😂

 استاد ریاض مجید صاحب کے پاس ایک لڑکا اپنی غزل دکھانے کو لایا تو انہوں نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے اردو شاعری میں نیا اضافہ قرار دیا…… اس لڑکے نے وہ غزل حلقہ ارباب ذوق کے تنقیدی اجلاس میں پیش کر دی….. پھر اس غزل کی جو دھجیاں بکھریں کہ الأمان والحفیظ….. وہ منہ بسورے استاد ریاض مجید صاحب کے پاس آیا کہ “سر جی! آپ نے تو کہا تھا کہ بڑی اچھی غزل ہے”……….. ریاض مجید صاحب نے اس وقت تاریخی جملہ کہا اور فرمایا:

.بیٹا! اگر ماں لاڈ پیار میں چاند کہہ دے تو مقابلہء حسن میں نہیں چلے جایا کرتے ہیں

Advertisements

Dialogue – 180 (…خود کھانا گرم کر لو)

کمال ہے بھئی۔ کیا کیا نعرے لگ رہے ہیں۔

ہاہاہاہا۔ کچھ نہیں ، بس ایک مصروفیت ہے نام نہاد فیمینسٹوں اور ان کے بیکار مباش مخالفین کی۔

اچھا ! بس ایک اور مصروفیت؟

جی۔

کیسے؟

معاملہ حقوق و فرائض سے آگے کا نہیں ، بہت پیچھے کا ہے۔ انگریزی لُغت میں بھی ریسپانسبلٹی کا آر ، رائٹس کے آر سے پہلے آتا ہے۔

تو کیا یہ مطالبہ غلط ہے خواتین کا؟

چلیں ، بنیادی باتوں سے شروع کرتے ہیں ۔ خواتین کون ہوتی ہیں؟

لیڈیز۔ ہماری اس دنیا کی صنفِ محترم۔ ہماری تخلیق کا ایک اہم ترین عنصر۔ ہماری مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں ، گھر والیاں۔ 

اور۔ اسکے علاوہ؟

اسکے علاوہ ، ہماری عزّت و حُرمت کے استعارے۔ ایک حدیث کے مطابق “آبگینے”۔ ہمارے سب سے اچھے رشتوں کی پہچان۔ ہمارے معاشرتی نظام کا سب سے اہم ستون۔

بات یہ ہے ، کہ آپ کی یہ ڈیفینیشن ہی مختلف ہے ان فیمینسٹوں سے۔ وہ تو “یکساں” سے ہٹ کر کوئی اصطلاح ماننے کو تیّار ہی نہیں۔ اور اُن کا مخالف کیمپ ، اس کے بالکل اُلٹ سوچتا ہے۔ دو انتہاؤں کی دوری پر ہیں یہ لوگ۔

پر ، یکساں تو ایک عجیب و غریب لفظ ہے۔ اصل لفظ تو ہونا چاہیئے: “مِلتا جُلتا”۔ یکسانیّت ، برابری جیسے الفاظ تو اس معاملے میں سمجھ سے ہی باہر ہیں۔

ہماری اصطلاحیں ، ہماری ذہنی سمجھ بوجھ کا پتہ دیتی ہیں۔ ہمارے مطالبات ، حقوق و فرائض کی سمجھ کا پتہ دیتے ہیں۔  آپ خود ہی بتائیں ، جس مائنڈ سیٹ کی ، خاتون کی ڈیفینیشن ہی متعصب ہو ، وہ ‘خود کھانا گرم کر لو’ اور ‘میرا جسم میری مرضی’ سے آگے کیا سوچے گا۔

پر بات یہ ہے کہ معاشرے اور دُنیا میں بنتِ حوا کا سٹیٹس متعیّن کرنے میں یہی مائنڈ سیٹ کار فرما ہیں۔

یہ مائنڈ سیٹ کار کُچھ عرصہ ہی ہوا ، وجود میں آئے۔ ورنہ دس ہزار سالہ تہذیبی تاریخ میں  بنتِ حوا کو حقوق و فرائض کے لئے کوئی بیانیہ نہیں گھڑنا پڑا۔ 

تو کیا کرنا پڑا؟

بنتِ حوا کا مقام ، عزّت اور حرمت  بنتِ حوا بننے میں ہی ہے۔ اور ، اِسی سے ابنِ آدم ، ابنِ آدم بنتے ہیں۔ 

 

Dialogue – 179 (Commitment to job…)

“So you were there at the time of blast..?”

“Yes… Our DSNG was there……with a total of 4 crew members…. driver….photo-reporter…..satellite media feed technician…..and me…”

“You are a committed photo-journalist…. Aren’t you…?”

“I won the best photo-journalist award twice….. + I am into this field since last 7 years….. Yes, I am very committed to my work…”

“Witnesses say that you kept on filming the blast site, till late after the arrival of ambulances….”

“Yes… That is right….”

“They also say that at least two fallen men right in front of your vehicle later succumbed to injuries before reaching the hospital, because they were transported late…”

“Yes, the hospital PR officer also told me so… I mentioned it in my documentary report as well….”

“Don’t you think you should have tried to save them…”

“We were very short of time…. We had to air our video feeds before security agencies jam the signals in that areas….. So that was the only chance to pick the snaps and videos… Hence, we tried our best in covering the scenario….”

“And did you succeed in covering the blast effects and scenarios….”

“Yes….”

“How come….? ”

“As I told you…. I am a committed journalist…. Very apt at my job…..”

 

Dialogue – 178 (ڈائیلاگ کے کردار)

آپ ڈائیلاگ کے کردارکیسے سوچتے ہیں؟

اس میں زیادہ سوچنا نہیں پڑتا۔

عام طور پر ، ایک سوال والا ہوتا ہے ، اور ایک صاحبِ عقل و دانش ہیں ، جو جواب دیا کرتے ہیں۔

کچھ کچھ ٹھیک کہا آپ نے۔ میں ویسے اسے اور زاویے سے دیکھتا ہوں۔

اور وہ کیا ہے؟َ

 

میرے نزدیک جو کردار سوال والا ہے ، وہی اہم ہے۔ کیونکہ سوال وہ رویّہ ظاہر کرتے ہیں جو علم کے حصول اور عمل کی بنیاد بنتا ہے۔

اور جواب والا رویّہ؟

 

جواب تو ہر چیز کے موجود و معلوم ہیں۔ بس عمل مطلوب  ہے۔ اس عمل کی نیّت کو دوسرے کردار کی باتیں مہمیز بخشتی ہیں۔ یاد دہانی کرواتی ہیں۔ اپنے اصل سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ پر ہیں تو وہ باتیں ہی ، جب تک کہ عمل میں نہ ڈھل جائیں۔

اسکا مطلب ہے ، آپکا جواب دینے والا کردار زیادہ سمجھ والا ہوا؟

 

زیادہ سمجھ والا وہ ہے ، جو سبق کو صرف یاد نہ کرے ، بلکہ یاد رکھّے۔

اور جو جاننے والا ہے ، وہ کیا ماننے والے سے بہتر نہیں؟

 

کون بہتر ہے  اور کون نہیں ، یہ فیصلہ ہم نہیں کرتے۔ ہاں یہ حقیقت ہے کہ ماننے والے ہمیشہ سے آسانی میں رہے ہیں اور رہیں گے۔ ماننا ہمیشہ سے افضل رہا ہے۔  

تو آپکے کردار۔ کیا وہ آپکے آس پاس کے لوگ ہوا کرتے ہیں؟ جیتے جاگتے؟

 

بالکل۔ ہم سب ایسے ہی ہیں۔ ڈائیلاگ کے کرداروں میں تو کُچھ بھی ممکن ہے۔ خود کلامی بھی۔

 

مثال کے طور پر؟

 

🙂 مثال کے طور پر ، مدّ اور جزر کی آپس میں بات چیت۔

 

Dialogue – 177 (Urgent relief…. Part 2)

“My depression finds me somehow… Gets over me…. Controls me….”

“The first step is otherwise…. Rest all are right…”

“What do you mean..!..”

“I mean to say: it does not find you…. You find it back….. Through some memory, association, fear, apprehension, similarity or some other effect it had caused….’

“So what should I do then..?.. I am so weak and feel so feeble, to even acknowledge it..”

“That’s where you mislead yourself…. You are mot weak, but strong…. The moment you realize it is depression, you have taken your first step of looking at it discreetly… It is however, half-way…”

“And what about the next steps…”

“The next steps are: overcoming it, by embracing the complete reality…… Looking at a better, brighter reality….. Accepting the bigger reality….. And finally, defining & achieving your own reality…..”

“So it is all about realities…..!…”

“Of course…. Haven’t you heard that: Being happy is another way of accepting reality…”

 

Dialogue – 176 (Urgent relief…. Part 1)

“What is the urgent relief……..to depression…?..”

“A happiness source…”

“What is a happiness source….”

“A person, place or thing that makes you happy…”

“Like what…?..”

“If you wanna ask ME about YOUR source of happiness, you can’t be happy just like that…..”

Dialogue – 175 (Reality…)

“You are always in front of TV…! Watching so-called soap serials, dramas………and morning and reality shows…”

“They are good stuff…. Keep me glued…”

“You watch and enjoy and discuss these things as if they are real…! They are not…. The reality shows have all pre-scripted..”

“Exactly…..like your cricket, wrestling and news…. 🙂 🙂 ….”