وکھرے جگ توں لاڈ مُحبت وکھری اے ، دُنیا پِھر لئی پیو دی شفقت وکھری اے

hero-love

A Silent Message – 89

عندما يمنحك الله بداية جديدة لا تكرر الاخطاء القديمة

اگر آپ کو اللہ دوسرا موقع عطا کرے تو آپ بھی پرانی غلطیاں مت دہرایا کریں


 سلی

Jewels and Gems – 154

When people allow you to know about their pain and talk about it, take your shoes off. It’s a holy place. Be humble, be kind when someone shows you vulnerability.

[Amani Albair Gohar]

Eloquence – 25

زندگی بہت چھوٹی ہے۔ ہماری کچھ کر سکنے کی حیثیت اس سے بھی کمتر ہے۔

اپنے اپنے دائرہ کار میں کچھ ایسے لمحوں، کچھ ایسی سوچوں کے بیج بو دینے چاہیٗیں کہ جب کوئی دوسرا دھوپ سے بےحال ہو تو وہاں سایہ پا سکے۔

ورنہ مٹی نے تو مٹی ہونا ہی ہے۔ آج مرے کل دوجا دن۔


 Ell Enn

میں نیم شب کی گھنی اُداسی میں اپنے سائے کے رُوبرو ہوں

cbbc2e8d7b01c49138d5b3f74571a6fa

Soul-Search 252

سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
……. کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا

Zaad e Raah – 23

اگر وہ مِلیں گھر کا گھر بیچتا ہوں
میں ہستی کی ساری دُکاں بیچتا ہوں
زرِ مال و دُنیا کی وقعت ہی کیا ہے
میں قلب و نفس ، رُوح و جاں بیچتا ہوں

Classics – 173

Werner Heisenberg, Pioneer of Quantum Physics:

“The first gulp of natural sciences will turn you into an atheist, but at the bottom of the glass God is waiting for you.”

Emerson’s Master Tweets – 29

Tradition is a solution that works even when we forget the problem.

“Relativity applies to physics, not ethics” – Einstein

http://www.daanish.pk/44408

آسانی

One of the companions asked: “O Messenger of Allah, the laws of Islam have become many for me, so tell me something which I can cling on to.”

He ﷺ replied: “Always keep your tongue moist with the remembrance of Allah.”

(Tirmidhī)

Soul-Search 251

تمہارے جانے کے بعد ہم نے سکون ڈھونڈا کچھ اس طرح سے

بچھڑنے والوں کے پاؤں پڑنا انہیں جدائی سے باز رکھنا

Umair’s Tagline – 786

اجل میں ، زیست میں ، تُربت میں ، حشر میں ظالم

تیرے ستم کے لیے ………… میں ہی انتخاب ہوا

ہے غیر ممکن کہ اُن کے در سے کوئی سوالی بھی آئے خالی ، قسیم جنت قسیم کوثر قسیم دُنیا جناب زہراؑ

حبب الٰھی من دنیاکم ثلاث : تلاوة کتاب اللہ و المنظر فی وجہ رسول اللہ

و الانفاق فی سبیل اللہ 

حضرت فاطمہ زہرا (ع) فرماتی ہیں 

 میرے نزدیک تمہاری اس دنیا میں تین چیزیں محبوب ہیں: تلاوت قرآن مجید ، زیارت چہرہ رسول خدا  اور راہ خدا میں انفاق ۔

چھاپہ کہانی

ایک جگہ پولیس کا چھاپہ پڑ گیا۔
ایک بھنگی پہلے ہی بھاگ کر ﮈالے میں بیٹھ گیا۔
پولیس والا: تینوں بوہتی جلدی اے؟
بھنگی: میں پچھلی دفعہ وی کھلو کے گیا ساں۔

Soul-Search 251

نُکتہ وروں نے ہم کو سجھایا ، خاص بنو اور عام رہو

 محفل محفل صحبت رکھو ……… دنیا میں گُم نام رہو

Random Thoughts – 187

خُدا کے ساتھ ہمارا رشتہ کیسا ہے؟

اسکا  اندازہ ہمیں  یوں ہو سکتا ہے کہ    انسانوں کے ساتھ ہمارا  اپنا  کیسا رشتہ  ہے۔

اگر یہاں  ہماری طرف سے نرمی ، آسانی، رحم اور سہولت کا معاملہ ہے ، تو وہاں ہمارے لئے ایسا ہی مقدر ہے۔

اگر یہاں ہماری طرف سے   رحم ، آسانی اور مدد کا واقعہ نہیں ہے ، تو ہمارا خُدا کے بارے میں تصور بھی اسی مطابق ہو گا۔

خُدا کے ساتھ ہمارا رشتہ ، اُسکی مخلوق کے ساتھ ہمارے رویّے ، اخلاق اور  برتاؤ میں نظر آتا ہے۔

Eloquence – 24

Only if we had our knowledge filters in place, and our pace of absorbing information was as fast as is the pace of acquiring it in this age of constant screen exposure, we’d be less damaged. Less hyper vigilantes. More learned.


Leenah Nasir

Random Thoughts – 186

تقدیر ، ماضی کا تبصرہ، حال کا زاویۂ نگاہ اور مستقبل کا امکان ہے۔

تبصرہ ، ردِ عمل ہے۔ ردِ عمل بلا ضرورت عمل کا نام ہے۔

امکان ، ممکنات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ممکنات بلا ضرورت سوچوں کا نام ہے۔

ضرورت صرف حال میں جینے کی ہے۔

قسمت، زمان و مکاں کا واقعہ نہیں۔ یہ تو دل و نگاہ کا زاویہ ہے۔
جِیسے دیکھیں اور محسوس کریں گے، ویسی ہی بن جائے گی۔

یہاں انتخاب ماننے اور جاننے کے بیچ ہے۔

ماننے اور جاننے میں وہی فرق ہے جو یقین اور شک میں ہے۔

Eloquence – 23

ادب اور تاریخ میں کیا فرق ہے؟ تاریخ گزری ہوئی حکایت ہے۔ اس کا انجام معلوم ہوتا ہے۔ اگر ہم ابھی تک سانس لے رہے ہیں تو تاریخ کے کردار کتاب کے صفحوں سے نکل کر ہم پر حملہ آور نہیں ہو سکتے۔ ادب ایک فتنہ پرور ہنر ہے۔ لکھنے والا نامعلوم کو معلوم میں اس طور ملا دیتا ہے کہ ماضی کے حادثے اور حال کے اندیشے گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ پڑھنے والا اپنی ذات سمیت ایک ایسی انسانی صورت حال کا کردار بن جاتا ہے جہاں حقیقت کی دھوپ اور آس کی چھاؤں دلوں کی بے کلی کو سرگم جیسے جھونکوں سے مہمیز کرتی ہے۔ دامن کو ٹک ہلا کہ دلوں کی بجھی ہے آگ۔ تاریخ سے مرتب شعور کا بادہ طرب انگیز کشید کیا جاتا ہے، ادب سوال کی ہیجان انگیز قلم لگاتا ہے۔


وجاہت مسعود

اللى بيفكر يفارق بس لوله المشاعر و اللى سامح حد غالى راضى ذل المشاعر

972897413-i-forgiveness-youyou-did-hurt-me-forgiveness-quote

 

 

 

 

Soul-Search 250

اِتنا سِتم نہ کر ….. کہ نہ ہو لذتِ سِتم
اِتنا کرم نہ کر کہ میری آنکھ  تر نہ ہو

Random Thoughts – 185

چیچو کی ملیاں ، مُسافِر کے لئے  شیخوپورہ کے نزدیک ایک  جگہ  یا  غیر مقامیوں کے لئے مضحکہ خیز  تشبیہہ سے زیادہ مسافت کا ایک  محبت بھرا  چوراہا ہے ، جہاں  اعتماد،  پیار،  بے ساختگی اور حوصلے کی کچی سڑکیں مِلتی ہیں۔

چیچو کی ملیاں کی صُبحیں ٹیکسٹ بُک مارنِنگز تھیں ، دِن   زندگی  کی تمانیّت سے لبریز تھے،  دوپہروں میں شہروں کا بوجھل پن نہ تھا،   بچوں کی شرارتوں  سی سہ پہریں ہشاش بشاش تھیں ، شامیں  دِل رُبا اور  رومانوی تھیں ۔ اور  چاندنی  راتوں کی  حسین  خُنکی، دِل آویزی اور  خوش رنگ نظاروں کے لئے تو کوئی لفظ ایجاد ہی نہیں ہوا۔

ہم نے دیکھی ہے وہ اُجلی ساعت

رات جب شعر کہا کرتی ہے

لفظ تو  اُن دہقانوں کے لئے بھی نہیں بنے  جِن کے دِل کے آر پار دیکھا جا سکتا تھا،  اور جِن کی ہتھیلیوں کی سخت اور کُھردری جِلد  میں  پانچ دریاؤں کی  مٹی کی مہک تھی۔ جِن کی صاف باتیں دِل میں اُترتی تھیں اور جِن کی آنکھوں میں  روشن مستقبل کی  تاریک ماحولیاتی تبدیلیوں  کو پڑھ سکنے کی صلاحیت اُس وقت بھی موجود تھی۔

ساٹھ فُٹ گہری نہر   زندگی کا سرمایہ لئے بہتی تھی،  تو ساتھ ساتھ  موت کے پروانے بھی جاری  کرتی ۔ تیراکی کے  لئے کوُدنے والے کئی  نوجوان نِگل چُکی تھی ۔ عُمر نوخیز ہو ،   موقع محل موجود ہو اور دستور مفقود ہو تو   لااُبالی اور کچے فیصلے  پکے نِشان چھوڑتے ہیں۔  جیسےراولپنڈی کی مری روڈ پر ون وِیلنگ کرنے والے لڑکے بالے آزادی چاہتے ہیں ، ویسی ہی آزادی ہر نوجوان نے چاہی ہے۔

آزاد ی کی قیمت بھی ہوا کرتی ہے۔

نہر میں کوُدتے وقت     ،  سونے چاندی  جیسے اپنے والدین کے پیارے نوجوانوں کے  تصور  میں بھی نہیں ہو گا کہ اُن کی  اِس  آزادی کی  قیمت  ادا کی جا چُکی ہے۔ اس قیمت کے بقدر  ہیرے  جواہرات  کے سے  ہزاروں اجسام تقسیم کی لکیر کے دونوں جانب سینکڑوں کنؤوں  میں مدفون ہیں۔

مُسافر نہر کو ترقی  کا استعارہ سمجھتا ہے ، اور کُنوئیں کو زندگی کا۔

  

Umair’s Tagline – 785

تُم ان لکیروں میں اِک خوشی بھی تلاش کر لو تو معجزہ ہے

کہ میں تو بچپن سے جانتا ہوں مِری ہتھیلی کا نام دُکھ ہے

Umair’s Tagline – 784

ہر حسرت پر ایک گرہ سی پڑ جاتی تھی سینے میں

رفتہ رفتہ سب نے مِل کر دل سی شکل بنا لی ہے

عبث ہیں وہ ریاضتیں جو یار نہ منا سکیں ، وہ ڈھول تھاپ بانسری وہ ہر دھمال مُسترد

4wlP2594

Masterpiece – 111

خال و خط سے عیب اس کے روئے اقدس کو نہیں

……. حُسن ہے مصحف میں ہونا نقطۂ اعراب کا

یہ اپنے خال و خط دیکھو ، جنہیں ہم نے خود اپنی شکلِ نادیدہ تصور کر کے صورت دی

http://www.dw.com/ur/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%D8%B3%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%AA%DB%92-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA/a-53783623


We have cardiac and thoracic and orthopedic and plastic and neuro-surgeons around…..

I’d say, Afshan Masab is a social surgeon.

کیف سے سرشار رہنا اور کہنا ‘الاحد’ ، زخمِ دل پر ہاتھ رکھ کر مُسکرانا عشق ہے

Everything, except God, has a beginning and an end. Your pain has a beginning. And it will have an end.


[Dr Yasmin Mogahed]

 

Governance 101

اُوپر سب کُچھ جل جائے گا ،  کوئی مدد کو آئے گا

جِس منزِل پر آگ لگی ہے ،  سب سے نیچے والی ہے

وہ سنگ ہے تو گِرے بھیِ دل پر ، وہ آئینہ ہے تو چُبھ ہی جائے ، کہیں تو میرا یقین بِکھرے ، کہیں تو میرا گُمان ٹوٹے

Trust-is-a-dicey-subject

Soul-Search 249

سوچا یہ تھا وقت مِلا تو ٹُوٹی چیزیں جوڑیں گے

اب کونے میں ڈھیر لگا ہے، باقی کمرہ خالی ہے

Soul-Search 248

دینے والے نے دیا  سب کُچھ عجب انداز سے

سامنے دنیا پڑی ہے …. اور اُٹھا سکتے نہیں

تِری آگ اس خاک داں سے نہیں ، جہاں تُجھ سے ہے تُو جہاں سے نہیں ، بڑھے جا یہ کوہِ گراں توڑ کر ، طلسمِ زمان و مکاں توڑ کر

EPb_m6iUYAA3zEx