Classics – 94

تین کونوں سے نکلتے ہیں گُھٹن خوف سکوت

….. میں سِرکتا ہوا چوتھے میں دبک جاتا ہوں

Advertisements

ہوا کی زد پہ دِیا جلانا ، جَلا کے رکھنا، کمال یہ ہے

Magic.jpg

‏ کل اَگّے اَج گِروِی رَکھیا ، کَدے وِی اَوترا کَل نئیَں آیا

download.jpg

من عاصیم ، من عاجزم ، من بیکسم

تری منزلیں جو اُجاڑ ہیں تو یہ تِشنگی بے سبب نہیں
تری گود میں رَہِ پُر فسوں! کسی حادثے کا غضب نہیں
 
جو لہو رواں نہ ہو سانس میں، تو عَبَث یہ دعویِٰ عشق ہے
ہو طبیب جس کا امید سے، وہ مریض ہی جاں بہ لب نہیں
 
کہ محبتوں کے وجود پر، ترے یہ ستم ہی سدا رہے
ترا ہاتھ دستِ رقیب میں، نہیں یوں نہیں ، نہیں اب نہیں!
 
مرے سایے سے بھی بچا کرو، نہ وفا سی کوئی دوا کرو
مرا لمس عکسِ الم ہوا، مرے آبلے بے سبب نہیں
 
ترے ہجر میں اے حریمِ جاں! تھی نصیب رفعتِ کُل جہاں
نہیں وصل گر تو کیا ہو غم، ہمیں بھی تو ویسی طلب نہیں
 
یہ شکایتیں سبھی خواہشیں، یہ تو عاشقی کا چلن نہیں
جو حضورِ یار نظر اٹھے، تو نشے کا کوئی نسب نہیں
 
ہیں جو دارِ حرف پہ کھینچتے، جنہیں ظرف سے رہا بَیر ہے
ہوئے جب بَہم تو جتا گئے کہ ہمیں ہی پاسِ ادب نہیں
 
نہ یقیں کو اَوجِ کمال ہے، نہ ہی صبر ہے کبھی جبر میں
تو ہو قدرِ کُن ہمیں کیوں عطا، ہمیں آرزو کا ہی ڈھب نہیں
 
تُو گوا ہ ہے تُو نقیب بھی، ترا اِذن میرا نصیب بھی
تری رحمتوں کا سوال ہے، گَو حرم نہیں، یہ رجب نہیں
 
ترا نقش ہو مرے قلب پہ، ترا قُرب تیرا ہی وصل ہو
ترے باغ کی ہے جو داستاں، مری بندگی کا سبب نہیں

امتنان قاضی

Masterpiece – 46

سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں

لیکن اِس ترکِ محبّت کا بھروسا بھی نہیں

بات یہ ہے کہ سکونِ دلِ وحشی کا مقام 

کُنجِ زنداں بھی نہیں وسعتِ صحرا بھی نہیں

یہ بھی سچ ہے کہ محبت پہ نہیں میں مجبور

یہ بھی سچ ہے کہ ترا حسن کچھ ایسا بھی نہیں

شکوۂ جور کرے کیا کوئی اس شوخ سے جو

صاف قائل بھی نہیں، صاف مکرتا بھی نہیں

بُھول جاتے ہیں کسی کو مگر ایسا بھی نہیں 

یاد کرتے ہیں کسی کو، مگر اِتنا بھی نہیں

تم نے پُوچھا بھی نہیں، میں نے بتایا بھی نہیں 

کیا مگر راز وہ ایسا تھا کہ جانا بھی نہیں

ایک مُدّت سے تِری یاد بھی آئی نہ ہمیں

اور ہم بھول گئے ہوں تجھے، ایسا بھی نہیں

مہربانی کو محبّت نہیں کہتے، اے دوست

ہائے اب مجھ سے تجھے رنجشِ بیجا بھی نہیں

فطرتِ حُسن تو معلوم ہے، تجھ کو ہمدم 

چارہ ہی کیا ہے بجُز صبر، سو ہوتا بھی نہیں

نگہِ ناز کی نیّت کا پتہ بھی نہیں اور

دلِ دیوانہ کا ، معلوم اِرادہ بھی نہیں

بےخودی ہوش نُما، ہوش بھی غفلت آرا 

اِن نِگاہوں نے کہیں کا مجھے رکھّا بھی نہیں

یوں تو ہنگامے اُٹھاتے نہیں دیوانۂ عِشق

مگر اے دوست، کچھ ایسوں کا ٹھکانا بھی نہیں

تجھ سے سنبھلیں تو سنبھال اپنے حجابِ بیباک

ہیں اُٹھانا حدِ آداب تماشا بھی نہیں

دل کی گِنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں 

لیکن اِس جلوہ گہِ ناز سے اُٹھتا بھی نہیں

آج غفلت بھی اِن آنکھوں میں ہے پہلے سے سوا 

اور دلِ ہجر نصیب آج شکیبا بھی نہیں

ہم اُسے منہ سے بُرا تو نہیں کہتے، کہ فراق

دوست تیرا ہے، مگر آدمی اچھا بھی نہیں

Masterpiece – 45

بس اِک نگاہ مجھے دیکھتا ، چلا جاتا

اُس آدمی کی محبّت فقیر ایسی تھی

ردا کے ساتھ لٹیرے کو زادِ رہ بھی دیا

تری فراخ دلی میرے دِیر ایسی تھی

 

پروین شاکر

Expressions – 82

‏یہ گرد بیٹھ جائے تو معلوم کر سکوں

آنکھیں نہیں رہِیں کہ تماشہ نہیں رہا