پرانا چھاپہ

تحریر : لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

جیساکہ چچا غالب نے فرمایا تھا ’گرچہ ہو مشاہدہ حق کی گفتگو، بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر‘ ویسے ہی فوج میں پرانے چھاپے کے بغیر بھی کوئی بات نہیں بنتی۔ جب بھی کسی کو کوئی کام ملتا ہے اس کی پہلی کوشش ہوتی ہے کہ پرانا چھاپہ تلاش کیا جائے۔ اس کی تین وجوہات ہوتی ہیں ایک تو اس سے وقت کی خاصی بچت ہو جاتی ہے دوسرا یہ کہ سینئرز کی جانب سے تنقید اور ملامت کا امکان کم سے کم ہو جاتا ہے اور تیسری اور سب سے خاص افادیت یہ کہ دماغ استعمال نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ تروتازہ رہتاہے اورخشکی اور گنج پن جیسی بیماریاں نزدیک بھی نہیں پھٹکتیں۔

چھاپے کی کارفرمائیاں کورسز کے دوران عروج پر ہوتی ہیں۔ اگرچہ سٹوڈنٹس کو کورس کے شروع میں سمجھا دیا جاتا ہے کہ پرانے چھاپے استعمال کرنے کی بجائے جینوئین ایفرٹ کی جائے لیکن سٹوڈنٹس بھی اس ہدائت کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیتے ہیں۔ اوروں کا کیا ذکر کریں خود ہم نے بھی جب جب چھاپے سے ہٹ کر اپنا دماغ استعمال کرنے کی کوشش کی تو ہمیشہ منہ کی کھائی۔ سٹاف کالج میں بھی ہم ان معدودے چند افسران میں شامل تھے جو ہر اسائنمنٹ خود سے تیار کیا کرتے تھے۔ ظاہر ہے ایسا کرنے میں وقت بھی زیادہ لگتا تھا اور کلاس میں اکثر اوقات انسٹرکٹر سے اختلاف بھی ہو جایا کرتا تھا کیونکہ عموماً وہ بھی پرانے چھاپوں سے استفادہ فرما کر ہی کلاس میں تشریف لاتے تھے۔
صرف ایک مرتبہ یہ کفر ٹوٹا اور ہمارے انسٹرکٹر نے خوب کھل کر ہماری تعریف کی جب ہم نے بیس صفحات پر مشتمل آپریشن آرڈر کو صرف ایک صفحے پر تحریر کر کے دریا کو کوزے میں بند کر دیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد ہم کئی روز تک شدید بخار میں مبتلا رہے۔ سنتے ہیں کہ گئے وقتوں میں صاحبزادہ یعقوب علی خان مرحوم نے یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا اور مرتے مرتے بچے تھے۔ یقیناًاس کے بعد انہوں نے اس بھاری پتھر کو چومنے سے گریز ہی کیا ہوگا اسی لئے طویل عمر پائی۔

بہرحال اکثر حضرات کا گزارہ چھاپے پر ہی ہوا کرتا تھا۔ وہ شام کو انتظار کیا کرتے تھے کہ جوں ہی کوئی مردِ میدان اگلے دن کی اسائمنٹ(چھاپہ) تیار کرے تو فوراً اس سے لے کر سکون کی نیند سو جائیں اور اگلے دن جوں کی توں اپنے نام سے پیش کر دیں۔ زیادہ سے زیادہ سلائیڈز کا بیک گرانڈ کلر چینج کردیا جاتا۔ لوگ کوشش یہ کرتے تھے کہ چھاپہ کسی دوسرے سینڈیکیٹ کے افسر سے لیا جائے۔میجر شاہد افسروں کی مذکورہ کیٹٹگری کے سرخیل تھے۔
ایک شام کوئی پانچ بجے کے قریب ہم اگلی صبح کی اسائنمنٹ تیار کرنے میں مصروف تھے کہ موصوف آن دھمکے اور چھاپے کا مطالبہ داغ دیا۔ چونکہ چھاپہ ابھی تیاری کے مراحل میں تھا اس لئے ہم نے ان سے تھوڑا اور وقت مانگ لیا اور ایک گھنٹے کے بعد تشریف لانے کی درخواست کی۔ موصوف ٹھیک ایک گھنٹے کے بعد آن دھمکے اورہم سے چھاپے کا مطالبہ کیا۔ ہم نے مزید ایک گھنٹے کی مہلت کی درخواست کی جو انہوں نے تھوڑی سی بحث و تکرارکے بعد عنائت کر دی۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اس مرتبہ بھی جب وہ پہنچے تو چھاپہ تیار نہ تھا جس پر موصوف باقاعدہ طیش میں آ گئے ۔ انہوں نے اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے پر ہمیں خوب جلی کٹی سنائیں ۔ اس کا یہ اثر ہوا کہ اسائنمنٹ مکمل کرنے کے بعد ہم خود دینے کے لئے ان کے گھر گئے ۔ موصوف نے فائل اپنے کمپیوٹر میں کاپی کی اور یو ایس بی ہمارے حوالے کر دی۔ صبح جب کلاس میں پریزینٹیشن کی باری آئی تو ہم نے اپنی یو ایس بی کمپیوٹر کے ساتھ لگائی لیکن اس میں ہمیں مذکورہ فائل کہیں دکھائی نہیں دی۔ نتیجتاً انسٹرکٹر کے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔
ہوا کچھ یوں تھا کہ میجر صاحب نے ہماری یو ایس بی سے اپنے کمپیوٹر میں کاپی کرتے ہوئے، کاپی پیسٹ کی بجائے کٹ پیسٹ کی کمانڈ دے دی تھی۔
اب آپ کو کیا بتائیں کہ کورس کے اختتام پر وہی میجر صاحب سب سے اعلی گریڈ لے کر فارغ التحصیل ہوئے ۔

Advertisements

As sung by Aviation Cadet Ghulam Rabbani… 😄😄 [Re-posted]

rabbani

Differences between military Aviators

Naval Aviator
On a carrier, the Naval Aviator looks over at the Catapult Officer (“Shooter”) who gives the run-up-engines signal by rotating his finger above his head. The pilot pushes the throttle forward, verifies that all flight controls are operational, checks all gauges, and gives the Cat officer a brisk salute, continuing the Navy/Marine tradition of asking permission to leave the ship. The Cat officer drops to one knee while swooping his arm forward and pointing down deck, granting that permission. The pilot is immediately catapulted and becomes airborne.

(Sound familiar….! 😄)

 

Air Force Pilot
We’ve all seen Air Force pilots at any air force base look up just before taxiing for take-off, and the ground crew waits until the pilot’s thumb is sticking straight up. The crew chief then confirms that he sees the thumb, salutes, and the Air Force pilot then takes off. This time-tested tradition is the last link in the Air Force safety net to confirm that the pilot does not have his thumbs up his cellphone.

( 😄…Thumb signal also encompasses the waving good-bye)

.

Army Aviator

If you’ve ever seen an Army helicopter pilot preparing for takeoff, you will note that the pilot gives the ground guy a thumb up before he is given hover and takeoff signals. There are two theories about the origin of this gesture. One is that it is to show that the pilot has identified which of his fingers is the thumb so that he will be able to properly operate his controls. The most compelling theory says that this is to show the ground crewman that the pilot indeed knows which direction is up.

(Now this is self-explanatory… 😄 )

پشتو میں شاپنگ

پشاور میں ہمارے قیام کا زمانہ 1995 سے لے کر 1998 تک رہا۔ اس دور میں پشاور ایک پرامن شہر ہوا کرتا تھا۔ مال روڈ کے بیچلر آفیسرز کوارٹرز ہمارا مسکن تھے اور ڈیو آرٹلری میس میں ہم کھانا کھانے کے ساتھ ساتھ اپنا فارغ وقت بتایا کرتے۔ انگریزوں کے دور کی نشانی پشاور کا یہ ڈیو آرٹلری میس صدیوں کی تاریخ اپنے اندر سمیٹے نہایت شان سے مال روڈ پر ایستادہ تھا اور آج بھی ہے۔ اس میس کی خاص بات اس کی تعمیراتی خوبصورتی اور تزئین و آرائش تھی۔ وکٹورین سٹائل کی بلڈنگ، دیدہ زیب فرنیچر، ووڈ پینلنگ اور دلکش لانز کو دیکھ کر دل بے اختیار اسے تعمیرکرنے والوں کو داد دینے کو چاہتا۔ اپنی عسکری زندگی میں ہمیں درجنوں میس دیکھنے کا اتفاق ہوا، لیکن ڈیو آرٹلری میس جیسا بانکپن کسی اور میں ڈھونڈے سے بھی نظر نہ آیا۔ان دنوں میس لائف کے علاوہ یار لوگوں کا واحد شغل سستی شاپنگ کے لئے پشاور کے بازاروں کے چکر لگانا تھا۔ باڑے میں انواع واقسام کی دیسی بدیسی اشیا ارزاں نرخوں پر دستیاب تھیں۔ ہمیں خود تو شاپنگ کا کوئی خاص شوق نہیں تھا، البتہ گھر والے اکثر فرمائشیں نوٹ کرواتے رہتے تھے جنہیں پورا کرنے کے لئے ویک اینڈ پربازاروں کی خاک چھاننا ایک معمول کی بات تھی۔ پٹھان بھائیوں کے ساتھ مول تول کرنا بھی ایک آرٹ سے کم نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کے ہزار روپے مانگ کر سو روپے میں آپ کے حوالے کر دیں اور اگر اڑ جائیں تو شائد ایک روپیہ کم کرنے پر بھی آمادہ نہ ہوں۔ سینئرز نے پشاور میں شاپنگ کے اصول کچھ اس طرح بیان کئے کہ ایک تو شاپنگ کرنے اکیلے نہ جایا جائے، دوسرے اپنا تعارف آرمی افسر کے طور پرنہ کروایا جائے اور تیسرے یہ کہ کسی پشتو بولنے والے افسر کو ضرور اپنے ہمراہ رکھا جائے۔ پہلے دو اصولوں پر عمل کرنا ہمارے لئے چنداں مشکل نہ تھا لیکن تیسرے اصول کے بارے میں ہم ہمیشہ مشکل کا شکار رہے کیونکہ ان دنوں ایم ایس برانچ کی مہربانی سے کوئی پشتو جاننے والا افسر ہماری یونٹ تو کیا پوری ڈیو آرٹلری میں موجود نہ تھا۔ لفٹین پارٹی کی اس مشترکہ مشکل کا حل نکانے کے لئے ہمارے ایک سینئر کو یہ بھاری پتھر چومنے کے لئے تیار کیا گیا۔ موصوف نے یونٹ کے کینٹین بوائے سے پشتو سیکھنے کی ابتدا کی جو کہ پشاور کے کسی نواحی علاقے کا رہنے والا تھا۔ پشتو سیکھنے کے لئے ایک ماہ کا ہدف مقرر کیا گیا۔ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد انہوں نے میس میں آ کر اعلان کیا کہ انہیں پشتو زبان میں مطلوبہ استعداد حاصل ہو چکی ہے۔ یہ بات سن کر ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ ویک اینڈ پر موصوف کی منت سماجت کرکے اپنے ساتھ باڑہ بازار میں شاپنگ پر چلنے کے لئے رضامند کر لیا۔ ہمارا شاپنگ پر جانا اس لئے بھی ضروری تھا کہ کچھ دن پہلے ہی گھر والوں کی جانب سے ایک عدد ٹی وی بھجوانے کی فرمائش موصول ہوئی تھی۔ بازار میں پہنچ کر ایک الیکٹرونکس کی دوکان کے سامنے بریک لگائی۔ اس مرتبہ مول تول کے بارے میں ہم چنداں پریشان نہ تھے کیونکہ پشتو زبان کا ایک ماہر ہمارے ہمراہ تھا۔ دوکاندار نے مختلف ماڈلز کے ٹی وی دکھانا شروع کئے۔ بھاؤ تاؤ کا مرحلہ آیا تو موصوف بولے ’’دا ٹی وی ہمیں پسند دے۔ دا کتنے کا دے۔ دا گارنٹی کتنے سال کا دے۔‘‘ ان کی اس حیرت انگیز پشتو پر ہم دوکاندار کے سامنے تو خاموش رہے لیکن باہر نکل کر اتنا ہنسے کہ آنکھوں میں آنسو آگئے اور ہمیں دہرے ہو کر ایک ستون کا سہارا لینا پڑا۔ اس دن کے بعد سے ہمیں کسی کو اپنے ہمراہ شاپنگ پر لے جانے کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ پشتو بولنے کا نادر نسخہ اب ہمارے اپنے ہاتھ لگ چکا تھا۔ اس نسخے کے مطابق اردو ہو یا انگریزی اسے پشتو میں ڈھالنے کے لئے ہم ہر فقرے کے شروع میں ’دا‘ اور آخر میں ’دے‘ لگا دیا کرتے تھے۔


تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

سِتاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

IMG-20180506-WA0001.jpg

Choosing a punishment…

soldier.gif

 

Private Loyds was brought up before the unit CO for some offence.

“You can take your choice, private – one month’s restriction or twenty day’s pay,” said the officer.

“All right, sir,” said the bright soldier, “I’ll take the money.”

ہیبت ناک پروموشن

 تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

فوجی افسر پاس آؤٹ تو کندھے پر ایک پھول لے کر ہوتے ہیں تاہم اس پھول کو کھلانے کے لئے برابردو سال تک ایبٹ آباد کی پہاڑیوں کی خاک چھاننا پڑتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح بعد کے پھولوں کے لئے بھی ایسے بہت سے کٹھن پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ سے لے کر میجر تک ہر رینک کے لئے علیحدہ سے ایک پروموشن ایگزام پاس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سروس کی مقررہ حد عبور کرنا بھی لازم ہے۔ یہاں تک تو سب ٹھیک ہے لیکن جس چیز سے یار لوگوں کی جان جاتی ہے وہ کمانڈر اور جی او سی کا انٹرویو ہوتا ہے۔ ہمارے ایک سینئر ایسے ہی ایک انٹرویو کے لئے کمانڈر کے دفتر میں حاضر ہوئے ۔ کمانڈر نے ان سے پوچھا ’’آذر بائیجان کہاں ہے‘‘ (ان دنوں وہاں جنگ چھڑی ہوئی تھی اور اکثر خبروں میں اس خطے کا ذکر ہوا کرتا تھا۔) موصوف جھٹ سے بولے ’’سر! اظہر بھائی جان تو زیادہ تر دبئی میں ہوتے ہیں ۔چند دنوں کے لئے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ ابھی کل ہی واپس گئے ہیں۔ آپ ان کو کیسے جانتے ہیں؟۔‘‘ کمانڈر نے یہ سن کر سر پیٹ لیا اور موصوف کو تیاری کر کے دو ماہ بعد دوبارہ تشریف لانے کاحکم دیا۔ برما کی جنگ کے بارے میں ہمارے ایک کورس میٹ سے جی او سی نے سوال کیا’’برما کی جنگ کے دوران کون سے مشہور دریا کے آس پاس فوجوں نے پڑاؤ کیا تھا؟‘‘ انہوں نے فٹ سے جواب دیا ’’دریائے اروندا۔‘‘ موصوف دریائے ایراودی کو مشہورسری لنکن کرکٹر اروندا ڈی سلوا سے ملا بیٹھے اور یوں جی او سی سے خوب ڈانٹ کھائی۔ 

جیسے تیسے کر کے یہ خطرناک مرحلہ طے ہوجاتا تھا تو شانوں پر پھول لگانے کی باری آتی تھی۔ ڈیو اور بریگیڈ ہیڈکوارٹر کی طرف سے یونٹ کو لیٹر بھیج دیا جاتا تھا کہ افسر ہماری طرف سے کلیئر ہے اوراس کو مطلوبہ رینک لگادئے جائیں۔ وہ ہمارا لفٹینی کا زمانہ تھا۔ ہم ان دنوں پشاور میں تعینات تھے اور کندھوں پر کپتانی کے تین پھول کھلانے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ہمارے کمانڈر اور جی او سی سے انٹرویو ہو چکے تھے لیکن نتیجہ ہمارے علم میں نہ تھا۔ دن جیسے تیسے گزر رہے تھے۔ ایک دن ہماری ٹھہری ہوئی زندگی میں بھونچال آ گیا۔ خبر ملی کہ ہماری یونٹ کے ایک سپاہی نے یونٹ سے چھٹی لینے کے بعد شہر کا رخ کیا اور وہاں سے ایک عدد رائفل خرید کر اپنے گھر لے جاتا ہوا پکڑا گیا۔ پولیس والوں نے مذکورہ سپاہی کو یونٹ کے حوالے کر دیا جہاں اس کو کوارٹر گارڈ کی حوالات میں بند کر دیا گیا۔

صبح ہوئی تو ایڈجوٹنٹ نے ہمیں اپنے دفتر میں طلب کیا. وہاں پہنچے تو دیکھا کہ یونٹ کے تمام افسر موجود ہیں اور وہی معاملہ زیر بحث تھا۔ ہم بھی ایک کونے میں کرسی سِرکا کر بیٹھ گئے۔ ہمارے بیٹری کمانڈر میجر وحید نے بات کا آغاز کیا۔ کہنے لگے ’’یار ہم تو تمہیں انتہائی شریف انسان سمجھتے تھے اور ہمیں تم سے ایسی گھٹیا حرکت کی ہرگز توقع نہ تھی‘‘ ہم نے وضاحت چاہی تو کہنے لگے ’’برخوردار، یہ جو سپاہی حوالات میں بند ہے اس نے بیان دیا ہے کہ تم نے اسے رائفل خریدنے کے لئے پیسے دئے تھے اور یہ اسلحہ اس نے تمہارے ساتھ مل کر ڈاکہ زنی کے لئے استعمال کرنا تھا۔‘‘ اس قدر سنگین الزام سن کر تو گویا ہمارے پاں تلے سے زمین ہی نکل گئی۔ ہم نے کچھ بولنا چاہا لیکن حلق سے آواز برآمد نہ ہوئی۔ ہم نے اس الزام کی صحت سے انکار کیا تو بتایا گیا کہ آپ کے کورٹ مارشل کی تیاری مکمل ہے، سپاہی مذکورہ نے سی او کے روبرو آپ کے خلاف شہادت دے دی ہے اور اس کے بعد آپ فوج سے فارغ ہونے کے ساتھ ساتھ دو تین سال کے لئے جیل بھی جائیں گے۔ ہم نے رندھی ہوئی آواز میں رحم کی اپیل کی جو سنی ان سنی کر دی گئی۔

کچھ ہی دیر بعد ہمیں کورٹ مارشل کے لئے سی او کے سامنے پیش کیا گیا۔ ایڈجوٹنٹ اور بیٹری کمانڈر سی او کی ٹیبل کے دائیں بائیں کھڑے تھے۔ ’’جلدی چل‘‘ کا کاشن سن کر ہم تیزی سے پریڈ کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ اونچی آواز سے سی او کو سلیوٹ کیا اور اٹن شن کھڑے ہو گئے۔ سی او نے چارج شیٹ پڑھ کر سنائی اور ہم سے مذکورہ الزام کی وضاحت طلب کی۔ ہم نے الزام کی صحت سے انکار کیا لیکن انہوں نے ہماری صفائی کو فی الفور مسترد کردیا ۔ آخر میں انہوں نے ہمیں با آواز بلند فوج سے برخواستگی اور ایک سال قید سخت کی سزا سناتے ہوئے آفس چھوڑنے کا حکم دیا۔

یہ سننا تھا کہ ہمیں سی او کے آفس کی ہر چیز گردش کرتی ہوئی معلوم ہونے لگی۔ قریب تھا کہ ہم چکرا کر گر جاتے کہ ایڈجوٹنٹ نے لپک کر ہمیں سنبھال لیا۔ اسی دوران باقی یونٹ افسر بھی سی او کے آفس میں داخل ہوچکے تھے۔سب سے آخر میں ویٹر نذیر ایک سجی سجائی پلیٹ کے ہمراہ اندر داخل ہوا جس میں سٹار چمک رہے تھے ۔ سی او اور کمپنی کمانڈر نے مل کر ہمارے کندھوں پر کپتانی کے سٹار لگائے اور مبارکباد دی۔ اسی اتری ہوئی شکل کے ساتھ ہماری تصویریں بھی بنائی گئیں۔ اس کے بعد چائے پی گئی اور مٹھائی کا دور چلا۔ ہمارے لئے بہرحال یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ خوشی کس چیز کی منائیں ،پروموشن کی یا کورٹ مارشل سے جان بچنے کی ۔