Self-Description 84

ہم  اس  سے  بچ  کے  چلتے  ہیں

……. جو  رستہ  عام  ہو  جائے

 

Advertisements

Self-Description 83

اِس شہرِ با کمال میں ……. اِک ہم کو چھوڑ کر

… ہر شخص بے مثال ہے ، ہر شخص لاجواب

Self-Description 82

میرے قرطاسِ عمر پر اس نے

ہرکٹھن رہ ، سفر سفر لِکھی

Self-Description 81

 انہیں تو ستم کا مزا پڑ گیا ہے

کہاں کا تجاہل ، کہاں کا تغافل

Self-Description 80

 عمرِ مصروف کبھی لمحہ ِ فُرصت ہو عطا

مَیں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا__

Self-Description 79

…. محوِ سفر رہے ہیں قَدم اور قَلم سَدا

رُک پاتےگر کہیں تو کوئی گھر تراشتے

Self-Description 78

 سُنتا ہوں سَرنگوں تھے، فرشتے میرے حضور

میں جانے اپنی ذات کے، کس مرحلے میں تھا