Dialogue – 210 ( سوچ اور نظر )

یہ کون تھا؟

میرا ایک پُرانا دوست۔ کافی پُرانا۔

 بہت رسان سے آپ سے مِل رہا تھا۔

ہاں۔ محبت کرنے والا ہے۔دراصل ہماری ملاقات تقریباً پانچ سال بعد ہوئی ہے۔

اور اس سے پہلے اکثر ہوتی تھی کیا؟

نہیں۔ آپس کی بات ہے، اس سے پہلے بھی ایک یا دو دفعہ ہی مِلے۔ ہاہاہا۔

مزیدار بات ،  بلکہ کُچھ عجیب  ۔

دراصل مُحبت ایک سدا بہار پودے کی طرح ہے۔ ٹائم اور سپیس سے ماورا۔

ایسی مُحبت کیسے کی جاتی ہے؟ ہمیں تو ایسے تجربات نہیں ہوتے۔

 ہمارے اعمال نیت کا ثمر ہوتے ہیں۔ نیت ، نظر کا۔ اور نظر ، سوچ کا۔

مطلب؟

ہم جو سوچتے ہیں،  اور دیکھتے ہیں، اس سے ہمارا نقطۂ نظر بنتا ہے۔ نقطۂ نظر ہماری نیّت اور منصوبے کے ساتھ مِل کر  لائحہ عمل میں ڈھلتا ہے۔ جِس سے عمل وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ عمل  ، رُجحانات، عادات،  سِمت سازی  اور چوائسِز ہماری قسمت ترتیب دیتے ہیں۔ یوں ہماری زندگی گُزرتی  ہے۔

تو اِس سب میں مُحبت کہاں ہے؟

مُحبت سب سے پہلی سٹیج پر ہے۔ سوچ اور نظر کی سٹیج پر۔

کیسے؟

ہم جسے ،   یا  جو بھی سوچتے   اور  دیکھتے ہیں ،  دراصل ہماری مُحبت وُہی ہواکرتی ہے۔ اس کا تعلق ملاقات سے زیادہ شوق سے ہے۔ یہ ایک بیج کی طرح ہے، ایک سدا بہار پودے کا  بِیج۔ ٹائم اور سپیس سے ماورا۔ جیسے ایک بِیج جب  زمین میں اچھی نیت کے ساتھ ڈالا جاتا ہے،  تو  وہ ضرور تناور درخت بنتا ہے۔ جیسے اس شخص کے ساتھ میری دوستی۔ آپ نے غور کیا ہو گا، کہ  رِشتے، واقفیتیں ، دوستیاں اور یاریاں سب کی سب ہمیشہ نہیں رہتیں۔ صرف کُچھ ہی وقت کے گرم و سرد کو جھیل پاتی ہیں۔ صرف چند تعلق ہی  ہمیشہ بنے رہتے ہیں۔ وہ محبت کے تعلق ہوتےہیں۔ اچھی سوچ اور اچھی نظر کے بِیج  سے بنے ہوئے۔

 تو اس کا مطلب ہے کہ سوچ اور نظر اہم ہے۔

بہت اہم۔ سوچ اور نظرپر قابو رکھنا ،  زندگی پر قابو رکھنا ہے۔

Advertisements

Dialogue – 209 ( فرینڈ ز لِسٹ )

میری فرینڈز لِسٹ میں ایک سو پچاس نام ہیں۔

فرینڈز کی لِسٹ نہیں ہوا کرتی۔ 

پر فیس بُک پر تو ہوتی ہے۔

جی۔ وہ فرینڈز بھی فیس بُک والے ہی ہوتے ہیں۔

ہاہاہا، یہ تو درست کہی۔

فرینڈز کی لِسٹ کو سوشل میڈیا نے متعارف کروایا۔  فرینڈز آف فرینڈز کی اصطلاح بھی یہیں سے آئی۔ ورنہ اس سے پہلے ہمیں  اندازہ ہی نہیں تھا کہ دوست کے ایسے دوست بھی ہو سکتے ہیں ، جو ہمارے دوست نہ ہوں۔

بالکل صحیح۔

آپس کی بات ہے۔ آپ کے دوست دراصل ہیں کِتنے؟

اگر دوست کی ڈیفی نیشن کے مطابق دیکھا جائے ، تو دو یا تین۔

دوست کی ڈیفی نیشن کیا ہے؟

یہی، کہ دوست وہ ہے جو مصیبت میں کام آئے۔

بالکل درست۔ اسی لئے میں کہہ رہا تھا ، فرینڈز کی لِسٹ نہیں ہوا کرتی۔

Dialogue – 208 ( سوال – جواب )

ویک اینڈ کا کیا پلان ہے؟

میں کُچھ پڑھائی کروں گا۔ وہ جو کمپیوٹر والا  پراجیکٹ ہے، اس کا کام کرنا ہے۔

اُس کی تو ڈیٹ بہت آگے ہے۔

اور بھی تو کام ہیں ناں۔ جب اُسکی ڈیٹ قریب آئے گی ، تو ضروری نہیں کہ وقت ہو ہمارے پاس۔

یہ تو ہے۔ پر یہ وقت بھی نہیں آئے گا، اتنی فراغت والا۔ ہاہاہا۔ اتنا اچھا وقت۔ آگے کی آگے دیکھی جائے گی۔

وقت تو  وہی ہے جو گُزر گیا۔ جو آیا ہی نہیں ، وہ تو ایک گُمان ہے۔

اسی لئے کہتا ہوں ، انجوائے کرتے ہیں ویک اینڈ۔

پر آگے کی تیاری بھی تو ضروری ہے ناں۔

 تیاری۔  تمہارا تیاری پہ بڑا زور  رہتا ہے۔

تیاری ضروری ہے۔ ہم ہر وقت امتحان میں ہیں۔ وقت کبھی بھی ختم ہو سکتا ہے۔

تو کیا تیاری کی جائے؟

سوال  یاد رکھے جائیں۔

.سوال! سوال کیوں؟ جواب کیوں نہیں

زندگی کا امتحان کچھ مختلف ہے۔ یہاں سوال ہمیں پہلے سے معلوم ہیں۔ بس انہیں یاد رکھنا ہے۔

اور جواب؟ ان کے بارے میں کیا خیا ل ہے حضور کا؟

جواب تو ہماری پوری زندگی  ہی ہے۔ ہر نیت ، سوچ ، قول، عمل۔ یہ سب جواب ہی تو  ہیں۔

کون سے سوال ہیں آخر؟

کُل سات سوال ہیں۔

اچھا!!۔۔

جی۔ تین قبر کے۔ چار حشر کے۔

کیا کیا بھلا؟

مَن ربُّک؟ مَن دِینُک؟ مَن نبیُک؟

اور حشر کے؟

زندگی کِن کاموں میں گُزاری؟ جوانی کیسے گُزری؟ رزق   (و عِلم )کیسے حاصل کیا؟ کہاں خرچ کیِا؟

 پر  ، ایک بات ہے۔

کیا؟

ہماری زندگیوں کو دیکھا جائے تو لگتا ہے ، ہمارے خیال میں سوال کُچھ مُختلف ہیں۔

جیسے؟

 جیسے ، کِتنا مال بنایا؟ شہرت حاصل کی یا نہیں؟کِتنا رقبہ اِکٹھا کِیا؟ تفاخر کی کِن بلندیوں پر پہنچے؟  دھوکہ دہی ، جھوٹ ، لالچ ، فریب ، خیانت ، اور ایسی کئی خصوصیات میں کِتنا درجہ پایا؟  طاقت کے نشے میں کیا کُچھ کِیا؟ اور اللہ رحم فرمائے ، ایسا ہی بہت کُچھ۔

آپ ٹھیک کہتے ہیں، پر یہ سوال نہیں۔

تو پِھر ،  یہ کیا ہیں؟

یہ جواب ہیں ۔ اللہ رحم فرمائے۔

جواب؟

جی۔ غلط جواب۔

Dialogue – 207 ( قُربانی )

Screenshot_2018-12-16-11-28-17.png


آج سولہ دسمبر ہے۔ ہر جگہ تقریبات ہوں گی۔ شمعیں جلیں گی۔

واقعی بڑا سانحہ تھا۔

سانحہ تو تھا۔ پر اُمید کی ایک نئی کرن بھی تو تھی۔

کیسے؟

ایک قُربانی تھی جو اُن معصوم روحوں نے دی۔ ہمارے لئے۔ ہمارے مُستقبل کے لئے۔

یہ قُربانی تھی؟ یا خِراج؟

خراج کِس بات کا؟ قیمت کِس چیز کی؟

خراج ہماری غلطیوں کا۔ قیمت ہماری کوتاہیوں کی۔

آپ اس قُربانی کی تحقیر کر رہے ہیں۔

کیا واقعی؟ آپکو قُربانی کا پتہ تو ہو گا۔ اُس کے خواص کا۔

جی۔

تو بتائیں۔ قربانی کے پہلو کیا کیا ہیں؟

وہ ہیں: آگے بڑھ کے ایثار کرنا۔ جانتے بوجھتے ہوئے اپنے آپ کو وار دینا۔ خطروں کی پہچان رکھنا، اور اُس سے بھی زیادہ مِشن کی پہچان رکھنا۔ اپنی جان کی پروا نہ کرنا۔

شاباش۔ اب بتائیں، اُن معصوم روحوں کو یہ سب پہلو معلوم تھے؟

نہیں۔

تو قربانی کا سب سے اہم پہلو کیا ہوا؟

یہی ، کہ قربانی لی نہیں جاتی۔ دی جاتی ہے۔

Dialogue – 206 (Uniformity and Standardization)

“Our school has a history of excellent results….”

“That is impressive..!”

“Our students have made distinction in three main professional fields of military, bureaucracy and judiciary….”

“And else…?”

“Just those….”

“You mean, your institution have not produced scholars, lawyers, doctors, statesmen, politicians, businessmen, journalists, writers, researchers, scientists, anthropologists, technocrats, entrepreneurs, artists….!.. None like those…!…”

“No… Well, it’s our proud legacy to have produced leaders in the executive fields of country’s services….”

“Yes, that’s right… However, the executive fields neither need nor have ‘leaders’… They need managers, with specified roles……. The roles to keep the state functioning….. The roles you mentioned in the first place…”

“We think there is nothing wrong with that…”

“That’s what is the issue….”

“And why would that be…!?”

“You see… States do not only need good managers… They need good visionaries in all fields too…..people who use can use their thought, word and action to think in strategic terms…. People who give direction to the nation and state functionaries….. People who are leaders….. Leaders in every position….”

“But we have a stringent and excellent training of compliance, value system and beliefs…… Plus the uniformity and standardization in our school chain enables our students from all parts of the country to think and act alike……”

“And that is a success factor, per se…!”

“Of course…. They all love their country… They all have been taught the same syllabus… They all have same virtues and codes of conduct….”

“Well, the ‘tutored modesty’ is standardized and uniform, but human beings in essence are diverse…..”

“And that translates into..?

“… That translates into unnatural, artificial and superficial personas, thought-processes and un-pragmatic souls….. People who are alike, same and similar, but don’t have vision, foresight and diversity…”

“What do you propose any way….?”

“Look… The fields of education is different from an assembly plant of industrial products… We are dealing with human beings here… Learning is not about same-ness… It is about being different, thinking & imagining different, and finally accepting difference….. It is about out-of-box thought-process…. It is about learning systems which enable the students ‘how-to-think’, through open discussions, good training environments, inspirational mentoring, matchless teaching techniques and application of theory for the good of mankind – which, by the way is the aim of education…..”

“But don’t you think, that discipline would be compromised in that case…? We need to maintain discipline in thought, word, action and conduct… And uniformity & standardization are the two most important facets of discipline….”

“Yes.. I agree…. To reply to this, please answer some of my questions….”

“Sure….”

“Tell me…. Has your school system – which has hundreds of schools countrywide – produced any world-class / international-level professionals during last fifty years of its inception…. By professionals, I do not mean ‘services’… The three fields you talked about above are the ‘services’ as per state constitution…”

“Very few, may be….”

“Nice….. Okay… Now, tell me… What do you call a bunch of resources mass-produced from an organization….! Who can think and act like human beings…. Take orders…. Execute them promptly….. Do not ask questions…. Do not create nuisances…. Do not deviate from standards…. Do not question intent or spirit of their higher-ups….?

“Robots…”

“Okay…. Can you tell me if your students have done wonders or miracles in the very three fields of executive, those they are into…? Have they done any notable good to the state…?”

“They are just state executives… And executive branches do not do miracles or wonders…. They are no doubt, doing excellent in their respective positions… However, they just have to run the affairs of the state….”

“Very nice…. Now tell me… Would you like your guys to do better for the state and for the world….”

“Yes, why not….”

“Should I tell you just one recipe whereby you can turn your schools’ product sky-high, in terms of vision, innovative thinking and creativity….. Besides forgetting uniformity and standardization for good….. 🙂 ”

“Yes….. Sure…”

“Just reverse the matrix…. Right now, the ‘discipline’ is the prime ingredient in your recipe…. Take it out of initial formula…. And make it the end-product…..”

“But how…?”

“Let the MINDS of your students, BREATHE….”

Dialogue – 205 ( گوشت )

ڈاکٹر سے ہو آئے؟

جی۔

کیا تشخیص ہوئی بیماری کی؟

انھوں نے کہا آپ کا مسئلہ اندرونی ہے۔ دوائیاں بھی دیں۔

کوئی پرہیز؟

جی۔ گوشت سے منع کر دیا۔ ہر قسم کے گوشت سے۔

مطلب چکن ، مٹن اور بیف۔

 جی۔ اسکے علاوہ بہت زیادہ باتوں سے ، اور بےکار کی محفلوں سے بھی۔ اور بلاوجہ کے تجسّس سے۔ بہت زیادہ گمان کرنے سے۔

وہ کیوں؟

کیونکہ “ہر قسم” کا گوشت منع ہے۔

Dialogue – 204 (Arms for Peace….)

“Was Islam spread by sword..?”

“Certainly NOT….”

“But most of the world’s historians and even some Muslim writers are of this view….”

“Haven’t you heard that… comments and views are free… But facts are sacred.. 🙂 ”

“Some Muslim scholars even go to the extent to say that Islam has an inherent aggressive mind-set, and that is a positive thing which must be preserved, defended and promoted…”

“Ahan…”

“Based on this assumption, they maintain that Islam shall prevail, and with that comes the term ‘ghalbah’ – so we must be aggressive in implementing the spirit of Islam onto our enemies and enemies of Allah, and….”

“….And?”

“….and that the notions of peace and longing for a happy life in this world is a sign of weakness… Thus, a Muslim should always be ready to die and kill…. He should not look around for luxuries of this world, but for better, sustained and permanent life of Jannah…. And, whosoever looks at Islam as a religion of ‘peace’ must not forget that it was the sword which had let us prevail, and it is the sword, which will let us survive in future too…”

“I see a dichotomy of sorts here…”

“What..?”

“We have to be clear… We have to have one view…. Either we want to survive or prevail, or we want to die….. These are two different things…”

“How..?”

“Look… A suicide bomber wants to die, for whatever reason….but he is clear, that he won’t live and won’t let live….. However, the world other than that bomber wants to live…. So we have to decide as to which line we tow…”

“Hmmmmmm…”

“Then, we have to understand the sword first, before making it our trademark…”

“And how is that..?”

“A sword is a tool… A surgical tool… Aggression and war are instruments of destruction….. They have been, and will always be the instruments of destruction…. They have, and always will not be liked…. They have, and will always be the last resort, the least preferred choice and the most despised option…”

“But Rasulullah SAAW had a number of swords at his house, more than anything else in such numbers….”

“Yes… And that is exactly what we have to understand.. Rasulullah (SAAW) had that mini-arsenal, but how many times did he USE those, and under what circumstances…..may be in 15 percent time of his life….. You see, he fought 25 wars. Ghazwaat.. In those wars, 140 Muslims embraced Shadaadat, while 3648 opponents were slain… On the other hand, the strategy he used in 85 percent of his life included compassion, compassion and compassion. But, we probably don’t like to prefer his compassionate side over his warrior spirit…. Isn’t!…”

“May be you are right…”

“Look.. Islam is very very clear on the use of force… It gives a criteria, preconditions and circumstances for use of aggressive physical force…. And when those criteria are met, Islam asks us to kill even in Mecca and even in Haraam months…. Islam asks us to be ready always….. To keep our weapons in a state of readiness…. Islam had given us the laws of armed conflict, humanitarian guidelines as well as ethics of war at a time when most of the world was not even conversant to these things… Even today, most of the world is not very educated on those lines…. In 20th century alone, 60 million-plus people died in major conflicts, which include World Wars, Vietnam War, Afghan War, etc. Now, take a quarter of it (15 million lives) and compare it to equivalent time of 23 years of ghazwaat, where a total of less than 4000 lives were lost….”

“Yes, that is right….”

“We have to remind ourselves that use of sword is like a surgical tool… A surgeon will never cut you open, unless your life is at risk… Till that threshold, he will use medicines, physical therapies, food & lifestyle changes, and a host of other means and modes to bring your health back… Surgery is done in extreme conditions…. Islam has prescribed us to amass weapons with two purposes…

  1. To be ready for war at all times.
  2. To instill fear in the hearts of our opponents and Allah’s opponents.”

“But how can this be simplified….? For sake of understanding….”

“Do you have younger siblings?”

“Yes…”

“If they don’t listen to you, have you ever threatened them of some consequential action by you…? Have you ever issued a physical threatening gesture, like a false slap…. 🙂 …..”

“Yes, many a times…. In our childhood….”

“How many times have you ever hit them…?”

“Never….”

“Why…?”

“Because, the conditions never came…. Because they were straight like a stick just be my verbal threats….”

“Yes… Indeed…. It is not about the real or false slaps…. It is never about kids of grown ups or nations….. It is about conditions….”

“True…”

“And there is another angle to it too….”

“What?..”

“Islam was not a firebrand religion… Cutting the heads of people was perfectly carried out by people like Hitler, Changez and Alexander….. Islam was, is and always will be about peace….”

“True…”

“Well, sometimes, you need arms for peace….. That’s not necessarily for war… That’s for deterrence, military balance, peaceful co-existence….. That is what Quran said about ‘keeping the horses and power ready’….. The key word here is ‘ready’…..”