—جب وہﷺجھکتا ہے تو بادل اس سے معانقہ کرتے ہیں۔جب وہﷺبلند ہوتا ہے تو ستارے اس کے پیچھے چلتے ہیں


From Silly

یہ وہ کلی ہے کہ جس کی خوشبو کو سجدہ کرتی ہیں خود بہاریں ، یہ وہ ستارہ ہے جس سے روشن ہیں آسمانوں کی رہگزاریں ، یہ وہ سحر ہے کہ جس کی کرنیں بھی ہیں امامت کی آبشاریں ، یہ وہ گُہر ہے کہ جس کا صدقہ فلک سے آکر مَلک اُتاریں

(The Hand of Fatima, AS)

We forget the face
but wear the silver hand,
forget the look
of a lighthouse,
but recall the beam;
witness being lifted
on clear digits of light.

We concede
her rescuing face.
Like her father’s,
we say. But we cannot
see either one.

Ya falak!
We swim as stars
in orbit round his
daughter, a lamp
of whispered mercy.

When she extends
her hand, we are
met in unforgettable
touch.


Silver Hand

Definitions – 158

Ibn Ata said:

“Supplication (Du’a) has pillars, wings, means and moments…

The pillars of du’a are presence of the mind, softness of the heart, humility, serenity, and a strong connection of the heart with Allah…

Its means are invoking blessings upon the Prophet ﷺ”

​ جہانِ انسانیّت میں توحید کا مقدس خیال زہرا​ ، شرف میں وحدت ادا امامت جبیں نبوّت جمالِ زہرا​ ، ہو جس پہ نازاں دلِ مصور وہ نقشِ حُسنِ کمال زہرا​ ، خدائے بےمثل کی خدائی میں تاابَد بے مثال زہرا​ ​

ٖFatima lived like this and died like this. After her death, she began a new life in history. Fatima appears as a halo in the visages of all of the oppressed that later be­come the multitudes of Islam. All of the usurped, extort­ed, oppressed, sufferers; all of those whose rights have been destroyed and sacrificed by pressure and have been deceived: had the name of Fatima as their slogan.

The memory of Fatima grew with the love, emotions and wonderful faith of the men and women, who through­out the history of Islam, fought for freedom and justice. Throughout the centuries they were nourished under the merciless and bloody lashes of the Caliphates. Their cries and anger grew and overflowed from their wounded hearts.

This is why in the history of all Moslem nations and among the deprived masses of the Islamic community, Fatima is the source of the inspiration for freedom, the desire of that which is a right, the seekers of justice, the resisters of oppression, cruelty, crime and discrimination.

It is most difficult to speak about the personality of Fatima. Fatima is the woman that Islam wants a woman to be. The concept of her visage is painted by the Prophet himself. He melted her and made her pure in the fire of difficulties, poverty, resistance, deep understanding and the wonder of humanity.

She is a symbol in all the various dimensions of being a woman.

The symbol of a daughter when facing her father.

The symbol of a wife when facing her husband.

The symbol of a mother when facing her children.

The symbol of a responsible, fighting woman when facing her time and the fate of her society.

She herself is an Imam, a guide, that is, an outstand­ing example of someone to follow, an ideal type of woman and one who bears witness to any woman who wishes to ‘become herself’ through her own choice.

She answers the question of how to be a woman with her wonderful childhood, her constant struggling and resis­ting on two fronts, inside and out, in the home of her father, in the home of her husband, in her society, in her thoughts and behavior and in her life.

I do not know what to say. I have said a great deal. Still much remains unsaid.

In the expression of all of the amazing aspects of the great spirit of Fatima, that which causes the most wonder in me, is this that Fatima is the traveling companion, steps in the same steps, flies together with the great spirit of Ali, through the ascension of humanity towards completeness and the stages of the descent of the spirit and the psyche.

She was not just a wife to Ali. Ali looked upon her as a friend, a friend who was familiar with his pains and his great wishes. She was his endless refuge, the one who listened to his secrets. She was the only companion of his loneliness. This is why Ali looked at her with another look and also at her children.

After Fatima, Ali took other wives and he had child­ren from them. But from the beginning, he separates the children who were from Fatima from his other children. The latter are called ‘BaniAli’,[that is, sons of Ali] and the former, ‘Bani Fatima’ [the children of Fatima].

Isn’t it strange! When face to face with their father, and he, Ali, the children are related to Fatima. And we saw that the Prophet also saw her with different eyes. From among all of his daughters he would only discipline Fatima. He only relies upon her. From an early age, she accepted the great invitation.

I do not know what to say about her. How to say it? I wanted to imitate the French writer who was speaking one day in a conference about the Virgin Mary. He said, ‘For 1700 years all of the speakers have spoken of Mary. For 1700 years, ail philosophers and thinkers of various nations of the East and West have spoken of the values of Mary. For 1700 years, the poets of the world have expressed all of their creative efforts and power in their praise of Mary. For 1700 years, all of the painters and artists have created wonderful works of art showing the visage and states of Mary. But the totality of all that has been said, thought and the efforts of all the artist throughout all of these many centuries were not able to sufficiently describe the greatness of Mary as these words, ‘Mary was the mother of Jesus Christ’.’

And I wanted to begin in this manner with Fatima. I got stuck. I wished to say, ‘Fatima is the daughter of the great Khadijah.’ I sensed it is not Fatima. I wished to say, ‘Fatima is the daughter of Muhammad (‘s).’ I sensed it is not Fatima. I wished to say, ‘Fatima is the wife of Ali (‘a).’ I sensed it is not Fatima. I wished to say, ‘Fa­tima is the mother of Hasan and Husayn.’ I sensed it is not Fatima. I wished to say, ‘Fatima is the mother of Zaynab.’ I still sensed it is not Fatima.

No, these are all true and none of them are Fatima.

Fatima is Fatima.


[Fatima is Fatima – Ali Shariati]

سنگِ درِ حبیبؐ ہے اور سر غریب کا ، کِس اوج پر ہے آج سِتارہ نصیب کا ۔۔ اب احتساب میرے گناہوں کا چھوڑیئے ، اب واسطہ دیا ہے تُمہارے حبیبؐ کا

کافر عشق ہوں میں بندہ اسلام نہیں
بت پرستی کےسوا اور مجھے کام نہیں
عشق میں پوجتا ہوں قبلہ و کعبہ اپنا
اک پل دل کو میرے اس کے بنا آرام نہیں
ڈھونڈتا ہے تو کدھر یار کو میرے ایماہ
منزلش در دلِ ما ہست لبِ بام نہیں
بوالہوس عشق کو تو خانہ خالہ مت بوجھ
اُسکا آغاز تو آسان ہے پر انجام نہیں
پھانسنے کو دلِ عشاق کے اُلفت بس ہے
گہیر لینے کو یہ تسخیر کم از دام نہیں
کام ہو جائے تمام اُسکا پڑی جس پہ نگاہ
کشتہ چشم کو پھر حاجتِ صمصام نہیں
ابر ہے جام ہے مینا ہے می گلگون ہے
ہے سب اسبابِ طرب ساقی گلفام نہیں
ہائے رے ہائے چلی جاتی ہے یوں فصل بہار
کیا کروں بس نہیں اپنا وہ صنم رام نہیں
جان چلی جاتی ہے چلی دیکھ کے یہ موسم گُل
ہجر و فرقت کا میری جان پہ ہنگام نہیں
دل کے لینے ہی تلک مہر کی تہی ہم پہ نگاہ
پھر جو دیکھا تو بجز غصہ و دشنام نہیں
رات دن غم سے ترے ہجر کے لڑتا ہے نیاز
یہ دل آزاری میری جان بھلا کام نہیں


حضرت شاہ نیاز​

Jewels and Gems – 144

Anas ؓ relates:

“A man asked the Rasulullah ﷺ about the Hour (i.e. Day of Judgment) saying, “When will the Hour be?”

Rasulullah ﷺ said, “What have you prepared for it?”

The man said, “Nothing, except that I love Allah and His Apostle.”

Rasulullah ﷺ said “You will be with those whom you love.”

We had never been so glad as we were on hearing that.

Therefore, I love Rasulullah ﷺ, Abu Bakrؓ  & Umar ؓ and I hope that I will be with them due to my love for them though my deeds are not similar to theirs.

(Bukhari)

حُسنِ یوسف پر زلیخا مِٹ گئیں ، آپؐ پر اللہ پیارا ہو گیا

اغر علیہ للنبوتہ خاتم

من اللہ مشھود، یلوح و یشھد

وضم الا لہ اسم النی الی اسمہ

اذ قال فی الخمس الموذن اشہد

و شق لہ من اسمہ لیجلہ

فذو العرش محمود وھذا محمد

نی اتانا بعد یاس و فترت

من لارشل والا و ثان فی الارض تعبد

فامسی سراج مستنیرا و ھادیا

یلوح کما لاح الصقیل المھند

وانذرنا نارا و بشر جنتہ

وعلمنا السلام فاللہ تحمد

وانت الہ الخلق ربی و خالقی

بذلک ما عمرت فی الناس اشھد

تعالیت رب الناس من قول من دعا

سواک الھا انت اعلی و امجد

لک الخق والنعماء والامر کلہ

بایاک نستھدی و ایاک نعبد

ترجمہ

۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر مہر نبوت درخشا ہے ۔ اللہ کی طرف سے دلیل چمکتی ہے اور گواہی دیتی ہے

۔ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام اپنے نام سے مربوط کر دیا اس لئے موذن پانچوں وقت اذان میں اشھد کہتا ہے

۔ اللہ نے اپنے نام سے اپنے پیغمبر کا نام نکالا عرش والا محمود [خدا] ہے اور یہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں

۔ یہ ایسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو نا امیدی اورانبیاء کے سلسلہ ءِ بعثت کے طویل وقفے کے بعد ہم تک آئے ہیں اوراس وقت آئے جب زمین پر بتوں کی پرستش ہو رہی تھی

۔ یہ ایک روشن چراغ، روشنی دینے والے اور ہادی بن کرآئے ۔ جن کی چمک ایسی ہے جیسے ہندی تلوار چمکتی ہے

۔ ہمیں جہنم سے ڈرایا، جنت کی بشارت دی ، اسلام سکھایا ۔ پس اللہ ہی ہے جس کی ہم حمد کرتے ہیں

۔ اورساری مخلوق کا معبود میرا رب اور خالق ہے ۔ ہم زندگی بھر اس کی شہادت دیتے رہیں گے

۔ سارے جہاں کے رب۔ تیری شان بڑی ہے اور تو بلند ہے اس شخص کے قول سے جو تیرے سوا کسی کو پکارتا ہے ۔ تو بہت بلند اور بڑائیوں والا ہے

۔ حیات بخشی اور نفع رسانی اور ساری حکمرانی صرف تیری ہے ۔ ہم تجھ ہی سے ہدایت خواہ ہیں اور تیری ہی عبادت کرتے ہیں


حسّان بن ثابتؓ

میں تُجھ کو چاہوں اور اتنا چاہوں کہ سب کہیں تیرا نقشِ پا ہوں ، تِرے نشانِ قدم کے آگے کوئی حسیں رہگزر نہ ٹھہرے

محبوبِ کائنات ، محمد بن عبداللہﷺ۔ کہ جن پر خالق و مخلوق کا درود و سلام۔

مدو جزر کے شرمساری کے آنسو اور مُحبت کی اُمید بھری مُسکراہٹیں آپ ﷺ کی نذر۔

الصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ


لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا

جگ راج کو تاج تورے سر سوہے تجھ کو شہ دوسرا جانا

آپ کی مثل کسی آنکھ نے نہیں دیکھا نہ ہی آپ جیسا کوئی پیدا ہوا ۔ سارے جہان کا تاج آپ کے سر پر سجا ہے اور آپ ہی دونوں جہانوں کے سردار ہیں

اَلبحرُ عَلاَوالموَجُ طغےٰ من بیکس و طوفاں ہوشربا

منجدہار میں ہوں بگڑی ہے ہواموری نیا پار لگا جانا

دریا کا پانی اونچا ہے اور موجیں سرکشی پر ہیں میں بے سروسامان ہوں اور طوفان ہوش اُڑانے والا ہے۔ بھنورمیں پھنس گیا ہوں ہوا بھی مخلالف سمت ہے آپ میری کشتی کو پار لگا دیں

یَا شَمسُ نَظَرتِ اِلیٰ لیَلیِ چو بطیبہ رسی عرضے بکنی

توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی مری شب نے نہ دن ہونا جانا

اے سورج میری اندھیری رات کو دیکھ تو جب طیبہ پہنچے تو میری عرض پیش کرنا ۔ کہ آپ کی روشنی سے سارا جہان منور ہو گیا مگر میری شب ختم ہو کر دن نہ بنی

لَکَ بَدر فِی الوجہِ الاجَمل خط ہالہ مہ زلف ابر اجل

تورے چندن چندر پروکنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا

آپ کا چہرہ چودھویں کے چاند سے بڑھ کر ہےآپ کی زلف گویا چاند کے گرد ہالہ (پوش)ہے ۔ آپ کے صندل جیسے چہرہ پر زلف کا بادل ہے اب رحمت کی بارش برسا ہی دیں

انا فِی عَطَش وّسَخَاک اَتَم اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم

برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا

میں پیاسا ہوں اور آپ کی سخاوت کامل ہے،اے زلف پاک اے رحمت کے بادل ۔ برسنے والی بارش کی ہلکی ہلکی دو بوندیں مجھ پر بھی گرا جا

یَا قاَفِلَتیِ زِیدَی اَجَلَک رحمے برحسرت تشنہ لبک

مورا جیرا لرجے درک درک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا

اے قافلہ والوں اپنے ٹھہرنے کی مدت زیادہ کرو میں ابھی حسرت زدہ پیاسا ہوں ۔ میرا دل طیبہ سے جانے کی صدا سن کر گھبرا کر تیز تیز ڈھڑک رہا ہے

وَاھا لسُویعات ذَھَبت آں عہد حضور بار گہت

جب یاد آوت موہے کر نہ پرت دردا وہ مدینہ کا جانا

افسوس آپ کی بارگاہ میں حضوری کی گھڑیاں تیزی سے گزر گئی ۔ مجھے وہ زمانہ یاد آتا ہے جب میں سفر کی تکالیف کی پرواہ کئے بغیر مدنیہ آ رہا تھا

اَلقلبُ شَح وّالھمُّ شجوُں دل زار چناں جاں زیر چنوں

پت اپنی بپت میں کاسے کہوں مورا کون ہے تیرے سوا جانا

دل زخمی اور پریشانیاں اندازے سے زیادہ ہیں،دل فریادی اور چاں کمزور ہے ۔ میراے آقا میں اپنی پریشانیاں کس سے کہوں میری جان آپ کے سوا کون ہے جو میری سنے

اَلروح فداک فزد حرقا یک شعلہ دگر برزن عشقا

مورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جان بھی پیارے جلا جانا

میری جان آپ پر فدا ہے،عشق کی چنگاری سے مزید بڑھا دیں ۔ میرا جسم دل اور سامان سب کچھ نچھاور ہو گیا اب اس جان کو بھی جلا دیں

بس خامہ خام نوائے رضا نہ یہ طرز میری نہ یہ رنگ مرا

ارشاد احبا ناطق تھا، ناچار اس راہ پڑا جانا 

رضا کی شاعری نا تجربہ کاراور قلم کمزور ہے ، میرا طور طریقہ اور انداز ایسا نہیں ہے ۔ دوستوں کے اصرار پر میں نے اس طرح کی راہ اختیار کی یعنی چار زبانوں میں شاعری کی


امام احمد رضا خان بریلوی


http://www.youtube.com/watch?v=2VX8FFrh388


 

کُھلی ہوں آنکھیں کہ نیند والی ، نہ جائے کوئی بھی سانس خالی ، درُود جاری رہے لبوں پر ، یہ سلسلہ لمحہ بھر نہ ٹھہرے

ز جام حب تو مستم ، با زنجیر تو دل بستم

ںا می گویم کہ من بستم سخن دا، یا رسول اللہ

آپ کی محبت کا جام پی چکا ہوں،آپ کی عشق کی زنجیر میں بندھا ہوں ۔ پھربھی میں نہیں کہتا کہ عشق کی زبان سےشناسا ہوں ، یا رسول اللہ ﷺ 


جامی

وہی ہے اوّل وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر ، اُسی کے جلوے اُسی سے ملنے اُسی سے اس کی طرف گئے تھے

 

سُبۡحٰنَ الَّذِىۡۤ اَسۡرٰى بِعَبۡدِهٖ لَيۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ اِلَى الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِىۡ بٰرَكۡنَا حَوۡلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنۡ اٰيٰتِنَا​ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡبَصِيۡرُ‏ 

Exalted is He who took His Servant by night from al-Masjid al-Haram to al-Masjid al- Aqsa, whose surroundings We have blessed, to show him of Our signs. Indeed, He is the Hearing, the Seeing.

(Al-Isra – 1)


 

 

800px-Jerusalem-2013-Temple_Mount-Al-Aqsa_Mosque_(NE_exposure)

Soul-Search 200

ز کردہ خیش حیرانم، سیاہ شد روز عصیانم
 پشیمانم، پشیمانم، پشیماں، یا رسول اللہ ﷺ

سیّدہؑ، زاہرہؑ، طیّبہؑ، طاہرہؑ ، جانِ احمد ﷺ کی راحت پہ لاکھوں سلام

سلام اللہ علیہا 

 

ER1b4xaWsAEgk_Q

میرے نبی ؐ کے باغ کا سب سے حسین پُھول

جس کی جرأت پر جہانِ رنگ و بو سجدے میں ہے

آج وہ رَمز آشنائے سِرِّ ھُو سجدے میں ہے

ہر نفس میں انشراحِ صدر کی خوشبو لیے

منزلِ حق کی مجسم جستجو سجدے میں ہے

کیسا عابد ہے یہ مقتل کے مصلی پر کھڑا

کیا نمازی ہے کہ بے خوف ِ عدو سجدے میں ہے

اے حسین ابن علی تجھ کو مبارک یہ عروج

آج تو اپنے خدا کے روبرو سجدے میں ہے

جانبِ کعبہ جھکا مولودِ کعبہ کا پسر

قبلہ رو ہو کر حسینِ قبلہ رو سجدے میں ہے

ابنِ زہرا اس تیری شانِ عبادت پر سلام

سر پہ قاتل آچکا ہے اور تو سجدے میں ہے

 اللہ اللہ تیرا سجدہ اے شبیہ مصطفی

جیسے خود ذاتِ پیمبر ہو بہ ہو سجدے میں ہے

تھا عمل پیرا جو ” كَلَّا لَا تُطِعْهُ ” پر وہ آج

بن کے ” وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ “کی آرزو سجدے میں ہے

یہ شرف کس کو ملا تیرے علاوہ بعدِ قتل

سر ہے نیزے کی بلندی پر ، لہو سجدے میں ہے

محوِ حیرت ہیں ملائک، دم بخود ہے کائنات

آج مقتل میں علی کا ماہرُو سجدے میں ہے

سر کو سجدے میں کٹا کر کہہ گیا زہرا کا لال

کچھ اگر ہے تو بشر کی آبرو سجدے میں ہے

کون جانے ، کو ن سمجھے ، کون سمجھائے نصیر

عابد و معبود کی جو گفتگو سجدے میں ہے


سید نصیر الدین نصیر ​

Facts – 212

دے تبسم کی خیرات ماحول کو ہم کو درکار ہے روشنی یا نبی
ایک شیریں جھلک ایک نوری ڈھلک ، تلخ و تاریک ہے زندگی یا نبی

اے نوید مسیحا تری قوم کا حال عیسی کی بھیڑوں سے ابتر ہوا
اس کے کمزور اور بے ہنر ہاتھ سے چھین لی چرخ نے برتری یا نبی

کام ہم نے رکھا صرف اذکار سے ، تیری تعلیم اپنائی اغیار نے
حشر میں منہ دکھائیں گے کیسے تمہیں ہم سے ناکردہ کار امتی یا نبی

دشمن جاں ہوا میرا اپنا لہو میرے اندر عدو میرے باہر عدو
ماجرائے تحیر ہے پرسیدنی ، صورتحال ہے دیدنی یا نبی

سچ میرے دور میں جرم ہے عیب ہے ، جھوٹ فن عظیم آج لاریب ہے
گلشنوں ، شہروں ، قریوں پہ ہے پر فشاں ایک گھبیر افسردگی یا نبی

راز داں اس جہاں میں بناوں کسے ، روح کے زخم جاکر دکھاوں کسے
غیر کے سامنے کیوں تماشا بنوں ، کیوں کروں دوستوں کو دکھی یا نبی

زیست کے تپتے صحرا پہ شاہ عرب ، تیرا اکرام کا ابر برسے گا کب
کب ہری ہوگی شاخ تمنا مری ، کب مٹے گی مری تشنگی یا نبی

یا نبی اب تو آشوب حالات نے تیری یادوں کے چہرے بھی دھندلا دئیے
دیکھ لے تیرے تائب کی نغمہ گری ، بنتی جاتی ہے نوحہ گری یا نبی


حفیظ تائب

اِس گردِ سفر میں گُم ہے جبریلِ امیںؑ کی رسائی

قصیدہ لامیہ

ابو طالبؑ

اس قصیدے کے ہر لفظ کے آخر میں ‘لام’ آتا ہے۔

قصیدے کا اُردو ترجمہ درجِ ذیل ہے۔


جب میں نے اپنی قوم کو دیکھا کہ  اُن میں محبت نہ رہی

اور انہوں نے اپنے تمام رشتے ناطے بُھلا دیئے

بجائے یہ کہ مسائل ختم کراتے

ہماری دُشمنی اور ایذا رسانی میں وہ پیش پیش ہوئے

اور ہمارے دُشمنوں کی ہاں میں ہاں مِلانے لگے

ہم سے بدگُمان لوگوں کے وہ حریف بن گئے

اور ہمیں دیکھ کے

ہمارے پیچھے وہ مُنہ سے  اپنی اُنگلیوں کی پُشت دانتوں سے چباتے ہیں۔

میں ان سب کے مدِ مُقابل کھڑا  للکار رہا ہوں

لچک دار نیزے اور تیز کاٹتی تلوار کے ساتھ

جو ہمارے اجداد بادشاہوں کا ترکہ ہے

سب اس  مقدس دروازے کے سامنے کھڑے ہیں

جہاں ہر قسم کھانے والا اپنی قسم پُوری کرتا ہے

جہاں اشعری لوگ اپنی سواریاں بِٹھاتے ہیں

اساف اور نائلہ بُتوں کے پاس قُربان کیے گئے جانوروں کے خُون کے سیلاب  کے پاس

وہ قُربانی کے جانور

جِن کے بازوؤں اور گردنوں پر قُربان کیے جانے کے نِشان لگے ہوئے ہیں

سدھائے ہوئے، آٹھ اور دو برس عمر کے اونٹ

عُمدہ پتھر اور زیب و زِینت اور آرائش ان کی گردنوں پر بندھی ہیں

ان کی گردنیں جیسے کھجور کے پھل دار درخت کی شاخیں

میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں

بڑائی کا طعنہ مارنے والے اور باطل سے چمٹے رہ جانے والوں سے

اور کینہ ور

جو ہمارے عیب کی جستجو میں رہتا ہے

اور دین میں ہماری مرضی کے بغیر افسانہ کرنے والے سے

اور جبل نور اور اس ذات کے ساتھ جس نے کوہ شبیر کو اس کے مقام پر نصب کیا ہے

اور اس کے ساتھ ہی جس کی غارِ حرا میں آمدو رفت ہے

وادی مکہ کے برحق بیت اللہ کے ساتھ اور اللہ کے ساتھ

یقیناً اللہ غافل نہیں ہے

اور حجر اسود کے ساتھ

پناہ مانگتا ہوں ، جب اسی چومتے ہیں

اور اس نرم پتھر پر ابراہیم ؑ کےننگے پاؤں کے نقش و نشانات کے ساتھ

پناہ مانگتا ہوں

صفا اور مروہ کے درمیان سعی

سعی کے چکروں کے ساتھ

ان کے درمیان جو نشانیاں ہیں

ان کی پناہ مانگتا ہوں

سوار اور پیادہ حاجیوں اور ہر نذر ماننے والوں کے ساتھ

پناہ مانگتا ہوں

اور عرفہ کے ساتھ

جب وہاں کے لوگ کوہ الال کا قصد کرتے ہیں

بالمقابل نالوں کے بہاؤ تک

اور پہاڑوں پر وہاں پِچھلے پہر کے قیام  کے ساتھ

پناہ مانگتا ہوں

کہ وہ سواریوں کے سینوں کو ہاتھوں میں تھامتے ہیں

مزدلفہ کی رات

اور منیٰ کی قیام گاہوں کے ساتھ

پناہ خواہ ہوں

کیا ان سے زیادہ کوئی قابلِ احترام جگہیں یا قیام گاہیں ہیں؟

اور مزدلفہ کے ساتھ پناہ خواہ ہوں

جب سواریاں تیز رفتاری سے اسے عبور کرتی ہیں

جیسے وہ خوب برستی بارش کے باعث تیز دوڑ رہی ہوں

اور جمرہ کبریٰ سے پناہ مانگتا ہوں

جب اس کے سر پر پتھر مارے جاتے ہیں

اور پناہ مانگتا ہوں کندہ کے ساتھ

جب وہ وادی محصب میں شام سمے ٹھہرے تھے

اور ان کو بکر بن وائل کے حاجی گزار رہے تھے

وہ دونوں جو آپس میں حلیف ہیں

انہوں ے اپنے عہد و پیمان کو مستحکم کر لیا ہے

اور اس پر مودت و محبت کے سب ذرائع جمع کر دیے ہیں

وہ پامال کر گئے وادی کی عُمدہ گھاس سُرخ اور شیرق کو اپنے شُتر مُرغ کی تیز رفتاری سے

پس کیا کِسی  پناہ مانگنے والے کے لئے اس کے بعد بھی کوئی

جائے پناہ ہے؟

اور کیا کوئی خُدا ترس

پناہ لینے والے کو ملامت کرتا ہے

ہمارے متعلق دُشمنوں کے اِرادے قبول کئے گئے ہیں

وہ خواہش پالے ہوئے ہیں کہ ہم پر ترک اور کابل کے راستے بھی بند کر دیے جائیں

کعبہ کی قسم

تُم غلط کہتے ہو

کہ ہم مکّہ چھوڑ کے کُوچ کر جائیں گے

سُنو

تُمہارا یہ منصوبہ سراسر رنج و غم ہے

کعبہ کی قسم

تُم دروغ گو ہو

کہ ہم سے محمد ﷺ چھین لیے جائیں گے

ابھی تو ہم نے ان کی حفاظت کے لیے نہ برچھے چلائے نہ تِیر مارے

یاد رکھو

ہم اُنہیں تُمہارے سپرد نہ کریں گے

تا وقت کی ان کے آگے

پیچھے

ان کے قدموں میں

ہم سب کٹ جائیں

مر جائیں

اور اپنے اہل و عیال ان پر قُربان کر دیں

سُنو

ایک مسلّح قوم تمہارے مقابلے میں

شور و غُل کے ساتھ کھڑی ہو گی

جیسے اُونٹوں پر  پانی کی مشکوں کو چڑھانے اُتارنے میں

شور و غوغا سُنائی دیتا ہے

اس وقت تک

ہم اپنے کِینہ ور دُشمن کو نیزے سے چھلنی کر کے اوندھا گِرا نہ دیکھ لیں

آفت زدہ رنجیدہ انسان کی طرح

بخدا

اگر تُم نے فِتنہ بڑھایا

تو ہماری تلواریں تمہارے سرداروں کا کام تمام کر دیں گی

جو ایسے جوانوں کے ہاتھوں مریں گے

جو ستاروں کی طرح شعلہ زن

ریئس

قابلِ اعتماد اور فرضِ منصبی پُورا کرنے والے

ہمارے بہادر جوان ہیں

اور یہ حالتِ جنگ

پھر

سالہا سال تک

چلے گی

تیرا باپ نہ رہے

قوم کا ایسے رئیسِ اعظم کو نظر انداز کر دینا

جو اپنے فرائضِ منصبی پورے انجام دیتا ہے

وہ چرب زبان ہے نہ ہی عاجز

وہ ﷺ

وہ سفید رنگت والا

جِس کے رُخِ انور کی بدولت ابرِ رحمت طلب کیا جاتا ہے

جو یتیموں کا فریاد رس

اور

بیواؤں کا سہارا ہے

سر پرست ہے

آلِ ہاشم کے خستہ حال لوگ اس کی آڑ لیتے ہیں

پناہ لیتے ہیں

اس کے پاس رحمت ہے

نوازش ہے

فضل اور کرم ہے

بقا کی قسم

اسید اور اس کے بیٹے نے ہمارے ساتھ بُغض و عداوت کا مظاہرہ کیا ہے

اور کھانے والے کے سامنے کاٹ کر رکھ دیا ہے

عثمان اور قنفد نے بھی ہم پر مہربانی اور خدا ترسی نہیں کی

بلکہ انہوں نے انہی قبائل کی بات مانی

انہوں نے ابی اور ابن عبد یغوث کی کہی مانی

اور ہمارے بارے

انہوں نے کسی بات کا خیال نہیں رکھا

پس

اگر وہ کہیں مِل گئے

یا ہماری دسترس میں آ گئے

تو ہم ان کو ان کو ان کے کرتوتوں کے برابر

سزا ماپ کر دیں گے

اور ابو عمرو

ہمارے بغض اور عناد میں بدمست ہے

چاہتا ہے کہ ہمیں

بھیڑ بکریوں اور اونٹوں کے چرواہوں کے ہمراہ

یہاں سے کہیں اور بھیج دے

صبح و شام سے سرگوشیوں میں دغا  کے راز و نیاز کہتا ہے

اے ابو عمرو

تو ہم سے چپکے چپکے پھر فریب کی باتیں کرتا ہے

اور وہ حلف اُٹھاتا ہے

ہمیں دھوکا نہ دے گا

ارے

ہم تو اسے آشکارا دیکھتے

بغیر کِسی شک و شبہے کے

ہمارے ساتھ بغض و کینہ کے باعث

اخشب سے اور مجادل کے درمیان

ہر نشیب و فراز

اس پر تنگ ہو چکا ہے

ابو ولید سے پوچھو

اس نے دغاباز کی طرح ہم سے انحراف کر کے

کیا فائدہ پہنچایا؟

آپ تو دانشور تھے

کہ عقل و دانش اور نوازش سے

آپ کی زندگی بسر ہوتی تھی

اور آپ

آدابِ زندگی سے ناآشنا بھی نہ تھے

اے عتبہ

ہمارے خلاف

کِسی دشمن، فاسد،  جھوٹے، کمینے، کینہ ور اور مکّار کی بات نہ سُن

ابو سُفیان میرے پاس سے

کِسی بادشاہ کی طرح اغراض کر کے گزر گیا

نجد اور ٹھنڈے پانی کے کِسی علاقے کی طرف فرار ہو گیا

وہ کہتا ہے

وہ ہم سے بے خبر نہیں

خیر خواہی کا جُھوٹا اظہار کر کے بتاتا ہے کہ وہ شفیق و مہربان ہے

مگر اندر کی شرارت کو چُھپاتا ہے

اے مطعم

میں نے کبھی تمہیں تنہا چھوڑا؟

کِسی تنگی کے دِن یا بڑی مصیبت کے  لمحے

بے شک قوم نے تُجھے ایک مشکل مقام پہ رسوا کیا تھا

مگر ہم نے تیرا ساتھ دیا تھا

جانتے ہو،

جب کوئی معاملہ میرے سپرد کیا جائے تو میں کِسی کی پناہ نہیں لیتا

اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے عبد شمس اور نوفل کو ان کی شرارت کی فوری سزا دے،

پوری پوری، انصاف کے ترازو سے تول کر

جس میں ذرہ برابر کمی نہ ہو

وہ خود گواہ ہو کہ اس میں کوئی  جور و جفا نہیں

قوم کی مت ماری گئی ہے کہ اس نے ہماری بجائے بنی خلف

اور فیاطل کو پسند کیا

پہلے ہر مشکل گھڑی میں ہم ہی ہاشم اور آل قصی کے خاص معزز لوگ تھے

اے عبد مناف

تم بہترین لوگ ہو،

اپنے قصے میں ہر کمینے کو مداخلت نہ کرنے دو

مجھے زندگی کی قسم

تم کمزور اور عاجز و ناتواں ہو چکے ہو

اور تم نے غلط کام کیا ہے

تم کبھی ایک ہی ہانڈی کا ایندھن ہوا کرتے تھے

اور اب تم کئی ہانڈیوں کے جلتے چولہے ہو

پہلے متحد تھے

اب منتشر ہو گئے ہو

بنی عبد مناف کو ہم سے قطع رحمی مبارک ہو

ہمیں رسوا کرنا

شعب میں محصور کردینا مبارک ہو

اگر ہم غیرت مند ہوئے تو تمہاری ان حرکتوں کا نوٹس لیں گے

اور تُم دودھیل اونٹنی کو دوھو گے جو مباہ نہیں

لوی خاندان میں رشتے ناطے تھے

انہیں بھی ہر رئیس نے نظر انداز کر دیا

خاندان نفیل روئے زمین کے بدترین لوگوں سے ہے

اور بنی سعد کے ہر جوتا پوش اور برہنہ پا سے کمینہ ہے

قصی کو بتا دے کہ ہمارا یہ مشن پھیلے گا

اور ان کو ہمارے بعد ذلت ا و ر رسوائی کا مژدہ سنا دے

اگر قصی پہ کِسی وقت بُرا وقت آئے

جب ہم ان کے بغیر اپنے محفوظ مقام پر چلے جائیں

اگرچہ وہ اپنے محلوں میں بے جگری سے لڑیں

تو ان کی شیر خوار بچوں والی خواتین کے ہم ہی غم گسار ہوں گے

بخدا ، ہر دوست اور بھانجے کو

ہم اپنا خیر خواہ سمجھتے تھے

مگر ہم نے ان کی غیر حاضری کو بے سود پایا

سوائے کلاب کے ایک خاندان کے جو رسوا کن ظلم و زیادتی سے بری ہے

زہیر بن ابی امیہ اچھا بھانجا ہے

جھوٹ کی تہمت سے پاک

فریب سے جُدا ننگی تلوار

بڑے سرداروں میں سے ایک سردار

بزرگوں کے اعلیٰ شرف سے منسوب

زندگی کی قسم

میں احمد ﷺ اور اس کے بھائیوں کے شوق محبت کا گرویدہ ہوں

ملاقات کی خواہش رکھنے والے کی عادت کی طرح

سب لوگوں میں سے آنحضور ﷺ کی مِثال کون ہے؟

جب حکام ایک دوسرے کی برتری ثابت کرتے لمحے موازنہ کریں

تو اور کِس کی اُمید کی جا سکتی ہے؟

بردبار ، اعلیٰ مدبر

منصف مزاج

دانا  اور بینا

اللہ سے محبت رکھتا ہے وہ

اس سے غافل نہیں

اعلی سعی و کاوش اور شریف ابن شریف

ان ﷺ کی عظمت بزرگی کی وراثت ثابت ہے

بغیر نزاع کے

پروردگار عالم نے ان کی تائید اپنی مدد سے کی ہے

اور اسی نے اپنا دین ظاہر کیا ہے

جس کی حقانیت لازوال ہے

واللہ

اگر مجھے عار و عیب کا اندیشہ نہ ہوتا

جس کا مجلس میں ہمارے مشائخ کو طعنہ دیا جاتا ہے

تو ہم اس وقت ان کی ہر حالت میں پیروی کرتے

یہ باتیں  سچ ہیں ، مزاح اور مذاق نہیں

سب جانتے ہیں

ہمارا فرزند ارجمند جُھوٹا نہیں

اور نہ ہی باطل  باتیں ان کا مقصد ہیں

ہمارے خاندان میں احمد ﷺ ایسے مقام پر فائز ہیں

کہ کسی مقابلہ کرنے والے کا جوش و ولولہ بھی اس سے قاصر ہے

میں نے اپنی زندگی اپنی جان ان پہ نچھاور کر دی

ان کی حمایت کی ہے

اور ان کا دفاع ہر اس طریقے سے کیا جائے گا

جو بھی ممکن ہو۔

سکونِ دِل کی دلیل کیا ہے، قرارِ جاں کا سراغ کیا ہے؟ ہجومِ دنیا کی وحشتوں کو سناؤ غارِ حرا کی باتیں

quotes_cites_5565

Soul-Search 184

عمل کی میرےاساس کیا ہے، بجز ندامت کےپاس کیا ہے

رہے سلامت بس اُن کی نسبت، میرا تو بس آسرا یہی ہے

پِھر ریشمِ انوار کا ملبوس پہن کر ، ظاہر ہوا اِک پیکرِ صد رنگ بصد ناز ۔۔ نِکھرے کئی بِکھرے ہوئے رنگوں کے مناظر ، فِطرت کی تجلّی ہوئی آمادۂ اعجاز ﷺ

40durood-salaatsalaam_2

ہے کِس کے لئے عشوۂ بلقیسِ تصوّر ، یہ غمزۂ رخسارِ جہاں کِس کے لئے ہے؟ ، آرائشِ خال و خدِ ہستی کا سبب کون ؟، یہ انجمنِ کون و مکاں کِس کے لئے ہے ؟ ﷺ

When I saw his light shining forth,
In fear I covered my eyes with my palms,

Afraid for my sight because of the beauty of his form.
So I was scarcely able to look at him at all.

The lights from his light are drowned in his light
and his face shines out like the sun and moon in one.

A spirit of light lodged in a body like a moon,
a mantle made up of brilliant shining stars.

I bore it until I could bear it no longer.
I found the taste of patience to be like bitter aloes.

I could find no remedy to bring me relief
other than delighting in the sight of the one I love.

Even if he had not brought any clear signs with him,
the sight of him would dispense with the need for them.

Muhammad is a human being but not like other human beings.
Rather he is a flawless diamond and the rest of mankind is just stones.

Blessings be on him so that perhaps Allah may have mercy on us
on that burning Day when the Fire is roaring forth its sparks.


Hassaan Ibn Saabit RA

(This is what he wrote when he met Prophet Muhammad PBUH for the first time)

تجلّیوں کےکفیل تم ہو ، مُرادِ قلب خلیل تم ہو ۔۔ خُدا کی روشن دلیل تم ہو ، یہ سب تمہاری ہی روشنی ہےﷺ

حرفِ نسبت (نعتیہ نظم)

شاعر: شبنم رومانی

ان کی دہلیز چھوکر

جو پتھر تھا پل بھر میں پارس ہوا

ان کے ہاتھوں سے جو ہاتھ بھی مَس ہوا

چاند تاروں نے اس ہاتھ پر بیعتِ شوق کی

اس زمیں پر وہی ہاتھ سایہ رہا

یہ فلک بھی اسی کا کنایہ رہا

جس نے دیکھا انہیں

اس کی بینائی کے واہمے دُھل گئے

اس پہ آفاق کے سب ورق کھل گئے

جس نے مانا انہیں

اپنے پیکر میں شہرِ یقیں ہوگیا

جس نے جانا انہیں

جہل بھی اس کا علم آفریں ہو گیا

جن نے ڈھونڈا انہیں

وہ سلیماں قدم

عالمِ راز کا سَیربیں ہو گیا

جس نے پایا انہیں

وہ فقیرِ حَرم

معرفت کے حرا میں مکیں ہو گیا

جس نے سوچا انہیں

وہ خدا کی قسم

ماورائے زمان و زمیں ہو گیا

جس نے چاہا انہیں

اس کی چاہت بقا کی نِگارش ہوئی

اس پہ دن رات پھولوں کی بارش ہوئی

جس نے چاہا انہیں

اس کو چاہا گیا

اس کی دہلیز تک ہر دوراہا گیا

صلی اللہ علیہ وسلم


Courtesy Seems Aftab

بشیر کہیےنذیر کہیئے، اُنھیں سراجِ مُنیر کہیئے ﷺ ۔۔۔ جو سر بسر ہے کلامِ ربّی ، وہ میرے آقا کی زندگی ہے

reflections-quran3aali-imran164-part3-25-728.jpg

کیا زخم دکھائیں ہم شاہا، کیا حال سنائیں ہم شاہا ۔۔ جِن لوگوں نے ہم کو قتل کیا، وہ آپ کے ماننے والے تھے

http://www.humsub.com.pk/269263/hashir-irshad-114/

کیسے کہہ دوں ، وہ کیسے ہیں۔” ﷺ”

Aaqa.png


Original Titleآقاﷺ: سیرت پاک

Author: Abdaal Bela

Hardcover, 1144 pages

Published 2015 by Sang-e-Meel Publications


31936800._SY475_.jpg

رہیں گمنام تو بس، تُجھ سے ہی منسوب رہیں ۔۔ جانے جائیں تو تیــــــــرے نام سے جانے جائیں – صل الله عليه وسلم

Qabr-of-Nabi-and-two-Sahaba.jpg

میں لفظ پلکوں سے چُن رہا ہوں‘ مَیں خواب کاغذ پہ بُن رہا ہوں

372.jpg


سبز چمکتا در کھل جائے، اور سنگھاسن ظاہر ہو
ایک سخی آواز پکارے، سندھی شاعر حاضر ہو

سورج سہرا باندھ کے ابھرے جھل مل کرتی کرنوں کا
طوف نبھاتا، وجد میں آتا، اک سیّارہ ناظر ہو

پیغمبرؐ یہ حکم کریں کچھ مانگ ارے کیا مانگے گا
اور عجم کا جاٹ سراسر کچھ کہنے سے قاصر ہو

میں لفظوں کا تھال الٹ کر بازو بستہ عرض کروں
مولا کوئی حرف نہیں جو پیارا، یکتا، نادر ہو

جانے والے سب جاتے ہیں میرا بھی اسباب بندھے
باغیچے کی سمت روانہ سندھو دشت مسافر ہو

پانی ربّ کی حمد گزارے، غنچے شہؐ کی نعت پڑھیں
ہستی کے ایوان میں سب کچھ طیّب، روشن، طاہر ہو

احمد جہاں گیر

اے اُن کی محفل میں آنے والو، اے سود و سودا بتانے والو ۔۔ جو اُن کی محفل میں آکے بیٹھو تو ساری دنیا بھلا کے بیٹھو ﷺ

Book.png


One of the sweetest, loveliest texts… 😍😍

Nanhay Huzoor ﷺ

By Ihsan B.A

First Published by Aaina e Adab – 1996

 

اے صابر و صنّاع و صمیم و صفِ اوصاف ،اے سرورِ کونین و سمیعِ یمِ اصوات ، میزانِ انا مقصدِ پندارِ تیقُّن ، اعزازِ خودی مصدرِ صد رُشد و ہدایات ۔۔ ﷺ

60160735_2216727305072406_8819954090978050048_n.jpg

تُو نے تو مُجھے درسِ مُساوات دیا تھا ، میں پِھر بھی رہا خاک کے ذرّوں کا پُجاری ، تُو نے تو جُدا کر کے دِکھایا حق و باطِل ، میں پھِر بھی تمیزِ حق و باطِل میں رہا ہوں ﷺ

11012592_980927501939000_4163721921299558603_n.jpg

تِرے حُسن سے تری شان تک ہے نگاہ و عقل کا فاصلہ ، یہ ذرا بعید کا ذکر ہے، وہ ذرا قریب کی بات ہے ﷺ

love.jpg

ہَر راہ پہنچتی ہے تیری چاہ کے دَر تک ، ہر حرفِ تمنّا تیرے قدموں کی صَدا ہے ﷺ

وہ اک چھوٹی سی بستی تھی
جہاں کچھ روشنی زادے
سراج النُّور کی کرنوں میں جیون کی نئی تعلیم لیتے تھے
رواداری کا شہرہ تھا 
تواضع کے لئے جو بہتریں سوغات ہوتی تھی 
کھجوریں تھیں
کھجوریں مفت ملتی تھیں !
کوئی پیاسا چلا آتا تو اس سے یہ نہیں دریافت ہوتا تھا
کہ تم ہم میں سے ہو یا غیر ہو کوئی
کسی کوزے پہ کب لکھا ہوا ہوتا تھا
” ایں کوزہ برائے اہلِ ایمان است”

تھکے ہارے مُسافر مسجدِ نبوی میں آتے، دیر تک آرام کرتے تھے
اقامت اور عبادت کی سبھی آسائیشیں ( جو آج کل ممنوع ہیں) وہ سب کو حاصل تھیں
خدا کا گھر تھا اور بندوں کو اپنا گھر ہی لگتا تھا !
کبھی چشمِ تصور جب درودِ تاج پڑھتی ہے تو منظر کھلنے لگتے ہیں
سنہری روشنی کرتے
ملائم نرم لہجوں میں سخی آقا کے در پر حاضری کی گفتگو کرتے کئی چہرے
اُدھر مقداد ہیں ،میثم کھڑے ہیں
حضرتِ سلمان آتے ہیں
ابو بکر و عمر عثمان و حیدر بھی درِ مولا پہ حاضر ہیں
عشاء کا وقت ہے اور حبش کا خوشبو بھرا لہجہ اذاں آغاز کرتا ہے
صفیں ترتیب پاتی ہیں
کسی کو کچھ پریشانی ، نہ گھر جانے کی عجلت ہے 
خدایا !! 
کیسی رحمت ہے !!
خدایا کیسی رحمت تھی !
محبت بولنے والے “محبت” بولتے تھے اور کانوں میں ” محمّد ﷺ” کی صدا آتی !
محمّد ﷺ اور محبت ایک ہی تو ہیں !!

تو جب چشمِ تصور لوٹ کر آئے تو پھر مجذوب کے ادھڑے ہوئے سینے کو چھو کر پوچھتی بھی ہے 
بتاؤ تو !
کہ یہ سب کون ہیں جو دین کو وحشت بناتے ہیں؟
رواداری پہ جو پہرے لگاتے ہیں
بھلا یہ کون ہیں ؟ جن کو محبت کا کوئی معنی نہیں آتا
میں روتا ہوں کہ رونے کے سوا چارہ نہیں کوئی 
بھلا اک نظم میں ان چودہ صدیوں کی محبت کس طرح لاؤں ؟؟
بھلا میں ایک شاعر ، ایک مجنونِ ہنر برباد ان سوئے ہوؤں کو کیا جگا پاؤں 
جنہیں معلوم ہی کب ہے
کہ اس عہدِ جہالت سے بہت پہلے وہ اک عہدِ مُنوّر تھا
رواداری کا شہرہ تھا
کھجوریں مفت ملتی تھیں !!

علی زریون

عشق رومی ، عشق جامی ، عشق کوہ طُور …. عشق حبشی ، عشق قرنی ، عشق ہے منصور

Muhammad.jpg

ہزار کعبے، ہزار قبلے، انہی کے ہیں نقشِ پا کے صدقے ، وہ جس طرف سے گزر گئے ہیں، اسی کو کعبہ بنا کے چھوڑا ﷺ

hadees-e-nabvi-in-urdu-image-1.jpg

تیری معراج ، کہ تو لوح و قلم تک پہنچا ۔۔۔ میری معراج ، کہ میں تیرے قدم تک پہنچا

ظاہر ہو تو ہر برگِ گُلِ تر تیری خوشبو

غائب ہو تو دُنیا کو سراپا نہیں مِلتا

وہ اِسم ، کہ جِس اِسم کو لب چُوم لیں ہر بار

وہ جِسم کہ سُورج کو بھی سایہ نہیں مِلتا

اسی کے نقشِ قدم کی برکت نے ماہ و انجم کو نور بخشا ، اسی کے در کے گداگروں نے ہی آدمی کو شعور بخشا ، اسی کی خاطر تو حق نے صحرا کو جلوہء کوہِ طور بخشا ، جو اس کا غم لے کے مر گیا ہے خدا نے اس کو ضرور بخشا ﷺ

https://aana16.blogspot.com/2018/11/blog-post_17.html